ممتابنرجی نے مودی کوخط لکھا،چیف سکریٹری کوفارغ کرنے سے انکار

نئی دہلی:مغربی بنگال کے چیف سکریٹری الپن بندواپادھیائے کو طلب کرنے کے سنٹر کے حکم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ریاستی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر اس حکم کو واپس لینے کی درخواست کی ہے۔ممتابنرجی نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت بندواپادھیائے کو فارغ نہیں کررہی ہے۔ممتابنرجی نے وزیر اعظم کو پانچ صفحوں پر مشتمل خط میں مرکزی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ انھیں واپس بلانے کے مرکزی حکومت کے فیصلے پر نظر ثانی کریں جب چیف سکریٹری کوان کی ملازمت میں تین ماہ کی توسیع دی گئی تھی۔انہوں نے خط میں کہاہے کہ مغربی بنگال کے چیف سکریٹری کو دہلی طلب کرنے کے یکطرفہ حکم سے میں حیران ہوں۔یہ یکطرفہ حکم قانون کی کسوٹی پر قائم نہیں ہوگا ، یہ تاریخی طور پر بے مثال اور مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔پانچ صفحات پر مشتمل خط میں ممتابنرجی نے لکھاہے کہ مغربی بنگال حکومت اس اہم وقت چیف سکریٹری کوچھوڑ نہیں سکتی ہے اورنہ ہی انھیں اجازت دے رہی ہے۔چیف منسٹر نے خط میں ایک درخواست بھی کی ہے کہ ریاستی حکومت سے مشاورت کے بعد مرکز کی جانب سے چیف سکریٹری کی مدت ملازمت میں یکم جون سے بڑھا کر اگلے تین ماہ کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس پرصرف عملدرآمد سمجھا جائے۔انہوں نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ میں عاجزی کے ساتھ آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ اپنا فیصلہ واپس لیں اور اس پر دوبارہ غور کریں۔بڑے عوامی مفاد میں نام نہاد آرڈر منسوخ کریں۔ مغربی بنگال کے عوام کی طرف سے میں آپ سے اپیل کرتی ہوں کہ اچھے جذبے کے ساتھ کام کریں۔انہوں نے کہاہے کہ وفاقی تعاون آل انڈیا سروس کے قانونی فریم ورک اور اس کے لیے بنائے گئے قوانین کا ستون ہے۔وزیر اعظم کو بھیجے گئے خط میں ممتابنرجی نے لکھاہے کہ چیف سکریٹری کو 24 مئی کو خدمت میں توسیع کی اجازت دی جانے کے بعد کیا ہوا اور چار روز بعد آپ کے یکطرفہ حکم کو سمجھ نہیں لیا گیا۔انہوں نے کہاہے کہ مجھے امید ہے کہ تازہ ترین حکم (چیف سکریٹری کو دہلی منتقل کرنے کے لیے) اورآپ کے ساتھ میری میٹنگ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ممتابنرجی نے کہا ہے کہ میں صرف آپ سے بات کرنا چاہتی تھی جس طرح وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ کے مابین عام طور پرمیٹنگ ہوتی ہے۔لیکن آپ نے اپنی پارٹی کے ایک مقامی ایم ایل اے کو بھی بلایا ، جبکہ وزیر اعظم-وزیر اعلیٰ کی ملاقات میں ان کے موجود ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