ملالہ یوسف زئی کو شادی پر تعجب کیوں؟ ـ شکیل رشید

ملالہ یوسف زئی کو تعجب ہورہا ہے کہ بھلا لوگ شادی کیوں کرتے ہیں، ایک دوسرے کے پارٹنر بن کر کیوں نہیں رہتے! پتہ نہیں ملالہ کو اس سوال کا کیا جواب مطلوب ہے؟ ہوسکتا ہےکہ کوئی جواب مطلوب نہ ہو، ان کا بیان ہی خود جواب ہوکہ شادی کے بندھن میں بندھے بغیر رہنا زیادہ بہتر ہے۔ لیکن اگر کوئی جواب مطلوب ہے تو ملالہ کو جواب اپنے والدین سے مانگناچاہیے تھا، ان سے دریافت کرنا چاہیے تھا کہ بھلا آپ (دونوں اماں اور ابا) اتنے دنوں شادی کے بندھن میں بندھے رہ کر کیا حاصل کرپائے، کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ آپ دونوں بغیر شادی کیے ایک دوسرے کے ساتھی بن کر رہتے؟ شاید کوئی جواب، بہتر جواب مل ہی جاتا۔۔۔ویسے ملالہ کویہ پتہ ہونا چاچاہیے کہ شادی بھی ایک طرح کی پارٹنر شپ ہی ہے۔ دو انسان ایک دوسرے کے زندگی کے ساتھی بنتے اور ایک دوسرے کے جیون کی نیّا کو مسائل اور مصائب سے پار لگاتے ہیں۔ لیکن شاید یہی عمل، دونوں کا مل جل کر زندگی کی گاڑی کو آگے بڑھانا، مغرب کو نہیں بھاتا اور شاید ملالہ کو بھی اب نہیں بھارہا ہے کہ وہ مغرب ہی میں رہ رہی ہیں، لندن میں ان کی رہائش ہے اور آکسفورڈ میں تعلیم۔
اگر ہم برطانیہ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ مرد اور عورت کا بغیر شادی کیے ساتھ ساتھ زندگی گزارنا وہاں عام بات ہے۔ برطانیہ کی کل آباد میں ایسے جوڑوں کی تعداد کوئی 17.5فیصد ہے ۔ ایک اطلاع کے مطابق جدید دور کے برطانیہ میں جو بچے پیدا ہورہےہیں ان میں سے نصف غیر شادی شدہ جوڑوں کے ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں شادی شدہ جوڑوں کی اولادوں کے مقابلے غیر شادی شدہ جوڑوں کی اولادوں کا فیصد کہیں زیادہ ہوجائے گا۔ غیر شادی شدہ جوڑوں کے ’حقوق‘ پر کوئی آنچ نہ آئے اس کےلیے حالیہ برسوں میں وہاں نئے قوانین بھی بنائے گئے ہیں، لیکن اگر ایسے جوڑے برسوں ساتھ رہ کر الگ الگ رہنے کا فیصلہ کریں یا ایک ساتھی کی موت ہوجائے تو جائیداد میں دوسرے کو، اس طرح جیسے شادی شدہ جوڑوں کو مل سکتا ہے، حصہ نہیں ملتا۔ ان کے بچے بھی بہت ساری سہولیات سےمحروم رہ جاتے ہیں۔ امریکہ میں بھی غیر شادی شدہ جوڑوں اور اس کے ساتھ ان جوڑوں سے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ایسے جوڑوں کی تعداد 112ملین (ایک ملین دس لاکھ کے برابر ) ہے۔ یعنی کل آبادی کا 47 فیصد بغیر شادی کیے زندگی گزار رہا ہے۔ زیادہ تر گھرانوں میں غیر شادی شدہ جوڑوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ یہ شادیاں دو وجوہ سے ہوتی ہیں ایک تو لڑکے اور لڑکیاں دونوں خود پر والدین کے ذریعے کسی کو ’تھوپنا‘ پسند نہیں کرتے اور دوسری وجہ، جو زیادہ اہم ہے یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی ذمے داریوں سے بچناچاہتے ہیں۔ گھر چلانے کی ذمہ داری، کمانے اور بچوں کو سنبھالنے کی ذمہ داری، اور دیگر گھریلو ذمے داریاں۔۔۔ایک وجہ یہ ہے کہ ’زنا‘ عام ہونے سے شادی جیسے ادارے کا تقدس ختم ہوگیا ہے۔ پھر شادیاں بہت ہی مہنگی ہوگئی ہیں، مردوں کو شادی کے بعد بیویوں کو بہت سارے حقوق دینا پڑتے ہیں اور اگر طلاق ہوئی تو عام طور پر مردوں کے ہاتھوں سے ان کے گھر چھن جاتے ہیں۔ لوگ بغیر شادی کے رہنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھتے ہیں۔ جوفرد جس سماج میں رہتا ہے اس سماج کے اثرات قبول کرتا ہے، ممکن ہے ملالہ کے ذہن پر اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے خیالات کے اثرات پڑے ہوں، مگر ملالہ کو چا ہیے کہ وہ اپنےد وستوں کے نہیں اپنے والدین کے نقش قدم پر چلے کہ ’پارٹنر‘ بننے کے مصائب اور مسائل سے بہتر شادی کا ’بندھن‘ ہی ہے۔