عورت و مرد کے بعض حقوق کے مختلف ہونے کی وجہ ـ مفتی محمد خالد حسین قاسمی نیموی

اسلام نے خواتین کے لیے ترقی و کامیابی کے بلند سے بلند درجے تک پہونچنا جس طرح ممکن بنایا اور انھیں جیسے وسیع تمدنی و معاشی حقوق دیے ہیں، عزت و شرف کے جو بلند مراتب عطا کیے ہیں اوران حقوق و مراتب کی حفاظت کے لیے اپنی اخلاقی اور قانونی ہدایات میں جیسی پائدار ضمانتیں مہیا کی ہیں، ان کی نظیر دنیا کی کسی بھی قدیم و جدید نظام معاشرت میں نہیں ملتی۔
البتہ اسلام کی نظر میں مرد، مرد ہے اور عورت، عورت، زندگی کا نظام چلانے میں دونوں برابر کے شریک ہیں، مرد اور عورت ایک دوسرے سے مل کر نظام انسانی کی تکمیل کرتے ہیں۔ دونوں صنفیں ایک دوسرے کا تکملہ و تتمہّ (Complements) ہیں، ایک دوسرے کا مثنیٰ (Duplicates) یعنی نقل نہیں، دونوں میں ناقابل عبور قسم کے حیاتیاتی فرق پائے جاتے ہیں۔ ان امور کی رعایت کرتے ہوئے دونوں صنفوں میں جس حدتک مساوات قائم کی جاسکتی تھی، وہ اسلام نے قائم کردی؛ لیکن وہ اس مساوات کا قائل نہیں، جو قانون فطرت کے خلاف ہو اور خدا تعالیٰ کے تقاضۂ عدل کے معارض ہو، یا اس کی وجہ سے اس صنف نازک، جس کی نزاکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ کے رسولؐ نے اس کو ’’قواریر‘‘ یعنی آبگینہ اور شیشہ قرار دیکر اس کے ساتھ رفق اور نرمی کا حکم دیا۔ لہذا جہاں جہاں حقوق کی بنیاد اور اختیارات کے منشاء میں یکسانیت ہوتی ہے، وہاں شریعت اسلامیہ،حقوق کے حوالے سے مرد اور عورت کے درمیان مکمل مساوات قائم کرتی ہے۔ اور جہاں جہاںمنشاء حقوق مختلف ہوتے ہیں وہاں دونوں کے حقوق و اختیارات بھی مختلف ہوجاتے ہیں، یہی اللہ تعالیٰ کے عدل کا تقاضا ہے اور اسی میں دونوں کے ساتھ انصاف بھی ہے۔
مثلاً شریعت اسلامیہ، واجبات ایمان لوازم عقائد اور عبادات: نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ وغیرہ کی فرضیت اور اس کی ادائیگی پر مرتب ہونے والے ثواب میں مرد و عورت کے درمیان مکمل مساوات قائم کرتی ہے؛ اس لیے کہ عقائد و اعمال کے مکلف ہونے کی بنیاد عاقل و بالغ ہونے پر ہے۔ اور یہ صفت مرد اور عورت دونوں میں مشترک ہے۔ اسی طرح جان ومال میں تصرف اور نکاح کا اختیار اور اشیاء کی ملکیت، دوسروں کو مالک بنانے اور دیگر مالی لین دین کا حق بھی اسے مردوں کی طرح حاصل ہے۔ اس لیے کہ اس کی بنیاد شخصی آزادی پر ہے اور شخصی آزادی میں مرد و عورت دونوں برابر ہیں۔

تعدد ازدواج کا حق:
لیکن تعدد ازدواج، یعنی ایک سے زیادہ شادی کرنے اور ایک وقت میں ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کاحق شریعت اسلامیہ چند شرطوں کے ساتھ صرف مردوں کو دیتی ہے، عورت کو نہیں، اس لیے اگر یہ حق عورتوں کو بھی دے دیا جاتا تو اس صورت میں سماج میں بدترین خرابیاں پیدا ہوتیں۔ پیدا ہونے والے بچوں کا نسب خلط ملط ہوجاتا۔ ناجائز اولاد کی کثرت ہوجاتی۔ جب کہ مرد کو یہ حق دینے میں مذکورہ خرابیاں لازم نہیں آتیں۔
