ملعون وسیم رضوی کا(نعوذباللہ) ۲۶؍ آیات ہٹا کر قرآن پاک شائع کرنے کا دعویٰ، وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر کہا ’یہ قرآن تمام مدارس ومکاتب میں پڑھایاجائے‘

ممبئی:(نازش ہما قاسمی) گستاخ، ملعون، دریدہ دہن، نجس دوراں ، خارج از اسلام ، قرآن میں تحریف کےلیے سپریم کورٹ جانے والاکافر، آر ایس ایس کا دلال، حکومت کا ایجنٹ، بابری مسجد کا سودا گر، مدارس اسلامیہ کو دہشت گردی کا اڈہ کہنے والا ، یوپی شیعہ وقف بورڈ کا سابق چیئرمین مردود وسیم رضوی نے سپریم کورٹ کی پھٹکار اور وہاں سے ہزیمت اُٹھانے کے بعد دوبارہ گستاخی کی جرأت کی ہے ۔ نعوذباللہ ملعون نے اب قرآن کریم میں تحریف کا دعویٰ کیا ہے اور وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر یہ مطالبہ کیا ہے کہ (نعوذباللہ )تحریف شدہ قرآن کو ملک کے تمام مدارس و مکاتب اور مسلم معاشروں میں پڑھانے کا حکم دیا جائے۔ملعون نے اپنی ویڈیو میں کہا ہے کہ ’’میں نے قرآن مجید سے متنازعہ آیتیں جو دہشت گردی کو بڑھاوا دیتی تھی اسے ہٹا کر اور قرآن مجید میں جو سورتیں تھیں وہ ترتیب وار نہیں تھی اسے درست کرکے ایک نیا قرآن مجید تیار کردیا ہے۔ میں نے وزیر اعظم کو اس کا ماڈل بھیجا ہے خط کے ساتھ اور ان سے کہا ہے کہ اس قرآن مجید کو سبھی مدارس اور مسلم معاشرے میں پڑھائے جانے کے احکامات صادر فرمائیں اور بہت جلد یہ قرآن مارکیٹ میں بھی موجود ہوگا جو میں نے درست کیا ہےیہی صحیح قرآن ہے‘‘۔ ملعون نے وزیر اعظم مودی کو بھیجے گئے خط میں لکھا ہے کہ ’’ آپ کو آگاہ کرانا ہے کہ مسلمانوں کے آخری رسول محمد ﷺ کے بعد قرآن مجید کو آخری بار اسلام کے تیسرے خلیفہ عثمان کے ذریعے تیار کیاگیا ہے جسے آج تک اللہ کی کتاب مان کر پڑھا جاتا ہے۔ میں نے قرآن کا مطالعہ کیا جس میں پایا کہ قرآن میں ۲۶ آیتیں ایسی ہیں جو اللہ کی جانب سے نہیں ہوسکتی کیو ںکہ اس آیت میں دہشت گردی اور شدت پسندی کو بڑھاوا دینے کا ذکر ہے۔ ان آیتوں کی وجہ سے مسلمانوں میں دہشت گردی کی سوچ پیدا ہورہی ہے یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں مسلم دہشت گردی عروج پر ہے۔ گہرے مطالعے کے بعد لکھے گئے اور لکھوائے گئے قرآن مجید کی سورتوں کو درست ترتیب میں لایاگیا ہے اور دہشت گردی کو فروغ دینے والی ۲۶ آیتوں کو قرآن مجید سے ہٹادیاگیا ہے ۔ اس خط کے ساتھ میں نے درست قرآن مجید بھی بھیجا ہے۔ آپ سے اپیل ہے کہ میرے مطالعے کی روشنی میں درست قرآن مجید مدرسوں اور مسلم سماج کو پڑھائے جانے کے احکامات دئیے جائیں ۔ جو قرآن مجید ابھی پڑھایاجارہا ہے وہ درست نہیں ہے اس پر برائے مہربانی پابندی عائد کریں کیوں کہ ایسی مذہبی کتاب پڑھایاجانا جس سے انسانوں میں تفریق پیدا کی جائے فرقہ وارانہ فساد ہو، دوسرے مذاہب سے نفرت پیدا ہو ، اپنے مذہب کو صحیح بتا کر دوسرے مذاہب کی توہین کی جائے یہ قومی مفاد میں درست نہیں ہے اور غیر آئینی ہے ہندوستان کو اس معاملے میں پہل کرنا اس لیے ضروری ہے کیوں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی رہتے ہیں۔موجودہ قرآن مجید کے مطالعے سے مسلمان غیر مسلموں کو کافر مانتے ہیں۔ شکریہ۔ ‘‘ ملعون رضوی کی اس گستاخی سے مسلمانوں میں شدید اضطراب ہے۔ رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج حافظ سعید نوری نے بتایاکہ ’’وسیم ملعون کی ویڈیو آنے کے بعد خط پڑھنے کے بعد یہاں حضرت مولانا معین الدین اشرف صاحب کی صدارت میں ایک فوری میٹنگ بلائی گئی۔ جس میں مولانا عباس رضوی ، مولانا خلیل الرحمان نوری ،وغیرہ موجود تھے، ہم لوگوں نے فوری طور پر ایڈوکیٹ رضوان مرچنٹ صاحب سے رابطہ قائم کیا کیوں کہ سپریم کورٹ میں اسی مسئلے کو لے کر رضا اکیڈمی گئی تھی، جہاں سپریم کورٹ نےمطالبات کو خارج کرتے ہوئے پچاس ہزار جرمانہ کافیصلہ صادر کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اب اس کے سلسلے میں یہ ہے کہ یہاں پر وکیل صاحب سے بات ہوئی ہے کہ اس سے قبل بھی اس نے خباثت کی اور جے جے اسپتال پولس اسٹیشن میں ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کی شان میں گستاخی کی تھی اس پر ایف آئی آر کی فائل بنی ہوئی ہے اور اب اس نے جو پھر گستاخی کی ہے تو اس سلسلے میں پھر شکایت درج کرائی جائے اور قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ رضا اکیڈمی وکیل صاحب کے ذریعے لیٹر وغیرہ تیار کرنے کے بعد شکایت درج کرائے گی اور قانونی دائرے کے اندر رہ کر جہاں جہاں بھی افراد شکایت درج کراناچاہیں وہ لیٹر یہاں سے منگوالیا جائے گا تاکہ ایک ہی مضمون کا لیٹر تمام پولس اسٹیشنوں میں دیاجائے۔ ہم کوشش کررہے ہیں ان شاء اللہ ملعون کا منہ کالا ہوگا۔ حضور اقدسﷺ کے زمانے سے ہی اس قسم کے واقعے آرہے ہیں اور اللہ تعالیٰ محافظ ہے قرآن کریم کا اس کا ایک حرف کوئی ادھر سے ادھر نہیں کرسکتا یہ جو ملعون قرآن کی توہین کی ہے جلد ہی دنیا وآخرت میں ذلیل و خوار ہوگا‘‘۔ نائب امیر شریعت بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا شمشاد رحمانی نے کہاکہ قرآن مجید قیامت تک رہنے والی انسانیت کےلیے دستور حیات ہے اور انسانی زندگی کےلیے سرمایہ ابدی ہے۔ ایسی صورت حال میں قرآن کو مٹانے کا دعویٰ کرنے والے ہر زمانے میںپیدا ہوئے اور تحریف کرنے کی کوشش کی مگر ان کی کوششیں رائیگاں ہی ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کی آیت میں نہ تبدیلی آئی ہے اور نہ قیامت تک آئے گی۔ قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا کہ ’لا تبدیل لکلمات الله‘اللہ کے اس فرمان کے بعد اس میں انسانی کوشش جتنی بھی ہوجائے اس میں تبدیلی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایسی کوشش سستی شہرت اورحکومت میں اپنا نام بنانے کےلیے کی جارہی ہے اور یہ پائیدار نہیں ہوتی،یہ رسوائی اور ذلت کا ذریعہ بنتی ہے۔ انہوں نے تمام مسلمانوں ، قائدین، دانشوران اور ملی و سماجی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ ملعون کے خلاف متحد ہوکر آواز اُٹھائیں اور قانونی کارروائی کے ذریعے اس پر گرفت بنائیں اور حکومت سے مطالبہ کریں کے ایسے ملعون و مردود کو سخت سے سخت سزا دے تاکہ دوبارہ کوئی گستاخی کی جرات نہ کرسکے۔ مولانا خالد رشید فرنگی محلی (رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے کہاکہ اس کی بیہودگی پر کوئی توجہ نہیں دی جائے، ظاہر بات ہے کہ قرآن ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے اور جب اللہ نے قرآن نازل کیا ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے تو یہ خبطی قرآن میں کیسے تحریف کرسکتا ہے۔ یہ ملعون جو کہہ رہا ہے اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس کا ذہنی توازن کتنا بگڑچکا ہے۔ انہو ںنے کہاکہ اس میں حکومت کےلیے غور کرنے والی ہے کہ اس ایک فرد کی حرکت سے نہ صرف ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہورہے ہیں۔ اس لیے یہ شخص ہندوستان کی شبیہ کو پورے عالم میں خراب کرنے کا کام کررہا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس کے خلاف سخت کارروائی کرے، اسے مقامی مسئلہ نہ قرار دے ۔ ۵۲ اسلامی ممالک سمیت پور ی دنیا میں مسلمان بستے ہیں اور اس کی بے وقوفی کی وجہ سے ہندوستان کی شبیہ خراب ہورہی ہے۔ حکومت سنجیدگی سے اس معاملے کو لیتے ہوئے ملعون کو سخت سے سخت سزا دے۔ علما ءکونسل کے جنرل سکریٹری اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا محمود احمد خاں دریابادی نے کہاکہ اس ملعون کے خلاف توہین عدالت کا کیس ہونا چاہئے، بڑے بڑے مرگئے تو قران میں ایک لفظ ایک شوشے ایک نقطے کی تبدیلی نہیں کرسکے ، یہ کس کھیت کی مولی ہے ۔ ـ اس ملعون کے ساتھ وہ لوگ جنہوں نے شیعہ بورڈ کے انتخاب کے لئے ووٹ دیا ہے وہ بھی لعنتی ہیں ان سب کا کا بائیکاٹ کیا جائے اور کسی بھی ـ قبرستان میں تدفین کی اجازت نہ دی جائے ـ مولانا حلیم اللہ قاسمی(جنرل سکریٹری جمعیۃ علما ءمہاراشٹر) نے کہاکہ قرآن پاک اللہ کی وہ کتاب ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لی ہے، قرآن اپنے نزول سے لے کر اب تک محفوظ ہے اس کے ایک نقطے کو نہ گھٹایاجاسکتا ہے نہ بڑھایاجاسکتا ہے۔ قیامت تک کے لیے یہ کتاب محفوظ ہے، ملعون وسیم رضوی جیسے لاکھوں پیدا ہوجائیں اور لاکھ کوشش کریں دنیا کی ساری طاقت کو اکٹھا کرلیں ہندوستان کے ایک وزیر اعظم تو کیا دنیا کے سربراہان کو جمع کرلیں پھر بھی قرآن مقدس کے ایک نقطے کو ادھر سے ادھر نہیں کرسکیں گے، اللہ تعالیٰ ملعون کی ناپاک کوششوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے ملعون وسیم رضوی کی جانب سے قرآن کریم میں تحریف کر نے کی گستاخانہ حرکت پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے نازل کردہ ایک ایسی مقدس کتاب ہے جو روز ازل سے قیامت تک تحریف و تاویل سے پاک ہے ،اگر کوئی شخص تحریف و تاویل کا دعوی کرتا ہے تو وہ صریح طور پر کفر و الحاد کا مرتکب ہے ۔دوسری بات یہ کہ جس طرح آج دنیا میں کروڑوں مسلمانوں کے سینوں میں قرآن کریم محفوظ ہے کوئی اس میں تبدیلی کرکے کامیاب نہیں ہو سکتا ہے ۔ اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں لاکھو ں صحابہ کرام کے سینوں میں قرآن کریم محفوظ تھا ۔لہذا اس میں تحریف یا کمی زیادتی کا الزام لگانا مردود زمانہ وسیم رضوی جیسے بدبخت کا دماغی خلل اور جہالت کا کھلا ثبوت ہے ۔واضح رہے کہ ملعون نے اس سے قبل دارالحکومت لکھنؤ میں وسیم رضوی نے کہا تھا کہ قرآن کی چند آیات دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں اور انہیں ہٹانا جانا چاہیے تاکہ دہشت گردی سرگرمیوں سے مسلمان نام نہ جڑیں۔ اس کے لیے شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین رضوی نے عدالت سے رجوع کیا تھاتاکہ آیات ہٹائی جاسکیں، اس کے رد عمل میں لکھنؤ سمیت پورے ملک میں شدید احتجاج ہوئے تھے ، ملعون رضوی کے پتلے بھی نذر آتش کیے گئے تھے اور اس کی حیاتی قبر بھی توڑ دی گئی تھی وہیں عدالت عظمیٰ نے اس کی عرضی کو فضول وبکواس قرار دے کر پچاس ہزار روپیہ بھی جرمانہ عائد کیا تھا۔