ممتابنرجی جیت تو گئیں مگرنشانے پر ہیں! ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
تو مغربی بنگال ہنوز نشانے پر ہے !
سارے گھوڑے کھول دینے ، حکومت کی ساری ایجنسیوں کو ایک مخصوص ایجنڈے کی تکمیل پر لگادینے اور خود وزیراعظم نریندر مودی کے عوام کے ’ جم غفیر‘ سے خطاب کرنے ، اور مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کے ذریعے مغربی بنگال کی ہار جیت کو ناک کا مسئلہ بنالینے کے باوجود، ممتابنرجی کو جیت سے کوئی بھی بات روک نہیں سکی ۔ یہ جیت اس لیے اہم ہے کہ مغربی بنگال اور ٹی ایم سی بالخصوص ممتابنرجی مسلسل ’ہندوتوادیوں‘ کے نشانے پر تھیں ، امیت شاہ اپنے بار بار کے دوروں سے نہ ممتابنرجی کو چین لینے دے رہے تھے اور نہ ہی مغربی بنگال کے لوگوں کو ۔۔۔ یوپی کے وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی بھی اپنے تمام زہریلے بیانات کے ساتھ مغربی بنگال میں گھومتے پھررہے تھے ۔ یہ کوشش ہر ممکن طریقے سے کی گئی کہ مغربی بنگال کو ’ ہندو۔ مسلم ‘ کی بنیاد پر اس طرح سے بانٹ دیا جائے کہ ’نہ رہے بانس نہ بجے بانسری‘ یعنی نہ ہی ممتابنرجی کی جیت ہوسکے اور نہ ہی سیکولر اور جمہوری قدریں محفوظ رہ سکیں ، صرف اور صرف ’ ہندوتوا‘ کا جِن ، بوتل سے باہر آئے ، اور پورے مغربی بنگال میں دندناتا پھرے ۔ پوری کوشش کی گئی کہ مغربی بنگال کو اسی طرح سے ’ہندوتوا کی ایک لیبارٹری‘ میں تبدیل کردیا جائے جیسے کبھی مدھیہ پردیش اور پھر گجرات کو تبدیل کیا گیا تھا، اور اب یوگی راج میں اترپردیش جس میں تبدیل ہورہا ہے ۔ مگر یہ جنگ ممتابنرجی نے جیت لی ، اور ’ہندوتوادی‘ مکمل طور پر سیکولر اور جمہوری قدروں کے سامنے چت ہوگئے ۔۔۔ اس جیت کے لیے پورے ملک کو ممتابنرجی کا شکرگزار ہونا چاہیے کیونکہ اگر یہ جیت نہ ہوئی ہوتی ،ممتابنرجی ہارجاتیں ، ٹی ایم سی کا جنازہ نکل جاتا اور مغربی بنگال پر بی جے پی کی حکمرانی ہوجاتی ، تو اس ملک کو جمہوریت سے ایک ایسی ڈکٹیٹرشپ میں تبدیل ہونے میں ، کوئی وقت نہیں ہوتی، جہاں اقلیت کو سانس تک لینے کے لیے ہمہ وقت ہاتھ جوڑے رہنے پر مجبور ہونا پڑتا ۔۔۔ تو مغربی بنگال نشانے پر تھا ، تاکہ ’ہندوتوادی‘ جیت جائیں اور ’ ہندوراشٹر‘ کی راہ میں جو کچھ بھی تھوڑی بہت اڑچنیں رہ گئی ہیں وہ بھی ہٹ جائیں ، لیکن یہ ہونہیں سکا ، مگر مغربی بنگال ہنوز نشانے پر ہے ، ٹی ایم سی اور ممتابنرجی کو ابھی بھی یہ ’بھگوائی‘ چین کی سانس نہیں لینے دے رہے ہیں ۔ اور جب حکومت ہی چین کی سانس نہ لے سکے گی تو عوام کہاں سے چین کی سانس لے سکیں گے !