پھر یہ کہ تعدد ازدواج کا حق مرد کو یوں ہی تفریحاً نہیں دیا گیا۔ بلکہ یہ حق ضرورت کی بنیاد پر ہے۔ کیوں کہ ہر شخص برابر نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے بنسبت زیادہ قوی الشہوہ ہوتا ہے لہذا بعض اوقات مرد کے لیے ایک سے زیادہ عورت کی طلب ایک فطری تقاضا ہوتا ہے۔ اگر اس تقاضے کو مہذب اور قانونی طور پر پورا نہیں کیا جائے تو اس صورت میں مرد چور دروازے سے گناہ میں مبتلا ہوکر بے راہ روی کا شکار ہوجائے گا اور معاشرے میں بدکاریاں عام ہوتی چلی جائیں گی۔ (جیسا کہ آج کل عملی طور پر مغربی ممالک کے اخلاق باختہ معاشرے میں ہورہا ہے) اس کے علاوہ ایک سبب یہ بھی ہے کہ دنیا میں ہمیشہ مردوں کی تعداد عورتوں کی تعداد سے کم رہی ہے۔ اس لیے کہ جنگوں اور حادثوں میں عام طور پر مردوں کی جان کا اتلاف زیادہ ہوتا ہے۔ اور ایک حدیثع میں بھی اس کی پیشین گوئی کی گئی ہے (بخاری ۲؍۷۸۷) اگر مرد کو ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے تو بہت سی عورتیں غیرشادی شدہ رہ جائیں گی۔
اسی طرح ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ بسا اوقات پہلی بیوی خطرناک مہلک بیماری میں مبتلا ہوجاتی ہے اور شوہر کے لیے اس سے صحبت کرنا ممکن نہیں رہتا۔ یا اگر بیوی بانجھ ہو اور شوہر خاندان کی بقاء کے لیے اولاد کی شدید خواہش رکھتا ہو، تو ایسی صورت میں دوسری عورت سے شادی کرنا ایک واقعی ضرورت بن جاتی ہے اور اس ضرورت کی تکمیل ہی میں انسانیت اور معاشرے کی بھلائی ہے۔ اسلام نے اس فطری اور واقعی ضرورت کی تکمیل کی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کے لیے مرد پر سخت شرطیں بھی عائد کردیں کہ وہ تمام بیویوں کے ساتھ یکساں برتائو کرے اور شوہر پر لازم قرار دیا کہ وہ دونوں بیویوں کے تمام واجب حقوق ادا کرے۔ اور ان کے درمیان خوراک و پوشاک اور شب گذاری میں برابری کرے، ورنہ پھر وہ ایک بیوی پر اکتفا کرے۔ جس کی طرف قرآن کریم نے ’’فواحدۃ‘‘ سے اشارہ کیا ہے۔ فان خفتم ان لاتعدلوا فواحدۃ (النساء۳) تو اگر تمہیں خوف ہو کہ تم بیویوں کے درمیان عدل نہیں کر پاؤ گے تو صرف ایک پر اکتفا کرو۔

بچوں کی پرورش کا حق:
کبھی مرد و عورت کے احکام اس لیے مختلف ہوتے ہیں کہ عورتیں اس ذمہ داری کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے انجام دے سکتی ہیں۔ مثلاً: حضانت یعنی بچوں کی پرورش و پرداخت کا حق اسلام نے صرف عورتوں کو دیا ہے۔ مردوں کو نہیں؛ اس لیے کہ بچوں کی پرورش کے لیے جو صلاحیتیں درکار ہیں؛ وہ عورتوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ جب کہ مردوں میں ناقص ہوتی ہیں۔ وہ صحیح طور پر بچوں کی پرورش نہیں کرسکتا ہے۔

تنہا سفر کرنے کا حق:
بعض اوقات مرد اور عورت کے احکام میں اس وجہ سے فرق ہوتا ہے کہ اگر دونوں میں مساوات کردی جائے تو مفاسد پیدا ہوسکتے ہیں اور عورت کی بے عزتی و بے حرمتی یا دوسرے نقصانات کا خطرہ ہوتا ہے۔ جیسے کہ عورت کے لیے تنہا بغیر محرم کے حج کرنے یا اڑتالیس میل سے زیادہ کا سفر کرنے، (ترمذی ۱؍۲۲۰) غیر محرموں کے ساتھ آزادانہ میل و جول رکھنے اور مخلوط مجالس و محافل میں شرکت کی ازروئے شریعت اجازت نہیں ہے۔ اس لیے کہ مذکورہ صورتوں میں اگرچہ بعض فوائد بھی محتمل ہیں؛ لیکن نقصان کا خطرہ زیادہ ہے۔ اور شرعی قاعدہ ہے: ’’دفع المضرّۃ اولیٰ من جلب المنفعۃ‘‘ یعنی مضرت کی چیزوں کو دور کرنا منفعت کو حاصل کرنے سے بہتر ہے۔

طلاق کا حق:
طلاق دینے کا حق صرف مردوں کو دیا گیا ہے، عورتوں کو نہیں دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طلاق کے نتیجے میں سراسر مادی ومالی نقصان مرد ہی کا ہوتا ہے کہ اسے مہر کی صورت میں ایک خطیر رقم کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے، عدت خرچ دینا پڑتا ہے، اگر اس عورت کے زیر پرورش بچے بھی ہوں؛ تو اگر لڑکا ہو تو سات سال کی عمر تک اور اگر لڑکی ہو تو بالغہ ہونے تک، پرورش و پرداخت کا حق تو ماں کا ہوتا ہے؛ البتہ بچہ اور اس کی ماں کے تمام تر اخراجات بھی باپ کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ (ردالمحتار باب الحضانہ) جب کہ عورت کے لیے مالی مدد کی متعدد شکلیں نکل آتی ہیں۔ لہذا اگر عورت کو طلاق کا حق دیا جاتا تو بہت سارے فتنے پیدا ہونے کا امکان تھا۔ اس لیے کہ وہ بسااوقات اپنی مالی منفعت اور مادّی فائدے کے حصول کی خاطر ایک شوہر کو طلاق دے کر دوسرے مرد سے شادی کرلیتی اور پھر اس سے مادی اغراض حاصل کرکے اسے بھی طلاق دے دیتی۔ اس طرح وہ طلاق دینے کو ایک طرح کی تجارت اور پیشہ بناسکتی تھی۔ ظاہر ہے کہ اس سے معاشرتی نظام ٹوٹ پھوٹ کر رہ جاتا اور اس کے تاروپود منتشر ہو جاتے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ عورت کو مجبور محض بنادیا گیا ہے۔ بلکہ اگر واقعتا شوہر سے اسے جائز شکایت ہو اور وہ اس سے جدا ئی کی خواہاں ہو تو اس کے لیے اسلام نے اسے خلع کرنے اور نکاح فسخ کرانے کا اختیار دیا ہے۔ یہ بھی قابل لحاظ ہے کہ مرد کو جو طلاق کا اختیار دیاگیا ہے، وہ بھی علی الاطلاق نہیں؛ بلکہ مختلف مراحل سے گذرنے کے بعد آخری چارۂ کارکے طور پر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر بیوی کی کسی غلطی کی وجہ سے زوجین کے درمیان کچھ تنائو پیدا ہوجائے تو قرآن کریم نے اس کا حل یہ بتایا ہے کہ بیوی کو سب سے پہلے سمجھایاجائے، پندوموعظت سے کام لیا جائے، اگر بیوی اس کے باوجود نافرمانی پر کمربستہ ہو تو چند دنوں بستر الگ کرلیاجائے، تاکہ اسے اپنی کوتاہی کا احساس ہو، اگر اس سے بھی کام نہ چلے اور عورت میں اصلاح کے آثار نمایاں نہ ہوں تو معمولی سرزنش کی بھی اجازت دی گئی ہے، اگر مذکورہ تمام مراحل سے گذرنے کے باوجود تعلقات میں سدھار نہ آئے تو سماج کے سمجھ دار لوگوں کا فریضہ ہے کہ وہ بیچ میں پڑ کر صلح کرانے کی کوشش کریں، اگر مذکورہ تمام کوششوں کے باوصف باہمی اختلاف دور نہ ہوسکے اورنباہ کے آثار نظر نہ آئیں تو اس آخری مرحلہ میں اسلام نے مرد کو طلاق کی اجازت دی ہے، معلوم ہوا کہ طلاق ایک ناخوش گوار ضرورت ہے اسی لیے طلاق کو ’’ابغض الحلال‘‘ یعنی جائز چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ قراردیا گیا۔

