مالک اشتر کے نشتریں کالمز – نایاب حسن

مالک اشتر نئی نسل کے نمایاں صحافیوں میں سے ایک ہیں،پروفیشنل صحافت سے ان کا تعلق ہے اور اخبار کے علاوہ ٹی وی جرنلزم کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ان کا قلم خاصا رواں اور شگفتہ ہے۔ذہن میں روشنی ہے اور نظر میں جز رسی،سو سماج کے ہر بڑے چھوٹے مسئلے کو اپنے مخصوص زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر اس پر اپنی نپی تلی رائے کا بھی اظہار کرتے ہیں۔ان کے مضامین مختلف اردو اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں،ہندی میں بھی لکھتے ہیں۔میں نے کئی بار انھیں بڑی دلچسپی سے پڑھا ہے اور اس کے دو وسبب رہے ہیں:ایک تو ان کے مضمون کا موضوع،دوسرے ان کے اسلوب کا بے ساختہ پن ۔ مالک اشتر عموماً ایسے موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں،جن پر لکھنے سے بہت سے لوگ کتراتے ہیں،یا تو جرأتِ اظہار کی کمی کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے موضوعات پر لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں،حالات تو بہتر ہونے سے رہے!مالک اشتر ایسے لوگوں سے مختلف ہیں،سو وہ خصوصا اس قسم کے موضوعات یعنی مسلمانوں،مسلمانوں کے مذہبی معاملات اور المیوں،فرد اور سماج کی سطح پر مسلمانوں میں پائے جانے والے اخلاقی بحران،مذہبی طبقوں کی عمومی کوتاہ بینی و تنگ نظری،مسلمانوں کے تعلیمی،ملی و مذہبی اداروں کے اندرون میں پائی جانے والی خرابیوں وغیرہ پر پوری خود اعتمادی،بے باکی و تہہ رسی کے ساتھ لکھتے ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ اس قسم کی تحریریں لکھتے ہوئے وہ حتی الامکان اعتدال کے دامن کو تھامے رکھتے ہیں اور اسی کی تلقین بھی کرتے ہیں۔یہ بڑی بات ہے اور ان کی استقامتِ فکر و نظر کی دلیل ہے؛کیوں کہ آج کے دور میں یہ تو ہر شخص کو معلوم ہے کہ کسی سے اختلاف کرنا اس کا قانونی و فطری حق ہے،مگر عام طورپر اسے ادبِ اختلاف کا علم نہیں ہوتا،سو وہ کئی بار جہالت و نادانی کے اظہار کو بھی اپنا حق ہی سمجھ بیٹھتا ہے اور کسی کی تحقیر و تذلیل کو بھی اظہارِ رائے کی آزادی کے کھاتے میں ڈالنا چاہتا ہے،حالاں کہ یہ عمل بہر طور مذموم و مردود ہے۔
مالک اشتر جو کچھ لکھتے ہیں،دل سے لکھتے ہیں،وہ چاہتے ہیں کہ مسلم معاشرے میں عمل و کردار اور علم و نظر کی سطح پر جو کوتاہیاں درآئی ہیں،وہ دور ہوں اور انھیں دور کرنے کی سبیل پیدا کی جائے،اس کے لیے سماج کے تمام باوجاہت لوگ آگے آئیں،اپنی ذمے داریاں نبھائیں اور معاشرے کی تشکیلِ نو کا فریضہ انجام دیں۔
مالک اشتر کے ایسے ہی مضامین کا تازہ مجموعہ’’جنوں میں کیا کیا کچھ‘‘کے نام سے منظر آیا ہے۔۱۹۷صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مضامین کا بڑا دلچسپ تنوع ہے۔مالک اشتر کی کالم نگاری پر خور شید اکرم کے مضمون اور مولانا حیدر عباس نقوی کے مقدمے کے بعد ایک مضمون ہے ’’جامعہ، دلی اور یادوں کی پالکی‘‘یہ مضمون کافی دلچسپ ہے،اس کتاب میں شامل ہونے سے پہلے بھی میں اسے پڑھ چکاہوں،اس میں انھو ں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اپنی طالب علمی کےدور کو یاد کیا ہے اور ذہن میں موجود یادوں کو بڑی سادگی اور بے ساختہ پن کے ساتھ صفحاتِ قرطاس پر اتار دیا ہے۔اس کے بعد ایک مرکزی عنوان ہے’’وبا کے دنوں میں‘‘اس میں انھوں نےکورونا شروع ہونے کے بعدابتدائی دنوں میں مسلمانوں کی سطح پر جو فکری و عملی انتشار سامنے آیا تھا،اس کے مختلف مظاہر کی نشان دہی کی ہےاور اسی دوران رونما ہونے والے کچھ دوسرے واقعات پر لکھا ہے۔اس کے علاوہ’’اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہاے ہاے‘‘،’’ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں‘‘،’’تو اس آنچل سے اک پرچم بنالیتی تو اچھا تھا‘‘،’’کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور‘‘،’’بولتے کیوں نہیں مرے حق میں‘‘،’’جان کی امان پاؤں تو‘‘،’’خود احتسابی کی دعوت‘‘،’’رسم و رواج یا مقصدیت‘‘، ’’سیاست و ملک گیری‘‘،’’رنگ و نور کی دنیا‘‘،’’ذرا یہ بھی سوچیے‘‘؛یہ سارے مرکزی عناوین ہیں اور ان میں سے ہر ایک عنوان کے تحت مختلف سماجی،سیاسی،مذہبی،غیر مذہبی،ادبی،فلمی و علمی موضوعات پر مالک اشتر کے قلم نے خوش خرامی کی ہے۔
کتاب کا ہر مضمون اپنے موضوع ،اسلوب و ادا کے اعتبار سے دلچسپ ہے۔ اس کا نام گرچہ انھوں نے’’جنوں میں کیا کیا کچھ‘‘رکھا ہے،مگر اس کے اندر جو مضامین ہیں ان میں خالص عقل و ہوش کی باتیں کی گئی ہیں۔بدلتے ہوئے ملکی و ملی منظر ناموں کا بے لاگ اور حقیقت پسندانہ تجزیہ پڑھنا چاہتے ہوں ،تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیجیے۔ طباعت شاندار اور خوب صورت ہے۔کتاب حاصل کرنے کے لیے9891729185پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*