ملالہ : ہنگامہ ہے کیوں برپا؟ـ مسعود جاوید

ملالہ یوسف زئی ایک ٢٣,سالہ پاکستانی دوشیزہ ہے جو عالمی خبروں میں اس وقت آئی تھی جب ٢٠١٢ میں مبینہ طور پر بعض شدت پسند پاکستانی طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم رہنے کے لیے اس پر قاتلانہ حملہ کیا تھا‌۔ مغربی ممالک نے جہاں ایک طرف اس حملے کی مذمت کی تھی وہیں دوسری طرف اسے علاج کے لیے والدین کے ساتھ بذریعہ طیارہ برطانیہ بلایا تھا۔ اس وقت سے وہ برطانیہ میں اپنے والدین کے ساتھ سکونت پذیر ہے، آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کی ، لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ایک عالمی رفاہی تنظیم چلاتی ہے اور اسی لیے اسے ہندوستان میں بچہ مزدوری کے خلاف کام کرنے والے کیلاش ستیارتھی کے ساتھ جوائنٹلی نوبل انعام سے بھی نوازا گیا ہے۔
چند روز قبل ایک برطانوی فیشن میگزین کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے ملالہ نے کہا ” مجھے اب تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں”؟ اگر آپ اپنی زندگی میں کسی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے نکاح نامہ پر دستخط کی کیا ضرورت ہے ؟ صرف پارٹنر بن کر کیوں نہیں رہ سکتے؟” اس نے کہا کہ لیکن اس کی ماں دیگر ماؤں کی طرح اس راۓ کو ناپسند کرتی ہے وہ کہتی ہے ایسا کہنے کی جرأت بھی نہیں کرنا، شادی ایک خوبصورت بندھن ہے۔”…. والد کے پاس ای میل کے ذریعے پاکستان سے شادی کے پیغام آتے رہتے ہیں۔
پاکستان میں اس پر ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے بالخصوص سوشل میڈیا پر گھمسان مچا ہے۔ لوگ لکھ رہے ہیں کہ "ملالہ کے بیان کی وجہ سے پاکستان کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ کاش جس وقت اس پر گولی چلائی گئی تھی اسی وقت وہ مر جاتی” وغیرہ وغیرہ !

پہلی بات یہ کہ بھائی اس سے زیادہ خطرناک بیانات ہی نہیں ٹاک شو، نعرے اور سڑکوں پر مظاہرے ” میرا جسم میری مرضی ” والیاں ہر سال آپ کے یہاں کرتی ہیں اور اپنی عملی آزادانہ زندگی کی داستانیں سناتی ہیں کیا اس وقت بھی مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سر شرم سے جھکتا ہے۔ ایسی بے شرمی کے مظاہرے دنیا بشمول ہندوستان میں شاید کہیں نہیں ہوتے۔
پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے قیام کے ٧٤ سال ہو گئے مگر ابھی تک یہ طے نہیں ہو پایا اس ملک کا رنگ و روپ کیا ہوگا؟ کیا جیسا کہ آفیشیل نام ہے اسلامی جمہوریہ ویسا کام بھی ہوگا یا ایک مغربی طرز کی سیکولر ریاست ہے؟ پچھلے دنوں پاکستان کے ارباب حل و عقد نے عربی زبان اور اسلامیات اسکول کے نصاب میں شامل کرنے پر معترض تھے ایک صاحب غالباً ممبر پارلیمنٹ (اسمبلی) نے کہا کہ یہ ملک کے سیکولر اقدار کے منافی ہے ! کیا اس پر بھی ہنگامہ ہوا تھا !
ہمارے یہاں ڈی اے وی اسکول میں ہون اور پوجا پاٹ ہوتا ہے سبھی بچے بلا تفریق مذہب اس میں شریک ہوتے ہیں۔ میں چونکہ پیرنٹس ٹیچرز اورینٹیشن پینل پر تھا اس لیے بڑی مشکل سے اپنے بچوں کے لیے چھوٹ دلائی تھی۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ایسے اسکول میں مسلم بچوں کو نہیں ڈالنا چاہیے۔ درست ہے۔۔۔ مگر کیا آپ کا کوئی معیاری اسکول ہے ؟ جامعہ نگر میں متعدد مسلم انگلش میڈیم اسکول ہیں لیکن وہ چند کمروں میں چل رہے ہیں ۔ نہ ان کے پاس کھیل کود کا میدان ہے نہ سائینس اور کمپیوٹر لیب اور نہ بی ایڈ، ٹی جی ٹی ؛ ٹرینڈ ٹیچرز ۔ محض بی اے پاس ہاؤس وائف ٹیچر ہیں جنہیں اسکول پانچ سات ہزار دیتا ہے۔ یہ اسکول ریکگنائزڈ بھی نہیں ہیں۔ جامعہ نگر کی اتنی بڑی آبادی میں ایک بھی سی بی ایس ای اسکول نہیں ہے۔ متبادل آپ دیں گے نہیں مگر اعتراض ضرور کریں گے کہ اس اسکول میں نہ بھیجو۔

