Home ستاروں کےدرمیاں ایک عالم ،ایک دانشور مولانا منظور الحسن ندوی قاسمی عرف منظور مکھیا مرحوم – ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

ایک عالم ،ایک دانشور مولانا منظور الحسن ندوی قاسمی عرف منظور مکھیا مرحوم – ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

by قندیل

رام لکھن سنگھ یادو کالج، بتیا۔مغربی چمپارن
یوں تو ہر روز اللہ کے بے شمار بندے دنیا میں آتے ہیں اوربہت سے دنیا سے چلے بھی جاتے ہیں لیکن اللہ کے بہت کم ہی ایسے مقبول بندے ہوتے ہیں جو کم عمری میں بھی باعث ِ کشش ہوتے ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ اپنے علم و فہم اور دانش و بینش سے دنیا پر چھا جاتے ہیں ، اپنے حلم و وقار ،محبت و خلوص اور جذبہ خدمت ِ خلق سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں ، بڑے بڑے صاحبِ منصب اور اہلِ ثروت بھی انھیں سلام ِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ایسی ہی پرکشش ،صاحب ِ علم و کمال اور صاحب ِ جاہ و جلال شخصیات میں ایک نمایاں نام مولانا منظور الحسن ندوی قاسمی کا بھی ہے۔

میری ان سے پہلی ملاقات اور شاید آخری بھی اس وقت ہوئی جب میں نیا نیا مبارک پور مدرسے میں داخل ہوا تھا ، درجہ حفظ میں دسواں پارہ میرا چل رہا تھا۔غالبا بعد نماز عصر مسجد ہی میں بڑے بھائی صاحب (قاری سید منظر الحسن سابق استاذ مدرسہ محمودیہ مبارک پور)نے مکھیا جی سے ملوایا اور میرا ان سے تعارف کرایا ، انھوں نے تعلیمی درجے کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا ، جواب دیا گیا تو فوراً بولے دسواں پارہ پڑھو ، میں نے ایک آدھ آیت پڑھی اور اٹک گیا ، مکھیا جی سر ہلا کر بولے ہوں ہوں یعنی یاد نہیں ہے محنت کرو۔میں تو اس وقت بچہ تھا ، مجھے ان کی اہمیت و عظمت کا کیا علم لیکن جب ان کا انتقال ہوا توانسانوں کا سیلاب امنڈ پڑا اور پورا علاقہ مبارک پور میں سمٹ آیا، کیا ہندو کیا مسلمان، کیا عوام اور کیا خواص تو پھر مجھے لگا کہ یہ تو بہت بڑے آدمی تھے،کئی غیر مسلموں نے ان کے جنازے پرپھولوں کے بڑے بڑے ہار رکھ کر خراج عقیدت پیش کیا ، ان کی اسی عظمت کا اس معصوم ذہن پر یہ اثر ہوا کہ ان ہاروں کے کچھ ٹوٹے پھول اور پنکھڑیوں کو میں نے اپنی جیب میں رکھ لیا جو مہینوں میرے پاس ماچس کی ایک ڈبیہ میں محفوظ رہے اور روزانہ اسے میں کھول کر دیکھتا اور مکھیا جی کو یاد کرتاپھر اسے حفاظت سے رکھ دیتا ۔ آج تقریبا تیس برسوں بعد اپنی ان حرکتوں کو یاد کرتا ہوں تو خود اپنے اوپر ہنسی آتی ہے۔

لمبے چوڑے ڈیل ڈول والے،بلند چہرا،لمبے لمبے کان،کشادہ پیشانی اور پیشانی کی سلوٹوں سے چھلکتی دانشوری،اونچی ناک،سبک دہانہ،چمکتی آنکھیں اور چہرے پر خشخشی ڈاڑھی،ایک کار حادثے میں داہنے ہاتھ سے محروم ہوجانے کے باوجود شخصیت کے رعب داب میں کوئی کمی نہیں۔یہ تھے مولانا منظور الحسن ندوی قاسمی عرف منظور مکھیا مرحوم۔

