مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ:خصوصی این آئی اے جج نے آج باقاعدہ چارج سنبھال لیا، بم دھماکہ متاثرین نے جلد از جلد سماعت مکمل کرنے کی گذارش کی

متاثرین اور انصاف پسند عوام بارہ سالوں سے انصاف کے منتظر ہیں
ممبئی:مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ میں آج خصوصی این آئی اے جج نے باقاعدہ چارج لے لیا جس کے دوران بم دھماکہ متاثرین نے خصوصی جج سے جلد از جلد سماعت مکمل کرنے کی گذارش کی۔بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی)کی جانب سے آج ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے خصوصی این آئی اے جج پی آر سٹرے کو بتایا کہ بارہ سال کا عرصہ گذر جانے کے باوجود اس مقدمہ میں فیصلہ نہیں ہوسکا ہے لہذا عدالت جلد از جلد بقیہ گواہوں کو گواہی کے لیئے عدالت میں طلب کرکے مقدمہ کی سماعت کو تکمیل تک پہنچائے۔
ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ اس مقدمہ کا سامنے کررہے ملزمین میں سے چند ملزمین ہائی پروفائل ہیں اور وہ مقدمہ کی سماعت پر عدالت میں حاضر نہیں ہوتے لہذا عدالت کو انہیں عدالت کی کارروائی میں حصہ لینے کے لیئے حکم دینا چاہئے جس پر خصوصی جج نے انہیں یقین دلایا کہ حالات نارمل ہونے کے بعد جیسے ہی گواہان کی آمد شروع ہوگی تمام ملزمین کی عدالت میں حاضری کو یقینی بنایا جائے گا۔اس تعلق سے خصوصی جج نے وکیل استغاثہ اویناس رسال کو بھی کہا کہ وہ بقیہ سرکاری گواہان کی عدالت میں گواہی کے لیئے طلب کرنے کے لیئے اقدامات کریں نیز عدالت نے آج ملزمین کے وکلاء کو بھی حکم دیا کہ دوران سماعت ملزمین کی عدالت میں موجودگی ضروری ہوگی۔اس ضمن میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ گذشتہ بارہ سالوں سے بم دھماکہ متاثرین انصاف کا انتظار کررہے ہیں اور انہیں امید ہیکہ جس طرح سے سبکدوش جج ونوڈ پڈالکر نے مقدمہ کی کارروائی چلائی تھی اسی طرح یہ جج بھی مقدمہ کی سماعت روز بروز کی بنیادپر انجام دیں گے۔
انہو نے مزید کہا کہ یہ مقدمہ ایک الگ نوعیت کا مقدمہ ہے جس میں دو تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے عدالت میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے اور موجودہ تفتیشی ایجنسی NIA بھگوا ملزمین خصوصاً سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کو مقدمہ سے بری کرنے کے لیئے کوشش کرر ہی ہے لیکن سبکدوش جج ونوڈ پڈالکر نے تمام ملزمین کے خلاف چارج فریم کرکے مقدمہ کی سماعت شروع کردی تھی اور ایک قلیل وقفہ میں 140 سرکاری گواہان کے بیانات کا اندراج کرایا تھا لہذا انہیں امید ہیکہ موجود جج اسی نہج پر مقدمہ کو آگے بڑھائیں گے۔