ترکہ میں عورت کا حق:
وراثت کے حوالے سے یہ امر قابل ذکر ہے کہ دنیا کے کسی بھی مذہب، قوم اور ملک نے عورت کو ترکہ کا مستحق نہیں قرار دیا ہے۔ عورتوں کی وراثت کے حوالے سے عربوں کی حالت کچھ زیادہ ہی ابتر تھی۔ ان کے ہاں ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کا اصول کارفرما تھا کمزوروں، بچوں، بوڑھوں، عورتوں، غریبوں اور یتیموں کو قریب نہیں پھٹکنے دیاجاتا، ان کا کہنا تھا ’’کیف نعطی المال من لا یرکب فرسا ولا یحمل سیفا ولا یقاتل عدوا‘‘ (المواریث، ص:۱۲) یعنی میراث کے مستحق وہ لوگ کیسے ہوسکتے ہیں جو نہ گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں؛ نہ تلوار اٹھاتے ہیں اور نہ ہی دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اسلام نے اس ظالمانہ قانون کا خاتمہ کیا اور اس نے بالکل مرد ہی کی طرح عورت کو بھی ترکہ کا مستحق قراردیا ہے؛ بلکہ مردوں کے بالمقابل عورتوں کو ایک گونہ فوقیت حاصل ہے کہ عورت عام طور پر وراثت سے محروم نہیں ہوتی ہے، تاہم اسلام نے بعض ضروری مصالح کی بناء پر مرد اور عورت کو ملنے والے حصے میں فرق کیا ہے۔ کہ عورت کو زیادہ تر صورتوں میں مرد سے آدھا حصہ ملتا ہے اور مرد کو عورت کے مقابلے میں دوگنا حصہ ملتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’للذکر مثل حظّ الأنثیین‘‘ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی قانون کی رو سے عورت پر کوئی خرچ، یہاں تک کہ اپنا خرچ بھی لازم نہیں ہے؛ بلکہ شادی سے پہلے اس کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے اولیاء پر اور شادی کے بعد اس کے شوہر کے ذمہ ہوتی ہے۔ لہذا اسے جتنا کچھ بھی مل رہا ہے، وہ محض اس کی دل جوئی اور عزت افزائی کے لیے ہے۔ اس کے برعکس مردوں پر کئی گنا زیادہ مالی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، وہ نہ صرف یہ کہ اپنے معاش کے سلسلے میں خود کفیل ہوتا ہے؛ بلکہ رشتہ داروں، بال بچوں کے طعام، کپڑے، ادویات تعلیم وغیرہ کا خرچ اور دیگر لازمی اخراجات کا بار بھی اسی پر ہوتا ہے۔ بیوی کے مہر کی ادائیگی پر بھی ایک خطیر رقم صرف کرنی پڑتی ہے۔ اپنی لڑکیوں کی شادی کرنا بھی اسی کے فرائض میں شامل ہے۔ تو ہرچند کہ مرد کو ترکہ میں سے دوگنا حصہ ملتا ہے؛ لیکن اس لازمی اخراجات کے سامنے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اور عورت کو اگرچہ مرد کے حصہ کا نصف ملتا ہے؛ لیکن چوں کہ واجبی اخراجات کے لیے اس کے پاس کوئی مصرف نہیں ہے۔ اس لیے وہ نصف بھی اس کے لیے بہت زیادہ ہے۔ اس مصلحت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الرِّجال قوّامونَ علی النساء بما فضّلَ اللّٰہ بعضَہم علی بعض وبما انفقوا من اموالہم (النساء،۳۴) مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد (عورتوں کی حاجت پر) اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اسلام کے نظام وراثت میں عورت اور مرد کے مابین جو فرق ہے؛ وہ اللہ تعالیٰ کے عدل کے عین مطابق ہے۔