دوسری بات یہ کہ ملالہ یوسف زئی محض ایک پاکستانی شہری ہے۔ لیکن یہ پتہ نہیں کب تک وہ پاکستانی شہری رہے گی وہ پاکستان لوٹنا چاہتی ہے تو پاکستانی حکومت کہتی ہے اس کی جان کو خطرہ ہے ملک میں حالات ٹھیک ہونے دو۔ کنڈا نے اسے اعزازی شہریت دی ہے۔ ۔۔ ملالہ کوئی پاکستان کی نمائندہ نہیں ہے، اتھارٹی نہیں ہے۔ وزیر نہیں ہے، کسی ذمہ دار عہدے پر فائز نہیں ہے، کوئی مفتی مولوی نہیں ہے۔ اس نے اپنی ذاتی سوچ کا اظہار کیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس کی ذاتی سوچ دنیا کے تمام مذاھب اور بیشتر سماج میں رائج نظام زندگی کے منافی ہے۔ ہمارے یہاں ایک فلم اداکارہ جو بعد میں ممبر پارلیمنٹ بھی بنی اس نے اعلانیہ ایک غیر مسلم سے ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کی تو کیا اس سے اسلام یا مسلمانوں پر کوئی آنچ آئی ؟ ظاہر ہے نہیں اس لیے کہ دنیا کے ہر ملک میں جہاں جہاں مسلمان پاۓ جاتے ہیں ان کے اعمال میں تفاوت پایا جاتا ہے۔ کوئی مکمل طور پر اتباع کرتا ہے، کوئی آدھا ادھورا اور کوئی بالکل نہیں ہاں اس کا نام مسلمانوں جیسا ہوتا ہے۔ کتنے ایسے مسلمان ہندوستان، پاکستان، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں ہیں جو دنیا کی ہر برائی جھوٹ، فریب، ملاوٹ، شراب، زنا، اسمگلنگ وغیرہ میں ملوث ہیں۔ اسلام کی حقانیت اور اسلامی تعلیمات کی سماجی افادیت کے لیے ان کے اعمال ہمارے اور اوروں کے لیے نمونے نہیں ہیں۔ اور عقیدہ اور عمل میں تضاد ہر مذہب کے پیروکاروں میں ہے۔ اسی لیے جارج برنارڈ شا نے کہا تھا کہ دنیا کا بہترین مذہب اسلام ہے اور بدترین پیروکار مسلمان۔