مغربی بنگال کا ذکر ابھی باقی ہے ، لیکن مزید دوریاستوں کا ذکر ضروری ہے ۔ ایک تمل ناڈو کا اور دوسرا کیرالا کا ۔ بی جے پی بلکہ آر ایس ایس اور اس کی تمام ذیلی تنظیمیں ، باالفاظ دیگر سارا سنگھ پریوار ان دوریاستوں میں بالکل مغربی بنگال ہی کی طرح سے ’ہندوتوا‘ کی لہر پھیلانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے تھا، بس فرق صرف یہ تھا کہ مغربی بنگال مودی اور شاہ کا خاص نشانہ تھی ، وہ ریاست ناک کا مسئلہ بن گئی تھی اور یہ دوریاستیں خاص نشانہ تو نہیں تھیں لیکن یہ کوشش بھرپور تھی کہ یہاں بھی کسی نہ کسی طرح بھگوا پھریرا لہرایا جائے تاکہ سارے ملک کو بھگوے رنگ میں رنگنے میں کوئی دقت نہ ہو ۔ پنارائی وجئین اور اسٹالن بھی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ’ یرقانیوں‘ سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ، انہیں یہ پورا یقین تھا کہ بی جے پی اس ملک کے لیے اس قدر مہلک ہے جس قدر مہلک اس ملک کے لیے کورونا کی وباء ثابت ہورہی ہے ۔ لہٰذا کیرالا اور تمل ناڈو کے سیاستدانوں نے اور وہاں کی عوام نے ، مغربی بنگال کی عوام ہی کی طرح ، خود کو ’ ہندو۔ مسلم ‘ کے خانوں میں تقسیم ہونے نہیں دیا ، اور بی جے پی کو وہ جھٹکا دیا جس سے اس کا سنبھلنا ناممکن ہوگیا۔ ناممکن اس لیے کہ مغربی بنگال ، تمل ناڈو اور کیرالا سے بی جے پی کو جو جھٹکے ملے ہیں ان کے اثرات اترپردیش کے آنے والے اسمبلی الیکشن میں بھی محسوس کیے جائیں گے ۔ یوگی نے مغربی بنگال میں جس جس حلقے میں انتخابی مہم میں حصہ لیا ، اس اس حلقے میں بی جے پی کو کراری شکست ہوئی ہے ، ایسا ہی دہلی میں ہوا تھا ، یوگی نے وہاں جس جس حلقے میں انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا وہ حلقے بی جے پی ہار گئی تھی۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ یوگی کی زہریلی باتیں ، زہریلے بیانات اور بے تکی دلیلیں عوام کو پسند نہیں آرہی ہیں ۔ آسان لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ عوام نے یوگی کو مسترد کرنا شروع کردیا ہے ، ساتھ ہی ساتھ بی جے پی کو بھی۔
مسترد کرنے کی وجوہ ہیں۔ آج کورونا کی وباء نے مودی سرکار کی ساری ناکامیاں اجاگر کردی ہیں ، عوام کو یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ ایک وزیراعظم کے طو رپر نریندر مودی نے نہ ملک کے لیے کچھ کیا اور نہ ہی عوام کے لیے ۔ اور نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ کچھ کرنے کے ’ اہل‘ ہیں ہی نہیں ۔ نہ وہ منصوبہ بندی جانتے ہیں اور نہ ہی انہیں یہ پتہ ہے کہ ملک کو ترقی کی سمت لے جانے کی راہ ’ ہندو۔مسلم‘ تفریق نہیں بلکہ ملک کے سارے انسانوں کا اتحاد ہے ۔۔۔