مالی سے کہو باغ کو آندھی سے بچالے ـ رحمان فارس

کب تک مَیں کروں زخم شُمار ایک کے بعد ایک
مرتے ہی چلے جاتے ہیں یار ایک کے بعد ایک

مالی سے کہو باغ کو آندھی سے بچا لے
ہوجائیں نہ سب پھول شکار ایک کے بعد ایک

منہ زور سواری ہے جسے زندگی کہیے
گر جائیں گے سب شاہ سوار ایک کے بعد ایک

کیا قاتلِ بے رحم ہے یہ مرگِ مسلسل
کرتی ہی چلی جاتی ہے وار ایک کے بعد ایک

یہ درد کا دریا ہے مگر حوصلہ رکھو
سب لوگ اُتر جائیں گے پار ایک کے بعد ایک

ہے موت کے اس زہر کا تریاق فقط عشق
فارس ! سبھی چکھ لو یہ خمار ایک کے بعد ایک

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*