ملعون رضوی کی رذالت ـ شکیل رشید

نام لے کر پکارنے سے بہتر ہے کہ لوگ وسیم رضوی کو ’فتنہ‘ کہیں ! اور ’فتنہ‘ کہنا کچھ غلط نہیں ہے، وہ ’فتنہ ‘ ہے۔ یرقانی اسے مسلمانوں کے لیے ’فتنہ‘ بناکر رکھناچاہتے ہیں اور وہ بخوشی ’فتنہ‘ بننے کےلیے راضی بھی ہے۔ اللہ رب العزت جس کے ہوش و حواس چھین لیتا ہے اس کے تمام احساسات کو ختم کردیتا ہے۔ سب سے اہم احساس ’ایمان‘ کا ہوتا ہے ۔ کم از کم مسلمانوں کے لیے ۔ لیکن صراط مستقیم سے جو ہٹ گئے اور ’مغضوب ‘ اور ’ضالین‘ کے ساتھی بن گئے ہیں انہیں ایمان کے چھن جانے یا چلے جانے تک کا احساس نہیں رہتا۔ اللہ رب العزت کے کلام کو جو شخص قبول کرنے سے انکار کردے اسے ’ایمان فروش‘ کے علاوہ اور کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ اور یہ ’فتنہ‘ تو خیر اپنے مرنے کے بعد اپنی لاش کے پھونکے جانے کی وصیت کے ساتھ بچی کھچی ایمان کی دولت بھی لٹا چکا ہے ، اب یہ اس پر تلا ہوا ہے کہ دوسروں کے ایمان پر بھی ڈاکے ڈالے ۔ اس ’فتنے‘ کی یہ نئی رذالت ملاحظہ فرمائیں کہ اس نے حضرت محمد ﷺ کی ذات پاک پر بہتان تراشی کی ناپاک جسارت کی ہے ۔ یہ وسیم رضوی دنیا کا ناپاک ترین حیوان ہے، اس سے کسی اچھائی کی امید تھی ہی نہیں ۔ یہ وہی ہے جس نے قرآن پاک کا ایک ایسا نسخہ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس میں ۲۶ آیات جنہیں وہ قرآن پاک میں اضافہ سمجھتا ہے، نکال دی گئی ہیں۔ ’فتنہ‘ جو کرے ، ہمیں کیا لینا دینا ، لیکن اس کی حرکت پر تشویش بھی لازمی ہے اور لوگوں کو محتاط کرنا بھی ضروری ہے۔ ایک عرصہ سے عالمی سطح پر قرآن پاک میں تبدیلیوں کی کوششیں ہورہی ہیں، بالخصوص ’ آیات جہاد‘ کو حذف کرنے کی کوششیں ۔ بہت پہلے امریکہ میں ایسا ہی ایک قرآن چند ’روشن خیال ‘کہلانے والوں کی طرف سے شائع کیا گیا تھا۔ ابھی حال ہی میں بل وارنر کے انگریزی زبان میں ایک ملخص قرآن پر نظر پڑی، دعویٰ ہے کہ جن واقعات کی تکرار ہوئی ہے انہیں ہٹا کر یہ شائع کیاگیا ہے تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔ قرآن پاک کے ایسے ہی کئی نسخے ہیں جنہیں انٹرنیٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔ قرآن کی تفاسیر تو ملخص کی جاسکتی ہیں لیکن قرآن کو ہی ملخص کرنا بات سمجھ میں نہیں آتی۔ بہرحال شیطانی طاقتیں عرصے سے یہ کوشش کرتی چلی آرہی ہیں کہ کسی طرح قرآن پاک میں کچھ ترمیمات کردی جائیں، بعض آیات حذف کردی جائیں یا بعض آیات سے متعلق مسلمانوں میں شکوک وشبہات پیدا کردیے  جائیں تاکہ قرآن پاک کو کلام اللہ سمجھنے کا جو ’جذبہ ایمانی‘ ہے وہ متزلزل ہوجائے۔ اور ایک بار قرآن پاک کی کسی چھوٹی سی آیت کے بارے میں بھی شک پیدا ہوا تو گویا سینے سے ایمان جاتا رہا۔ اور ایسا ہی رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کی ذات پاک کا بھی معاملہ ہے کہ ذرا سا شک و شبہ یا محبت میں ذرا سی کمی ایمان چھین لیتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ جو عالمی شیطانی طاقتیں اور عناصر اس سارے ناپاک کھیل کے پس پشت ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں اس ’فتنے‘ کی ڈور ہے۔ یہ عرصے سے اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح سے اسلام ، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو، مساجد اور مدارس کو، ’دہشت گردی‘ اور ’انتہا پسندی‘ کے نام پر بدنام کیاجائے اور ان مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن بنائی جائیں ۔ یہ مسلک کا ’فتنہ‘ پھیلانے کی بھی کوشش کرچکا ہے اور قرآن پاک میں تحریف کی ناپاک مہم کے بعد پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی ذات پاک کی توہین کی رذیل جسارت پر تلا ہوا ہے۔ خیر یہ ناپاک کیا پاک ذات پر کیچڑ اچھالے گا، اور قرآن پاک کی حفاظت تو اللہ رب العزت خود کرتا ہے، ہمیں بس اس ’فتنے‘ کی حرکت پر نظر رکھنا ہوگی اور قانونی اقدام کرکے اس کے تحریف شدہ قرآن پاک کو عام ، ناسمجھ مسلمانوں تک پہنچنے سے روکنا ہوگا۔ اور اس غلیظ کتاب کو بھی روکنا ہوگا جس میں اس فتنے نے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی توہینِ کرنے کی جسارت کی ہے۔ بلا شبہ یہ ’فتنہ‘ یرقانیوں کے زیر اثر ہے، اسےان کے زیر اثر رہنے دیں، نہ گالیاں دیں، اور نہ ہی دھمکیاں، بس خاموشی برتیں اور اس کی بدمعاشیوں کا قانونی چارہ جوئی کی شکل میں جواب دیں۔ یہی اس کا بہتر علاج ہے۔