مجلس نے بہار کی مسلم سیاست کا رخ بدل دیا،مستقبل کے کیا امکانات ہیں؟

پٹنہ:17ویں بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد مسلم سیاست میںایک بھونچال سا آگیا ہے۔اس بار بر سر اقتدار پارٹی سے ایک بھی مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہوپائے۔جس کے سبب حکمراں جماعت کے مسلم لیڈروں میں زبردست مایوسی اوراضطراب کی کیفیت ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین نے سیمانچل کی سیاست بدل دی ہے۔ پہلی بار اس کے پانچ اراکین اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔حکمراں جماعت کے شکست فاش سے دوچار امیدوار اس موضوع پر محاسبہ کررہے ہیں۔آنے والے دنوں میں ایم آئی ایم کی برتری کو کیسے کم کیا جائے اس پر غور وخوض جاری ہے۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اس بار صرف 19مسلم امیدوارکامیاب ہوئے ہیں حکمراں جماعت سے ایک بھی امیدوار کامیاب نہ ہونے کے سبب جے ڈی یو سربراہ اور بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمارسے آنکھ میں آنکھ ملا کر بات کرنے کے لائق بھی نہیں رہ گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ نتیش وزارت میں مسلم نمائندگی صفرہے۔ سب سے زیادہ ایم آئی ایم کے پانچ امیدواروں کی کامیابی کی چرچا ہوئی۔ایم آئی ایم نے سیمانچل کی سیاست کو پوری طرح سے بدل کر رکھ دیا۔ وہیں سیمانچل میں پہلے سے موجود جے ڈی یو، آرجے ڈی اور کانگریس کے لیڈروں کو کئی جگہ ہار کا سامنا کرنا پڑا۔خاص طور سے جے ڈی یو کی کراری ہار کو پارٹی کے مسلم لیڈر بھلا نہیں پا رہے ہیں۔کشن گنج کے کوچادھامن سے جے ڈی یو کے ایم ایل اے رہے مجاہد عالم کا کہنا ہی کہ نتیش کمار نے بہار کے مسلمانوں کی فلاح کے لئے کافی کام کیا۔ سیمانچل کی ترقی کے تعلق سے بھی موجودہ حکومت بیحد سنجیدہ رہی لیکن انتخابات میں جے ڈی یو کو ووٹ نہیں ملا اور ہم انتخاب ہار گئے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہی کہ سیمانچل سے ہمارا وجود ختم ہوگیا۔ ہم تجزیہ کر رہے ہیں اور لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ کام کو دیکھ کر وہ جے ڈی یو کی حمایت کریں۔سابق ایم ایل اے مجاہد عالم نے یہ بھی کہاہے کہ سیمانچل میں ایم آئی ایم کا جھوٹا نعرہ زیادہ دنوں تک نہیں چلے گا۔ لوگ ایک بار پھر سے جے ڈی یوپربھروسہ کریں گے۔ مجاہد عالم نے کہا کہ سیمانچل کے لوگ اس بار ایم آئی ایم کے جھانسے میں آگئے تھے لیکن اب سے ایسا نہیں ہوگا۔ مجاہد عالم نے یہ بھی کہا کہ ضمنی انتخاب میں پہلی بار کشن گنج کی سیٹ پر ایم آئی ایم نے جیت حاصل کی تھی لیکن اگلے ہی انتخاب میں ایم آئی ایم نے وہ سیٹ گنوا دی اسی طرح آئندہ ہونے والے انتخاب میں ایم آئی ایم کا سیمانچل سے صفایا ہو جائے گا۔ سیمانچل میں جے ڈی یو کے مسلم لیڈر اس علاقہ میں باقاعدہ مہم چلائیں گے اور عام لوگوں کو حکومت کے منصوبوں کی جانکاری دیں گے۔سیمانچل مسلم اکثریتی حلقہ ہے جہاں سے زیادہ تعداد میں مسلمان اسمبلی یا پارلیامنٹ پہنچے ہے اس لیے آنے والے دنوں میں حکمراں جماعت کو اس علاقے کی ہمہ جہت ترقی کے لیےٹھوس حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ رائے دہندگان اس طرف متوجہ ہوں۔