ملالہ ایک سلیبریٹی ہے ممکن ہے بعض نوجوان لڑکے لڑکیاں اس کی فضول کی ذاتی رائے سے اثر لیں اس لیے ملالہ اور اس جیسے مردو خواتین کے لیے نکاح کے ساتھ زندگی گزارنا کیوں ضروری ہے اس پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔
” گھر تو گھر والی سے ہوتا ہے ”
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں فرمایا ۔وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ ۔ اور اس(اللہ) کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم میں سے ہی بیویاں پیدا کیا تاکہ تم اس میں سکونت اختیار کر سکو،۔۔۔ یہ سکونت اختیار کرنے کی صفت بیوی کے ساتھ خاص کیا ہے شوہر کے ساتھ نہیں۔ کتنے مرد ایسے ہیں جن کے پاس دولت ہے، شہرت ہے، صحت ہے، وقار ہے اور معاشرے میں مقام ہے کئی کئی ولے، کوٹھیاں، فلیٹس اور کئ کئ گرل فرینڈز ہیں مگر ایک عدد بیوی کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ سکینت، سکونت اور حقیقی رہائش گاہ سے محروم ہے۔ پارٹنر اور منکوحہ لائف پارٹنر ( رفیق حیات/ رفیقہ حیات) میں فرق ہے۔ نکاح کے ساتھ پارٹنر کے تین مقاصد ہیں : ١- جنسی خواہشات کی تکمیل ٢- افزائش نسل اور سب سے اہم ٣- سکینت، سکونت، مودت اور رحمت۔۔۔ اللہ نے شوہر کے لیے بیوی کو اور بیوی کے لیے شوہر کو لباس بنایا ہے۔ لباس جو سردی سے گرمی سے بارش سے جسم کی حفاظت کرتا ہے۔ لباس جسم کے عیوب کو چھپاتا ہے۔ ننگ کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ اللہ نے شوہر کو بیوی کے لیے اور بیوی کو شوہر کے لیے اسی مفہوم کی ادائیگی کے لیے یہ تعبیر سے نوازا ہے کہ شوہر بیوی کے عیوب کی پردہ پوشی کرے اور بیوی شوہر کے عیوب کی۔ شوہر بیوی کو سرد گرم ہواؤں اور بارش سے تحفظ فراہم کرے اور بیوی شوہر کو الخ۔

بیوی سکینت اور حقیقی ازدواجی رہائش گاہ ہے وہ اس طرح کہ اس کے پاس ایک کمرہ نرمی مہربانی کا ہے، ایک کمرہ محبت و الفت کا ہے، ایک کمرہ زنا سے حفاظت کا ہے، ایک ریسیپشن روم تھکا ماندہ شوہر آۓ تو مسکراہٹ کے ساتھ ویلکم کرنے کا ہے، ایک کمرہ آرام کا ہے، ایک نرسنگ روم ہے، ایک تفریح انٹرٹینمنٹ روم ہے، ایک فیڈنگ روم اور پینٹری ہے ایک کمرہ دکھ درد شیئر کرنے کا ہے، ایک ہوم ایڈمنسٹریشن روم ہے۔ بیوی کو اللہ نے ایسا ٹھکانہ بنایا ہے۔

ادھر ادھر منہ مارنا اور لیو ان ریلیشن شپ اس مقدس بندھن کا بدل ثابت نہیں ہوا یہ لوگوں نے تجربات کر کے دیکھ لیا ہے۔ اور دنیا یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ لیو ان ریلیشن شپ کی وجہ سے کئی طرح کے سماجی اور قانونی مسائل سامنے آ رہے ہیں بالخصوص بچے اور جائیداد سے متعلق کئی طرح کی پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔
آسائش کے تمام اسباب سے مزین مکان میں اگر بیوی نہ ہو اس کا خالی پن کا صحیح اندازہ لگانا ہو تو اس سے ملیں جس کی بیوی فوت ہو گئی ہو۔ دوست، نوکر چاکر خانساماں میڈ اور خادم و خادمہ کے باوجود وہ کیسا محسوس کرتا ہے یہ جاننے کی کوشش کریں گے تو نکاح کی ضرورت، اہمیت اور افادیت کا پتہ چلے گا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*