مجلس اتحاد المسلمین کا سماجوادی جنتادل سے اتحاد:چند مخلصانہ مشورے ـ مظاہر حسین عماد عاقب قاسمی

مجلس اتحاد المسلمین تلنگانہ کی پارٹی ہے اور وہ تلنگانہ میں صرف حیدرآباد کے سات اسمبلی حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کرتی ہے ، اور تقریبا چالیس سالوں سے ہربار تین تاسات سیٹیں حاصل کرتی ہے،1984 سے حیدرآباد کی لوک سبھا سیٹ اس کے پاس ہے ـ

بہار کی مجلسی سیاست:
2105 کے بہار اسمبلی الیکشن میں مجلس نے مشرقی بہار کے کشن گنج اور ارریہ وغیرہ اضلاع کے چھ سیٹوں پر انتخاب لڑا تھا ، مگر ایک سیٹ پر بھی کامیابی نہیں ملی تھی ـ

اختر الایمان کی مقبولیت:
کوچادھامن سیٹ سے بھی مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اختر الایمان صاحب کامیاب نہیں ہوپائے تھے ، اور وہ دوسرے نمبر پر تھے ، وہاں سے جنتادل کے مجاہد عالم کامیاب ہوئے تھے ، اختر الایمان صاحب 2010 میں راشٹریہ جنتادل کے ٹکٹ سے کوچادھامن سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے ، اس سے قبل قریبی سیٹ کشن گنج اسمبلی سیٹ سے 2005 فروری اور 2005 اکتوبر کے الیکشن میں بھی وہ کامیاب ہوئے تھے ، 2014 میں انہوں راشٹریہ جنتادل چھوڑ کر جنتادل جوائن کیا تھا ، جنتادل نے انہیں 2014 میں کشن گنج پارلیمانی حلقے سے امیدوار بنایا تھا ، پرچہ نامزدگی داخل کرنے اور پرچہ نامزدگی کی واپسی کی تاریخ گذر جانے کے بعد انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر یا پبلک کے دباؤ میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ کا نگریس کے امیدوار مولانا اسرار الحق قاسمی صاحب رح کی حمایت کرتے ہیں اور اپنی امیدواری واپس لیتے ہیں ، تاکہ بی جے پی کامیاب نہ ہو ـ
یہ بتاتے چلیں کہ کشن گنج ضلع میں صرف چار اسمبلی سیٹیں ہیں ، کشن گنج میں چھیاسٹھ فیصد سے زائد مسلمان ہیں اور اکثریت غریبوں کی ہے ، تینتیس فیصد غیر مسلم ہندو ہیں وہ مالدار اور منظم ہیں اور غیر مسلم پوری کوشش کرتے ہیں کہ یہاں سے بی جے پی کامیاب ہوجائے ، مگر وہ 1957 سے ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکے ہیں ،صرف 1999 میں بی جے پی کے شہنواز حسین کشن گنج پارلیمانی حلقے سے کامیاب ہوگئے تھےـ
جب دوہزار چودہ کے پارلیمانی الیکشن کا رزلٹ آیا تو واضح ہوا کہ مولانا اسرار الحق قاسمی صاحب نے 493461 (53.15فیصد) ووٹ حاصل کرکے شاندار کامیابی حاصل کی تھی ، دوہزار نو کے مقابلے میں انہیں چودہ فیصد سے زیادہ ووٹ ملے تھے ، دوسرے نمبر بی جے پی تھی جسے 298848( 32.19 فیصد) ووٹ ملے تھے ،تیسرے نمبر پر اختر الایمان صاحب تھے انہیں 55822( 6.01 فیصد) ووٹ ملے تھےـ اختر الایمان صاحب کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے یہ امید تھی کہ وہ کسی بھی پارٹی سے یا بطور آزاد کشن گنج کی کوئی بھی سیٹ جیت سکتےہیں ، مگر 2015 میں مجلس کے ٹکٹ پر کوچادھامن سے ان کی ہار نے بہت سارے لوگوں کے اس بھرم کو چکناچور کردیا ، دوہزار پندرہ کے اسمبلی الیکشن میں مجلس کو کل 80248 ووٹ ملے تھے ـ

مجلس کے پر جوش ہونے کے اسباب:

1- دوہزار انیس کے الیکشن سے قبل مولانا اسرار الحق صاحب قاسمی کی وفات کے بعد عام الیکشن میں کشن گنج لوک سبھا حلقے سے کشن گج کے ممبر اسمبلی محمد جاوید کو کا نگریس نے اپنا امیدوار بنایا ، اس الیکشن میں بھی امید تھی کہ آختر الایمان صاحب مجلس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوجائیں گے ، مگر خلاف توقع جاوید صاحب کامیاب ہوگئے ،انہیں367017 (33.32 فیصد) ووٹ ملے، مگر اختر الایمان صاحب کو بھی 295029( 26.78 فیصد) ووٹ ملے اور وہ تیسرے نمبر پر تھے ، جنتا دل یو کے سید محمود مرحوم( وہ ایک سال قبل انتقال کرگئے) کو 332552 ( 30.19) ووٹ ملے تھےـ

2- جاوید صاحب کے ممبر پارلیمنٹ بن جانے سے ان کی اسمبلی سیٹ کشن گنج اسمبلی سیٹ خالی ہوئی ،اور وہاں ضمنی الیکشن میں مجلس کے قمر الہدی صاحب کامیاب ہوگئےـ

کشن گنج لوک سبھا سیٹ پر تقریباً تین لاکھ ووٹ حاصل کرلینے اور ضمنی الیکشن میں کشن گنج اسمبلی سیٹ پر کامیابی حاصل کر لینے کے بعد مجلسی لیڈران کے حوصلے بلند ہیں ـ