مکھیا جی کی تعلیم کا ابتدائی مرحلہ مولانا نسیم الدین قاسمی کی نگرانی میں اپنی بستی مبارک پور کے مدرسہ اسلامیہ محمودیہ میں طے ہوا ،اس کے بعداعلی تعلیم کی غرض سے مولانا محمد یونس قاسمی ندوی مبارک پوری (بعد میں مکھیا جی کے بہنوئی بھی ہوئے)کے ہمراہ نو سال کی عمر میں دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ گئے اور غالبا 1955میں وہاں سے عالمیت کی سند لے کر دار العلوم دیوبند کا رخ کیا اور 1375ھ-1956 ء میں وہاں سے فضیلت کی اعلیٰ ڈگری سے سرفراز ہوئے ۔دار العلوم دیوبند کے ریکارڈ کے مطابق شوال 1374ھ میں مولانا منظور الحسن کا داخلہ ہوا اور فراغت شعبان 1375 ھ میں ہوئی ، وہ مبارک پور سے پڑھ کر آئے تھے اور اس وقت ان کی عمر 19 سال تھی۔(محافظ خانہ دار العلوم دیوبند)لیکن بقول مکھیا جی کے بڑے صاحبزادے خورشید انور عرف نجمی صاحب نے کہا کہ پہلے انھوں نے دارا لعلوم ندوۃ العلماء میں داخل ہوکر وہاں سے کم عمری ہی میں عالمیت کی سند حاصل کی پھرفضیلت (دورہ حدیث) کی سند کے لیے دارا لعلوم دیوبند تشریف لے گئے۔یہ زمانہ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی صدارت کا زمانہ ہے ، ساتھ ہی وہ شیخ الحدیث بھی تھے۔ملک کی آزادی کے لیے کفن بردوش انگریزوں کے خلاف لڑ بھی رہے تھے۔ مولانا سلطان الحق ؒ(سابق ناظم کتب خانہ دارالعلوم دیوبند)کی بڑی شفقت انھیں حاصل رہی ۔دیوبند میں مولانا عبد القدیراصلاحی مبارک پوری ان کے ہمدرس تھے۔مولانا سید ابو الہاشم مخدوم چکی ؒ ، مولانا علاء الدین ندوی قاسمی ؒاور مولانا عبد المجید قاسمی مبارک پوریؒ مکھیا جی سے ایک سال سینئر تھے اور مولانا شاہد روح اللہ ؒ اور مولانا ابو اختر قاسمی وغیرہ ایک سال جونیئر تھے ۔ اُس زمانے میں سمری بختیار پور ضلع مونگیر کا حصہ ہوا کرتا تھااور یہ سب کے سب مونگیری تھے۔

1955میں مکھیا جی کی پہلی شادی اور 1986 میں دوسری شادی ہوئی ، پہلے گھر سے ان کے تین صاحبزادے ہیں :خورشید انور نجمی، مسعود اختر جاوید اور محمد فاروق عرف گڈو اور دوسرے محل سےدو اولاد :محمد حارث اور ایک صاحبزادی ہیں۔

اپنی رسمی تعلیم سے فراغت کے بعد 1960 میں پٹنہ کے سبزی باغ میں ایک تجارتی کتب خانہ "کتاب منزل” قائم کیا لیکن زیادہ دنوں اس لائن کی نزاکتوں کو وہ برداشت نہ کرسکے۔ پٹنہ میں جب تک وہ رہے بڑے سرگرم رہے، ادبی مجلسوں اور شعری نشستوں مین پابندی سے شریک ہوتے رہے یہی وجہ ہے کہ معروف نقاد کلیم الدین احمد،بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر کلیم احمد عاجز،استاد شاعر علامہ جمیل مظہری جیسے مشاہیر ادب کے ساتھ غلام سرور مرحوم شرر مونگیری اور رمز عظیم آبادی وغیرہ سے گہرے مراسم رہے۔ 1964سے 1969تک علاقے کے معروف اقلیتی تعلیمی ادارہ اسلامیہ ہائی اسکول سمری بختیار پور میں تدریسی خدمت انجام دی اور تقریبا 25 سال مدرسہ اسلامیہ محمودیہ مبارک پور کے ناظم تعلیمات بھی رہے۔