آج سب کے سامنے آگیا ہے کہ یہ شخص تو ایک وباء سے نمٹنے کا ’گُر‘ بھی نہیں جانتا ! جب ملک میں لاک ڈاؤن لگناتھایہ مدھیہ پردیش میں حکومت گروارہا اور احمد آباد میں ٹرمپ کا استقبال کررہا تھا، اور جب ملک بھر کے اسپتالوں کو بیڈ اور ضروری ادویات سے بھرنا تھا اور آکسیجن سلنڈروں کی زیادہ سے زیادہ سپلائی کو ممکن کرنا تھا تب یہ شخص تالیاں بجوا اور موم بتیاں جلوا اور تھالیاں پٹوا رہا تھا۔ آج ملک کی صورت حال کس قدر بھیانک ہے ! لوگ مکھیوں کی طرح مررہے ہیں ، شمشان گھاٹوں میں لاشیں سڑرہی ہیں ، قبرستانوں میں زمینیں نہیں بچی ہیں ، اسپتال ضروری ادویات سے محروم ہیں اور آکسیجن کی شدید قلت ہے ۔ افسوس تو یہ ہےکہ مودی الیکشن کی مہمات میں مشغول رہے ، عوام کو جمع کرنے اور انہیں کورونا کے پھیلنے کا ذریعہ بنواتے رہے ۔ آئی پی ایل کا ’ تماشہ‘ لوگوں کی موت پر ’ جشن‘ کی طرح جاری رہنے دیا ۔ کنبھ میلہ لگنے میں کوئی دقت نہیں محسوس کی ۔۔۔ یہ جو جانیں گئی ہیں ، انگنت ، ان کا خون پکار رہا ہے کہ کیوں ایک ایسے حکمراں کو ہم پر لادا گیا جس نے ہماری جانوں کی پروا نہیں کی ۔۔۔ !! بات صرف کورونا وباء تک ہی نہیں رکتی ، مرکزی حکومت کسانوں کو نظرانداز کررہی ہے ، دہلی میں ’سینٹرل وِسٹا‘ کی تعمیر پر کئی ارب روپئے خرچ کررہی ہے ، وہ روپیے جو ہم سب کی جیب سے نکلے ہیں ۔اور ہم ہی ان روپیو ںسے محروم ہیں! اور سب سے بڑا بلکہ سب سے گھناونا جرم تو اس حکومت کا یہ ہے کہ اس نے ملک کو ’ہندو۔ مسلم‘ میں تقسیم کردیا ہے ۔ یہ رام مندر بنوانے پر تلی ہوئی ہے ، یہ بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ کو اپنی راہ سے ہٹانا چاہتی ہے ۔ یہ چاہتی ہیکہ یہ ملک ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ’ ہندو ۔ مسلم ‘ میں تقسیم ہوجائے تاکہ یہ آرام سے کرسی پر بیٹھے راج کرتے رہیں ۔۔۔ عوام کی سمجھ میں آیا ہے اور آرہا ہے ، کم از کم بنگال ، کیرالا اور تمل ناڈو کی عوام نے تو سمجھ ہی لیا ہے اور اس سارے ’تگڑم‘ کو ، اس سارے ’نفرت کے پرچار‘ کو اور ’ ترقی‘ کے نام پر ملک کو ’تنزلی‘ کی سمت لے جانے کی اس ساری کوشش کو ’ مسترد‘ کردیا ہے ۔
لیکن یہ ایک ایسا ’ عفریت‘ ہے جو اتنی آسانی سے ہار ماننے والا نہیں ہے ۔ اسے اپنی ہار، کم از کم مغربی بنگال کی ہار برداشت نہیں ہو پارہی ہے ، اس لئے مغربی بنگال ابھی بھی اس کے نشانے پر سے ہٹانہیں ہے ۔ الزام لگایا جارہا ہیکہ ٹی ایم سی کے ورکروں نے بی جے پی کے ورکروں پر جان لیوا حملے کیے ہیں، انہیں قتل کیا ہے اور بی جے پی سے تعلق رکھنے والی خواتین کی آبروریزی کی گئی ہے ۔ مغربی بنگال میں سیاسی قتل وغارتگری کی ایک لمبی تاریخ ہے ، اور انتخابات کے دوران یا بعد میںسیاسی قتل کانگریس کے دور میں بھی ہوئے ہیں اور کمیونسٹ حکومتوں کے دور میں بھی۔ ٹی ایم سی کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا ہے ، اس لئے اگر تازہ اسمبلی انتخابات کے بعد بی جے پی اور ٹی ایم سی کے ورکرورں میں ٹکراو ہوئے ہیں تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے ۔ بی جے پی کا دعویٰ درست ہوسکتا ہے۔ ٹی ایم سی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ورکر بی جے پی کے ورکروں کے ذریعے قتل کیے گیے ہیں ۔۔۔ مگر بی جے پی کا تشدد کی ان وارداتوں کو ’ ہندو ۔ مسلم ‘ روپ دینا کسی بھی طرح سے درست نہیں مانا جاسکتا ۔ بی جے پی کے ایک ایم پی ، تھنک ٹینک سوپن داس گپتا نے تو اپنے ایک ٹوئٹ میں یہ گہارلگائی ہے کہ امیت شاہ کچھ کریں بیربھوم کے ننور میں ایک ہزار سے زائد ہندوخاندان میدان میں پڑے ہیں تاکہ حملہ آوروں سے بچ سکیں۔ بی جے پی کی ہی ایک ایم پی میناکشی لیکھی نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ ٹی ایم سی کا تشدد جناح کی مسلم لیگ کے ڈائرکٹ ایکشن ڈے کی یاد دلاتا ہے ۔ انہوں نے قتل وغارتگری اور عصمت دری کی بے شماروارداتوں پر توجہ نہ دینے پر کہا ہے ’ایسی ویسی ، کیسی تیسی ڈیموکریسی‘ ۔ کیلاش وجئے ورگیہ بھی بی جے پی کے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ نندی گرام کے کینداماری گاؤں میں ٹی ایم سی کے مسلمان غنڈے بی جے پی کی خواتین ورکروں کو پیٹ رہے ہیں ۔ کنگنارناؤت نے تو نریندر مودی سے یہ اپیل کردی تھی کہ وہ مغربی بنگال میں اپنا وہی روپ دکھائیں ، گجرات 2002 والا ۔ تشدد کی وارداتیں ہوئی ہیں لیکن یکطرفہ نہیں ، ٹی ایم سی کے ورکر بھی تشدد کا شکا رہوئے ہیں۔ اور یہ تشدد سیاسی ہے ، اس کا ’ہندو۔مسلم‘ سے کچھ لینادینا نہیں ہے ، لیکن بی جے پی تشدد کے ان واقعات کو جن میں کئی فیک ہیں ،فرقہ وارانہ رنگ دے کر ہنوز مغربی بنگال کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کرنے کے لیے کوشاں ہے ۔
خطرہ ہے کہ کہیں تشدد کے یہ واقعات بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات میں نہ تبدیل کردیے جائیں! دشمن مغربی بنگال میں ممتابنرجی کو ہٹانے کے لئے کچھ بھی کرسکتا ہے۔ لہٰذااحتیاط کی ضرورت ہے ۔ ممتابنرجی کو بھی احتیاط کرنا چاہیے ، تشدد چاہے جو کرے اس کے خلاف کارروائی لازمی ہے ۔ اور مغربی بنگال کے مسلمان بھی احتیاط کریں ، صبر کریں ۔۔۔ ممتابنرجی کو ہٹاکر ، چاہے وہ صدر راج کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو ، یرقانی ،جمہوریت اور سیکولرزم کو بہت بڑا نقصان پہنچاسکتے ہیں ، کھیل یہی کھیلا جارہا ہے ۔ اس لیے لوگ بالخصوص مغربی بنگال کی عوام پورا زور لگاکر ، جیسے بی جے پی کو ہرانے کے لیے زور لگایا ہے ، اسے اس کھیل کو جیتنے نہ دیں ۔