3- پارلیمینٹ میں اسد الدین اویسی صاحب کی بے باکی نے بہت سے نوجوانوں کو ان کا دیوانہ بنادیاہے ، ( ہم بھی ان کے دیوانے ہیں مگر ہم باہوش دیوانے ہیں اور مجلس کی تلنگانہ والی باہوش سیاست چاہتے ہیں )
لہذا مجلس بہار کی زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر الیکشن لڑنا چاہتی ہے ،
خبریں یہ بھی آئیں کہ مجلس بہار کی تمام دوسو تینتالیس سیٹوں پر انتخاب لڑے گی، پھر خبریں یہ آئیں کہ مجلس پورے بہار کے مختلف علاقوں میں چالیس تا پچاس سیٹوں پر انتخاب لڑے گی، پھر دل بدلنے میں اکسپرٹ سابق وزیراعلی بہار ، اور دلت لیڈر جیتن رام مانجھی کے ساتھ اتحاد کے لیے ملاقاتوں کی تصویریں اور خبریں شائع ہوئیں ـ مگر جیتیں رام مانجھی اپنے پرانے کرم فرما نتیش کمار وزیر اعلی بہار کی چرنوں میں سجدہ ریز ہوگئے ، اور بی جے پی اتحاد کا حصہ بن گئے ـ اب تازہ خبر یہ ہے اور اس کی ویڈیو بھی آگئی ہے ، کہ مجلسی قائدین نے دیویندرپرساد یادو بانی سماجوادی جنتادل ڈیموکریٹک سے اتحاد کیا ہے ـ
دیویندرپرساد یادو کون ہیں:
دیویندرپرساد یادو مدھوبنی ضلع کے ہیں اور چھیاسٹھ سال کے ہیں ـ
1977-79 وہ مدھوبنی کے پھول پراس اسمبلی حلقے سے جنتاپارٹی سے ممبر اسمبلی تھے ، سابق وزیر اعلی بہار کرپوری ٹھاکر کے لیے انہوں نے اسمبلی سیٹ سے استعفی دے دیا تھاـ1978-89 وہ بہار قانون ساز کونسل کے ممبر ( MLC) تھے ـ 1989،1991,1996,1998اور 2004 کے لوک سبھا انتخابات میں وہ مدھوبنی ضلع کے جھنجھارپور لوک سبھا حلقے سے منتخب ہوئے تھے ، 1997میں راشٹریہ جنتادل بننے کے بعد وہ راشٹریہ جنتادل میں آگئے تھے ، اس سے قبل وہ 1989تا 1997جنتادل میں تھے،وہ 1996-98 میں قائم دیوگوڑا اور گجرال حکومتوں میں وزیر خوراک وغیرہ بھی رہے ہیں ـ2010 میں انہوں نے راشٹریہ جنتادل چھوڑ کر سماجوادی جنتادل ڈیموکریٹک قائم کی ، مگر 2014 میں وہ جنتا دل یو میں شامل ہوگئے ، اور اپنی پارٹی کو جنتادل یو میں ضم کرلیاـ

سماجوادی جنتادل ڈیموکریٹک کی حالت:
سماج وادی جنتا دل ڈیموکریٹک ایک بہت ہی غیر معروف اور غیر مشہور پارٹی ہے ، اور اس کے لیڈر دیویندر پرساد بھی بہت ہی زیادہ غیرمشہور ہیں ، اس پارٹی کے ساتھ اتحاد سے مجلس اتحاد المسلمین کا کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے ، البتہ مدھوبنی اور دربھنگہ وغیرہ کے کچھ حلقوں میں مسلمانوں کا ( مجلس سے جڑے جوشیلے نوجوانوں کا) کچھ ووٹ دیویندر پرساد کی پارٹی کو جائے گا ، اور ہوسکتا ہے اس سے کچھ جگہوں پر بی جے پی اتحادکو فائدہ اور آرجے ڈی اتحاد کو نقصان ہوجائے گاـ

مخلصانہ مشورہ:
میرا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ
مجلس کو چاہیے کہ وہ کسی بھی چھوٹی پارٹی سے اتحاد نہ کرے ، سیمانچل کے ایک درجن حلقوں پر اکیلے انتخاب لڑے اور ان پر کامیاب ہونے کی کوشش کرے ، اور اپنی پوزیشن اتنی مضبوط کرے کہ آئندہ انتخابات میں آر جے ڈی اور کانگریس جیسی پارٹیاں اس سے اتحاد پر مجبور ہوں ـ
ان حلقوں میں جو چھوٹی پارٹیاں ہیں ان سے علاقائی طور پر اتحاد کرے ، بہتر یہ ہوگا کہ پپو یادو سے اتحاد کرے ، وہ سماجی خدمت میں مشہور ہیں وہ کئی بار مختلف حلقوں سے پارلیمانی الیکشن جیت چکے ہیں ، اور وہ سیمانچل سے ہی تعلق رکھتے ہیں ـ مجلس موجودہ حالات میں پورے بہار میں اپنے امیدوار کھڑے کرکے ماحول کو کشیدہ نہ بنائے ـ
آخر کیا وجہ ہے کہ اویسی صاحب پورے تلنگانہ میں اسمبلی اور پارلیمانی الیکشن میں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کرتے ، مگر بہار اور یوپی جیسے حساس صوبوں میں تمام سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا غیر دانشمندانہ کام کرتے ہیں ، قائد ملت جناب اسد الدین صاحب سے گذارش ہے کہ جو حکمت عملی تلنگانہ میں اپنائی ہے ، وہی حکمت عملی دوسرے صوبوں میں بھی اپنائیےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*