مولانا منظور الحسن ندوی بڑے متحمل مزاج ، چیزوں کو گہرائی سے دیکھنے والے اور سیاسی شعور کے حامل انسان تھے ، ان کے بڑے بھائی علی عباس صاحب کو محسوس ہوا کہ وہ اس لائن سے ملک و قوم کی بہتر خدمت انجام دے سکتے ہیں اس لیے انھوں نے الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا۔چناں چہ ان ہی کے مشورے سے منظور صاحب نے مکھیاالیکشن میں قسمت آزمائی کا فیصلہ لیا اور پوری قوت سے اس میدان میں اترے ، جد و جہد کی ، عوام کو اعتماد میں لیا اور انھیں جیت حاصل ہوئی اور پورے چوبیس سال(1969-1993) وہ اس منصب پر بنے رہے اورنہ صرف مبارک پور پنچایت بلکہ پورے علاقہ سمری بختیار پور کی عوام بطور خاص مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی رہنمائی کرتے رہے ۔ وہ سلکھوا بلاک کے پہلے پرمکھ ہوئے اور دس سال اس عہدے پر فائز رہے۔عوام و خواص میں ان کا ایک وزن اور وقار تھا ، وہ ایک انتہائی نڈر اور بولڈ قسم کے رہنما تھے ، حق گوئی و بے باکی ان کی شناخت تھی۔
ان کی سیاسی سرگرمیاں اس وقت مزید تیز ہوگئیں جب 1974 میں انھیں ضلع کانگریس کمیٹی کا جنرل سکریٹری بنایا گیااور تقریبا دس سال وہ اس منصب پر فائز رہے بلکہ ترقی کرکے ضلع کے نائب صدر بھی ہوگئے تھے اب وہ صدارت کے لیے منتخب ہونے والے تھےکہ ان کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ۔انھوں نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا تعمیری استعمال کیا اور جلد ہی اپنے مثبت حرکت و عمل سے پارٹی میں اپنی پکڑ بنالی ، اب انھیں ضلع سے مرکز تک رسائی حاصل ہوگئی تھی ، اندرا گاندھی سے بھی ان کا تعارف ہوگیا تھا۔ 1978 میں اندرا گاندھی مدھے پورہ آئی ہوئی تھی ، ان کے خلاف نعرے بازی کے ساتھ پتھربازی بھی شروع ہوگئی ایسے نازک وقت میں مکھیا جی نے مارشل ایوب کے تعاون سے اپنی جان کوکھم میں ڈال کر اندرا گاندھی کو بچایا اور انھیں سہرسہ لے آئے ، ان کی اس بہادری سے اندرا بہت متاثر ہوئیں اور ان سے مکھیا جی کے تعلقات مزید خوشگوار اور مستحکم ہوگئے۔یہی وجہ ہے کہ 1980 کے اسمبلی انتخاب میں سوپول حلقہ سے ایم ایل اے امید واری کے لیے مکھیا جی کو نامزد کیا تھا مگر صوبائی نیتاؤں کی گندی سیاست کی وجہ سے ان کی امیدواری واپس لے لی گئی ۔

5 جون 1984کو مکھیا جی ایک ایسے دردناک حادثے کا شکار ہوئے کہ ان کی زندگی ایک طرح سے تھم سی گئی ، ہوا یوں کہ وہ بذریعہ کار کہیں جارہے تھے کہ بلیا اور بیگوسرائے کے بیچ کار اکسیڈنٹ میں ان کا داہنا ہاتھ بری طرح زخمی ہوگیا بالآخر اسے کاٹنا پڑا اور یوں مکھیا جی ہمیشہ کے لیے ایک ہاتھ سے معذور ہوگئے جس سے ان کا ذہن و دماغ بھی بہت متاثر ہوا ، ان کی زندگی کی حرکت سکون میں تبدیل ہوگئی اور ان کے بہت سے خواب چکنا چور ہوگئے۔

اپنی مادری زبان اردو سے انھیں عشق کی حد تک لگاؤ تھا ،وہ نہ صرف اچھا بولنے اور لکھنے بر قادر تھے بلکہ ایک قادر الکلام شاعر بھی تھے ، اپنے لکھنؤ کے زمانہ طالب علمی میں مجاز لکھنوی سے اصلاح لیا کرتے تھے۔مکھیا جی نے بہت سی نظمیں اور غزلیں کہیں لیکن افسوس کہ ان کی حفاظت کا سامان نہ کرسکے اور آج ان کا کوئی کلام دستیاب نہیں ہے۔شاعری میں ان کے اکلوتے شاگرد جناب صابر حسین صابر مبارک پوری (صدر مدرسہ اسلامیہ محمودیہ مبارک پور)ہیں۔مکھیا جی کی مستقل کوئی کتاب تو نہیں ہے ، ہاں مختلف اخبارات و رسائل میں مختلف مواقع پر ان کے کئی مضامین ضرور شائع ہوئے ہیں ۔ میرے سامنے ان کا ایک وقیع مضمون ہے جو مولانا منت اللہ رحمانی ؒ کی وفات پر انھوں نے قلم بند کیا تھا ، وہ مضمون کیا ہے ؛ ان کے علمی و ادبی مزاج و مذاق کا ایک شاہکار ہے، اسی ایک مضمون سے ان کی نثری اور شعری صلاحیتوں کو پرکھا جاسکتا ہے۔بطور نمونہ ایک اقتباس پیش ہے:

ْ”یوں تو دیدہ وروں سے چمن خالی نہیں ہوتا اور نہ نرگس بے نور ہوتی ہے لیکن آج سے تیس سال قبل جب مشتر کہ قیادت سے اس خلاء کو پر کرنے کی بات چلائی گئی تھی اور سچائی کے ساتھ اس کا تجربہ بھی کیا گیا تھا اور اس وقت کچھ بھاری بھر کم شخصیتیں بھی تھیں ، اس مشترکہ قیادت کے تصور اور خا کہ میں حضرت امیر(مولانامنت اللہ رحمانی ) نے جان ڈالی۔ اور عوام کو نہیں بلکہ قیادت کو ایک شعور عطا کیا۔فکر کو نئے خطوط اور عمل کو نئے عزائم سے روشناس کرایا۔ ایک معتدل متوازن، غیر جذباتی اور جمہوری حدود و اختیارات میں آزادی فکر، جرات بیان و قلم اور سلطان جابر کے رو بر وکلمۂ حق کی خاطر مومنانہ جسارت کا جو نمونہ پیش فرمایا وہ اسلاف کی بقیۃ السلف کا نادر نمونہ ہے۔ بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی ہے صحراء میں اذان دینے کی تجد ید سنت ہے۔ اس قندیل نے کتنی شمعوں کو نور و جرات بخشی جنھوں نے ملک کے تقریبا تمام حصوں اور خطوں کی راتوں اور راہوں کومنور کیا ۔ قیادت خواہ کسی مقصد اور فکر کی ہو اس کی کامیابی اور اس کے پھیلاؤ کی شرط اول ہے افراد کا انتخاب۔ اس کی تربیت اور اس کی خفیہ صلاحیتوں کو رو بکار لانا۔ کون نہیں جانتا ہے کہ اس معاملہ میں ہندوستان میں حضرت کی وہ ذات تھی جن کی جو ہر شناس نگاہوں نے کتنے ہی خذف ریزوں کو اٹھا کر تراش خراش کے بعد اسے درنایاب بنا دیا

چشم مہ و پروین ہے اسی خاک سے روشن

وہ خاک کہ ہے جس کا خذف ریزہ در نایاب

حضرت امیر نے جن اداروں اور تحریک کی زمام سنبھالی اس کے تقاضوں اور اس کے مزاج و معیار کے مطابق افراد کی تربیت کی اور کارگاہ حیات میں انہیں شیشہ گری اور ضرب کلیمی کے فن ضرب و حسن سے آراستہ کر کے اتارا۔ اور ماشاء اللہ آج مطلع علم و عمل پر کتنے ہی آفتاب و ماہتاب اپنی تابانیوں سے ایک دنیا کو روشن کیے ہوئے ہیں۔” (حضرت امیر شریعت : نقوش و تاثرات،مرتب : مولانا مفتی عطاء الرحمن قاسمی، دار الاشاعت ، خانقاہ رحمانی مونگیر(2004)

اردو شعر و ادب ہی سے ان کا رشتہ مضبوط نہیں تھا بلکہ وہ اردو کی خوشبو سے پورے سماج کو معطر کرنا چاہتے تھےیہی وجہ ہے کہ وہ انجمن ترقی اردو سہرسہ یونٹ کے پانچ سالوں(1964-1969)تک صدر رہے اور اپنی زیر صدارت کئی اہم پروگرام بھی منعقد کرائے۔منوہر ہائی اسکول سہرسہ میں ایک عظیم الشان مشاعرہ کرایا اور ملک کے معروف شعراء کو مدعو کیا جن میں خمار بارہ بنکوی کا نام اہم ہے۔وہ برسوں آل انڈیا اردو رائٹر فورم کے رکن بھی رہے۔

تقریبا ساٹھ سال کی عمر میں 8 دسمبر 1993کی ایک صبح کو ان کا وقت موعود آن پہنچا اور وہ مسافرانِ آخرت میں شامل ہوگئے۔اللہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے۔

مکھیا جی بڑے ذہین اور حاضر جواب تھے ، ان کی ذہانت کا جواب نہیں تھا،وہ بڑے بذلہ سنج بھی تھے،ان میں خودداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ان کی سخاوت و فیاضی اور مہمان نوازی علاقے بھر میں مشہور تھی،ان کے اندر یہ صفت اپنے والد مرحوم زبیر تحصیلدار سے ورثے میں ملی تھی،ان کی کشادہ دستی کا اعتراف دوست تو دوست دشمن کو بھی تھا۔انھوں نے اپنے علاقے کے ہر طبقے کو جوڑے رکھا ، ہندو مسلم ہر کوئی ان کا اور ان کی رائے کا دل سے احترام کرتا تھا ، کسی بھی ناگہانی حادثات کے پیش آجانے کے وقت وہ عوام کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ۔ آج جب کہ حالات مزید ناگفتہ بہ ہیں ، اہل علاقہ کو ان کی کمی کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔

You may also like

Leave a Comment