ممتا کی جیت پر میڈیا کا ردِ عمل ـ زین شمسی

ٹی وی کے تمام اینکر اتنے مہذب کبھی نہیں دیکھے گئے، جتنے شکست بنگال کے وقت دیکھے جا رہے ہیں، روبیکا کا منہ سوجا ہواتھا اور چورسیا گٹکھا کھاتا رہا۔ دوسرے اینکرس اپنے روہانسے چہرے کو ماسک سے چھپاتے رہے، چیخنے والی آوازیں دبی دبی رہیں، یہاں تک کہ کبھی کبھی وہ لوگ اپنے آقا کے ترجمانوں کو بھی بھاشا کی مریادا یاد دلاتے نظر آئے۔ ہاں ان کے غمناک چہرے میں ادھار کی مسکراہٹ تب تک بنی رہی جب تک نندی گرام سے ممتا کی ہار کی خبریں آتی رہیں، لیکن دو بجے کے بعد سمبت پاترا کا چہرہ دیکھ کر سبھی غلامین میڈیا پوری طرح سوگ منانے لگیں۔ پھر اچانک الیکشن کمیشن نے سوچا کہ وہ مالک کا کام ٹھیک سے انجام نہیں دے پایا نہ جانے ان کا منصب برقرار رہے گا کہ نہیں اس نے آخری داؤ کھیلا اور کھیلا ہو گیلا کے جشن کو کووڈ کا بہانہ بنا کر رنگ میں بھنگ ڈالنے کی کوشش کی۔ الیکشن کمیشن کے فرمان کے بعد تمام گودی میڈیا اس منظر کو ٹی وی پر دکھانے لگے کہ کس طرح کووڈ کے رہنما اصول کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ انہیں ہاد ہی نہیں آیا کہ الیکشن کے دوران کتنی دھجیاں اڑائی گئیں کہ الیکشن کمیشن پر ہی قتل کا مقدمہ درج کرنے کا عدالت سے فرمان آگیا۔
الیکشن کمیشن اور میڈیا دونوں کو آخر یہ بات کیسے برداشت ہو سکتی ہے کہ ان کے صاحب جو دنیا کے سب سے بڑے لیڈر ہیں، ان کے امیت شاہ جس کے سامنے چانکیہ بھی پانی بھرتے ہوں ، ان کے سمبت پاترا و دیگر دانشوران جو ارسطو اور افلاطون سے بھی بڑے فلسفے و حکمت ساز و پالیسی ساز ہیں، وہ پیر میں معمولی ہوائی چپل اور بدن پر سادہ سی سوتی ساڑی پہن کر، زخمی ہونے پر وہیل چئیر پر بیٹھ کر، ایسا کھیلا کر دے کہ بی جے پی کے تمام لوگوں کی حویلیوں کی کھڑکیاں بند ہو جائیں۔
ہندو مسلم کا فارمولہ ہندی بیلٹ میں کارآمد ہے، کیونکہ ادھر کے لوگ بھارت سے محبت کرنے والے نہیں ہیں بلکہ اپنی جات اپنی زمین، اپنے مذہب اور اپنے مفاد کے لئے جیتے ہیں۔ بنگال ایک نظریاتی میدان ہے، پہلے کمیونسٹ کا نظریہ کارآمد تھا اب ترنمول کا یکجہتی فارمولہ راس آرہا ہے۔ ایسی جگہوں پر جے شری رام کام نہیں آتا، یہاں رام کے ساتھ سیتا کا بھی نام لینا پڑتا ہے۔ یہاں درگا راکشکوں کا بدھ کرتی ہے۔ ممتا کو دیدی او دیدی کہہ کر کمزور سمجھنے والوں پر دیدی کوئی ممتا نچھاور نہیں کرتی۔آج کا رزلٹ اس کا ثبوت ہے۔
تین ایسی جگہ ہے جہاں مودی اور ان کی طاقتور فوج اوندھے منہ گرتی ہے۔ پہلے دہلی، دوسرا جے این یو اور تیسرا بنگال۔ ایسا صرف اس لئے ہے کہ یہ تینوں فرنٹ فٹ پر کھیلتے ہیں۔ یہ بی جے پی کو اپنی ماند میں گھیر کر مارتے ہیں۔
اب یہ سب کہنا قبل از وقت ہے کہ آئندہ لوک سبھا الیکشن میں اپوزیشن کس چہرے کے سائے میں وشو گرو کے گرو سے مقابلہ کرے گا۔ لیکن ابھی کی جو صورتحال ہے اس میں لالو ، ملائم ، مایا، سب کے سب خاموش ہیں۔ مہاراشٹر میں ٹھاکرے پر سب کو یقین نہیں ہے۔ شرد پوار اور راہل گاندھی بھی کرشمائی لیڈر ثابت نہیں ہو پا رہے ہیں۔ اکھلیش،تیجسوی ناتجربہ کار ہیں۔ کیجریوال اور ممتا ہی ہیں جو مودی کو دو بار اکھاڑ پھینکنے میں کامیاب رہے ہیں اور اپنے کام سے بھی مطمئن کیا ہے۔
بہرحال اس الیکشن میں بھاجپا اوندھے منہ گری ہے اگر اب بھی اسے اپنا وقار قائم رکھنا ہے تو بھارت میں ہزاروں کی تعداد میں مر رہے لوگوں کے لئے وہ جی جان سے مصروف ہو جائے اور اپنے غلط فیصلوں کو درست کرنے کی کوشس کرے ورنہ ابھی بہت ساری ہار اس کے تعاقب میں ہے۔