عورت کے لیے پردہ کا حکم کیوں؟
اسلام ایک ایسے عفت مآب پاکیزہ معاشرے کی تعمیر کرنا چاہتا ہے، جس میں عورت کی عفت و عصمت محفوظ ہو، اس کی پاک دامنی اور دوشیزگی کو سلامتی حاصل ہو، اس کی معصومیت پر کوئی غلط نگاہ نہ ڈالے، اس کی فطری خوبصورتی کو کوئی شہوت پرست، بیہودگی کے ساتھ نہ گھورے اور اسے ہوسناک نگاہوں کا شکار نہ بنائے۔ اسلام ایک ایسی سوسائٹی دیکھنا چاہتا ہے، جس میں پاکیزہ خیالی اور نیک نیتی کا چلن ہو، صنفی انتشار، لامرکزی ہیجانات اور فحاشی و آوارگی کا رجحان نہ ہو۔ جس کا اصل مقصد یہ ہے کہ معاشرے میں کبھی زنا کاری اور بدکاری کے واقعات قطعاً پیش نہ آئیں؛ اس لیے کہ فواحش و زناکاری ایسی مہلک بیماری ہے؛ جس کے خطرناک اثرات صرف اشخاص و افراد ہی تک محدود نہیں رہتے؛ بلکہ پورے پورے خاندان اور قبیلہ کو اور بعض اوقات بڑی بڑی آبادی کو تباہ کردیتے ہیں۔
تو جس طرح دیگر معاملات میں اسلام کا یہ اصول ہے کہ اس نے جن چیزوں کو بھی انسانیت کے لیے مضر اور نقصان دہ قراردے کر قابل سزا جرم قرار دیا تو صرف اسی پر نہیں؛ بلکہ ان کے مقدمات پر بھی پابندی عائد کردی۔ اسی طرح شریعت نے زنااور بدکاری کے انسداد کلی اور اس کے مکمل روک تھام کے لیے اس کے مبادیات پر بھی پابندی عائد کردی۔ اور اس مقصد کے لیے مرد و عورت میں سے ہر ایک کو چند لازمی ہدایات دی گئیں:
مردوں کو غض بصر یعنی نگاہیں نیچی رکھنے اور پاکیزہ خیالی کا حکم دیاگیا اور بدنظری کو آنکھ کا زنا قراردیا گیا؛ قال رسول اللّٰہ ﷺ: زنا العینین النظر۔(ابودائود:۱؍۲۲۹)
اسی طرح عورتوں کو بھی نظریں بچانے، خیالات پاکیزہ رکھنے اور اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کرنے کا حکم دیاگیا۔ قل للمومنین یغضوا من أبصارہم و یحفظوا فروجہم ذلک ازکی لہم ان اللّٰہ خبیربما یصنعون وقل للمؤمنات یغضضن من ابصارہن و یحفظن فروجہن (النور:۳۱)اے نبی! مومن مردوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کا طریقہ ہے۔ یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ اور مومن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کریں۔
مرد و عورت کے بے محابا اختلاط اور میل جول کو ممنوع قرار دے کر عورتوں کو بنیادی طور پر گھر کی چہاردیواری میں رہنے کی ہدایت کی گئی۔ اور زمانۂ جاہلیت کی طرح حسن و جمال کی آرائش اور زیب و زینت کے اظہار کو ممنوع قراردیا گیا۔ وقَرنَ فی بُیوتِکُنَّ ولا تبرَّجنَ تَبَرُّجَ الجاہلیۃِّ الأولیٰ (الأحزاب:۳۳) تم اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ بیٹھی رہو۔اور قدیم زمانۂ جاہلیت کے دستور کے موافق بنائو سنگار دکھلاتی نہ پھرو۔
عورتوں کے لیے جھنکار اور آواز والے زیورات کے استعمال، بھڑک دار لباس اور خوشبو کے استعمال اور مخفی زیب و زینت کے اظہار کو ممنوع قرار دے دیا گیا:
