مان سون سیشن:ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 30 فیصد کٹوتی کے ساتھ دوسال کے لیے ایم پی فنڈ پر بھی روک،لوک سبھا میں منظورہوابل

نئی دہلی:منگل کو ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں کٹوتی سے متعلق بل کو لوک سبھا نے منظور کیا۔ ممبران پارلیمنٹ پے الاؤنس اور پنشن (ترمیمی) بل، 2020 کی حمایت بیشتر ممبران پارلیمنٹ نے کی۔ تمام ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوںمیں ایک سال کے لئے 30 فیصد کمی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایم پی فنڈ کو بھی 2 سال کے لئے ملتوی کردیا گیا ہے۔ حکومت نے کووڈ 19 وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے یہ فیصلہ کیا ہے۔لوک سبھا میں بل پر بحث کے دوران بیشتر اراکین پارلیمنٹ نے حکومت کے اس فیصلے کی حمایت کی، لیکن ساتھ ہی وہ مطالبہ کررہے تھے کہ حکومت ایم پی فنڈ کو معطل نہ کرے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ کلیان بینرجی نے کہا کہ حکومت ہماری پوری تنخواہ لے، کوئی بھی رکن پارلیمنٹ اس کی مخالفت نہیں کرے گی۔ لیکن ایم پی فنڈ کو پورا کیا جانا چاہئے۔ تاکہ ہم لوگوں کے مفاد کے لئے کام کرسکیں۔ اسی دوران، عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی بھگونت مان نے کہا کہ حکومت کو ہماری تنخواہوں میں سے 60 فیصد کمی کرنی چاہئے، ہمیں کوئی پریشانی نہیں، لیکن ایم پی فنڈ کو روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہمارے خطے کے عوام نے جو پیسہ ٹیکس کے طورپر پر دیا ہے، انہیں وہ رقم واپس ملنی چاہئے۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں 790 ممبران پارلیمنٹ (لوک سبھا کے 545 اور راجیہ سبھا کے 245) کا سسٹم موجود ہے۔ اس وقت لوک سبھا میں 542 اور راجیہ سبھا میں 238 ممبر ہیں۔ اس طرح سے پارلیمنٹ میں 780 ممبران پارلیمنٹ ہیں اور اب ہر ممبر پارلیمنٹ کی تنخواہ سے 30 ہزار روپے کٹوتی کی جائے گی، اس طرح سے ہر ماہ 2 کروڑ 34 لاکھ کی بچت ہوگی۔ اس کے علاوہ ہر ممبر پارلیمنٹ کو اپنے ایم پی فنڈ کے تحت ہر سال 5 کروڑ روپے ملتے ہیں جو اب 2 سال کے لئے ملتوی کردیئے گئے ہیں۔