ولا یضربن بارجلہن لیبدین ما یخفین من زینتہن (النور:۳۱) اور اپنے پائوں زمین پر اس طرح مارتی ہوئی نہ چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے وہ معلوم ہوجائے۔
بوقت ضرورت خواتین کو گھر سے نکل کر ضرورت کی تکمیل کے لیے باہر جانے کی اجازت دی گئی؛ لیکن اس کو اس شرط کے ساتھ مشروط کردیاگیا کہ نکلنا بے محابا نہ ہو؛ بلکہ نکلتے وقت پوری طرح باپردہ ہوکر نکلیں؛ برقع یا لمبی چادر سے پورے بدن کو چھپا لیں۔
یایہا النبی قل لازواجک و بناتک ونساء المؤمنین یدنین علیہن من جلابیبہن، ذٰلک ادنیٰ ان یُعرفن فلایوذین۔(الأحزاب:۵۹)
اے پیغمبر! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے گھونگھٹ ڈال لیا کریں۔ اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی اور انہیں ستایا نہیں جائے گا۔
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت سے اپنے گھروں سے نکلیں تو اپنے سروں کے اوپر سے ’’جلباب‘‘ یعنی لمبی چادر لٹکاکر چہروں کو چھپالیں اور راستہ دیکھنے کے لیے صرف آنکھ کھلی رکھیں‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر)
پردے کے سلسلے میں اس قدر تاکیدی احکامات اس لیے دیے گئے ہیں کہ خواتین کی صنف پوری طرح ’’عورت‘‘ یعنی پردے کی چیز ہے؛ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المرأۃ عورۃ فاذا خرجت استشرفہا الشیطان (ترمذی:۱؍۲۲۲) کہ عورت سراپا پوشیدہ رہنے کی چیز ہے۔ جب عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان نما انسان اس کی تاک میں لگ جاتا ہے۔ لہذا شیطان کی فتنہ سامانیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بلا ضرورت گھر سے نکلیں ہی نہیں۔ اور اگر ضرورت کے تحت نکلنا ہی پڑے تو پوری طرح پردے میں لپٹ کر نکلیں۔

پردہ خواتین کی عفت و عصمت کا محافظ:
حیا کسی بھی سلیم الفطرت عورت کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اور اس سرمایہ کاسب سے بڑا محافظ پردہ ہے۔ عورت کی حیاو شرم طبعی کا تقاضہ ہے کہ وہ اپنوں کے سوا غیر مردوں سے پردے میں رہے۔ نہ وہ کسی اجنبی کو دیکھے، نہ کوئی اجنبی اس کو دیکھے۔ بے حیائی، بے پردگی، عریانیت خواتین کی نسوانیت کو مجروح اور اس کی فطرت کو مسخ کرنے والی چیز اور فتنہ و فساد کی داعی ہے۔ بے پردگی اور حیا کبھی بھی ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتی اور کوئی باغیرت خاتون کبھی بھی بے پردگی کو برداشت نہیں کرسکتی۔
چنانچہ ابودائود میں ام خلاّد رضی اللہ عنہا کا یہ واقعہ منقول ہے کہ ان کا بیٹا حضور ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں گیا ہوا تھا۔ جنگ کے بعد جب ان کا بیٹا واپس نہیں آیا تو بے تابی کے عالم میں وہ حضورؐ کی خدمت میں اس حال میں پہنچیں کہ وہ چہرے پر نقاب ڈالے ہوئی تھیں۔ وہاں پہنچ کر دریافت کیا یا رسول اللہ! میرے بیٹے کا کیا ہوا؟ صحابہ کرامؓ نے جواب دیا کہ تمہارا بیٹا تو اللہ کے راستے میں شہید ہوگیا۔ یہ اطلاع ان پر بجلی بن کر گری۔ تاہم انہوں نے مثالی صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ اسی حالت میں کسی شخص نے ان سے پوچھا کہ تم اتنی پریشانی کے عالم میں اپنے گھر سے نکل کر آئی ہو، پھر بھی تم اپنے چہرے پر نقاب ڈالی ہوئی ہو۔ اس ہنگامی موقع پر بھی تم نقاب ڈالنا نہ بھولیں۔ جواب میں امّ خلاّدؓ نے کہا: ان ازرأ ابنی فلن أزرأ حیائی یعنی میرا بیٹا تو فوت ہوگیا ہے لیکن میری حیا کا ابھی جنازہ نہیں نکلا ہے کہ میں بے پردہ یہاں آجاتی۔ (ابودائود کتاب الجہاد، ۳۳۷)
اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں آں حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ نے صحابہ سے سوال کیا کہ بتلائو کہ عورت کے لیے کون سی بات سب سے بہتر ہے؟ صحابہ کرامؓ خاموش رہے۔ کسی نے جواب نہیں دیا۔ پھر جب میں گھر گیا اور حضرت فاطمہؓ سے میں نے یہی سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ: لا یرین الرجال ولا یرونہنکہ عورت کے لیے سب سے بہتر چیز یہ ہے کہ نہ وہ مردوں کو دیکھیں، نہ مرد ان کو دیکھیں۔ میں نے ان کا جواب رسول اللہ سے نقل کیا تو آپ نے فرمایا کہ فاطمہؓ میری لخت جگر ہیں، اس لیے وہ خوب سمجھیں۔(مسند بزار، دارقطنی) معلوم ہوا کہ جنتی عورتوں کی سردار کی نگاہ میں عورتوں کے لیے سب سے بہتر چیز پردہ ہے۔
صحابیات کا یہ حال تھا کہ زندگی تو زندگی، شدت حیا کی بنیاد پر مردوں سے ان کی موت کے بعد بھی پردہ کیا کرتی تھیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جس حجرۂ مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدفون ہیں اس کمرہ میں میں جب داخل ہوتی تو میں پوری طرح پردہ نہیں کرتی تھی۔ میرا یہ خیال تھا کہ اس حجرے میں میرے شوہرؐ اور میرے والد ابوبکرؓ کے علاوہ کوئی اور مدفون نہیں ہے۔ اور ان دونوں سے پردہ نہیں ہے؛ لیکن جب ان کے ساتھ حضرت عمرؓ بھی دفن کردیئے گئے تو بخدا اس کے بعد میں جب بھی حجرۂ مبارکہ میں جاتی تو حضرت عمرؓ سے حیا کی وجہ سے پوری طرح باپردہ ہوکر جاتی تھی۔ (مسند احمد بن حنبل)
معلوم ہوا کہ پردہ وجہ حبس و قید نہیں، بلکہ شرم حیا کا آئینہ دار اور عزت و عصمت اور نزاکت و لطافت کامحافظ ہے۔ اور کسی بھی شریف خاتون کے لیے ایک متاع گراں مایہ ہے۔ لیکن جب کسی سے حیا کا مادہ ختم ہوجائے؛ تو لازمی طور پر وہ پردہ کو بوجھ سمجھے گی۔ اور بے پردگی کو آزادی خیال کرے گی۔ اور آزادی کے زعم کے تحت وہ سب کچھ کرے گی جس سے انسانیت کا سرشرم سے جھک جائے۔ حقیقت ہے: اذا فاتک الحیاء فاصنع ماشأت۔ بے حیا باش! ہرچہ خواہی کن! اور یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ بے پردگی اور بے حیائی کے نتیجے میں پوری دنیا، بالخصوص یورپ و امریکہ میں فحاشی و بدکرداری کا ایسا مکروہ ترین سیلاب آیا ہوا ہے اور جنسی بے راہ روی اور اخلاق باختگی کا ایسا طوفان آیا ہوا ہے؛ جسے دیکھ کر شیطان شرماجائے!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*