مجلس اتحاد المسلمین اور بہار الیکشن:ذرا سنجیدگی سے سوچیں!- محمد طہ قاسمی

بہار الیکشن میں مجلس سے ہونے والے نقصان کو صرف چند جملوں میں سمجھ لیجیے۔ سیمانچل کشن گنج اور اس کے ارد گرد کے اضلاع کو کہتے ہیں اور متھلانچل دربھنگہ کے علاقے کو۔ سیمانچل میں اتحاد المسلمین کے خوف سے متھلانچل میں اتحاد الہنود ہوگیا،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیمانچل میں بھی این ڈی اے کو بارہ سیٹیں مل گئیں اور متھلانچل پورا کا پورا این ڈی اے کی جھولی میں چلا گیا۔
بھائی یہ سیاسی میدان ہے، جنگی میدان نہیں اور سیاسی میدان جب کہ اس کا تعلق جمہوریت سے ہو، سروں کو شمار کیا جاتا ہے۔ حوصلوں اور صلاحیتوں کو نہیں۔ یہ جنگ نہیں سیاست ہے، جہاں گرم جوشی سے نہیں بلکہ زمینی حقائق اور بنیادی حقوق کی لڑائی سے میدان جیتا جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ مسلم سیاسی پارٹی ہی قائم کی جائے وہ بھی ایسے نازک دور میں جب سی اے اے جیسا قانون پاس ہوچکا ہو۔
ایسی صورت میں اس پارٹی کو بھی آگے لایا جاسکتا ہے،جو مسلم مائناریٹیز کے لیے ہمیشہ آگے رہی ہے۔ اگر آپ مسلمانوں کو متحد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یقینا یہ ایک بہترین کاوش ہے، مگر یہ کوشش دیر سے ہورہی ہے،بلکہ بہت دیر سے۔ آپ کا کل ووٹ 15 سے 30 فیصد ہے، کہیں یہ تعداد 40 یا اس کے اوپر تک پہنچ جاتی ہے۔ ایسے ہی کہیں 50 فیصد کے آس پاس بھی رہتی ہے۔ لیکن فی الحال نتیجہ کیا ہوگا؟ آپ کے ووٹ اولا تو متحد نہیں ہوں گے۔ اگر ہوں گے بھی تو جہاں آپ کے ووٹ متحد ہوئے آپ کی جارحانہ تقریروں سے سیکولر اور نرم مزاج برادران وطن آپ کو ووٹ نہیں دیں گے، یعنی متحد ہوکر بھی آپ بے معنی ہوجائیں گے۔ اسی طرح جو نرم مزاج اور سیکولر ہندو آپ کے ساتھ رہنے کے لیے تیار تھے وہ بھی بدک جائیں گے۔
جو لوگ کشن گنج کی مثال دے رہے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کشن گنج کی مثال ملک کے شاید ہی کسی دوسرے ضلع کے لیے دی جا سکے، کیوں کہ وہاں 60 سے 70 فیصد بلکہ اس سے زیادہ ووٹ فیصد کی بات کی جاتی ہے،لیکن آپ کشن گنج کے علاوہ کہیں اور تو متحد ہوئے نہیں۔ ہاں متھلانچل جہاں آپ کی آبادی بھی ٹھیک ٹھاک تھی اور نمائندگی بھی ٹھیک ٹھاک رہتی تھی، وہاں زیرو پر کلین بولڈ ہوگئے۔
ایسی صورت میں سیمانچل کے مسائل حل ہوں یا نہ ہوں، متھلانچل میں مسلمانوں کے لیے مسائل ضرور کھڑے ہوں گے۔ کسی کو یاد ہے کہ
جن سنگھ نام کی بھی کوئی پارٹی ہوتی تھی،اس کا نام بدل دیا گیا تھا،کیوں؟ اس کو بھی پڑھیے گا۔
یہ ذہن میں رکھیے کہ ہم عربستان میں نہیں، ہندوستان میں زندگی گذار رہے ہیں،جہاں ہم اکثریت میں ہیں، ہمیں وہاں بھی سیاسی قوت حاصل کرنی ہے اور جہاں پانچ سے دس فیصد کی تعداد میں ہیں وہاں بھی اور یہ کام بنا سیکولر برادرانِ وطن کو ساتھ لیے نہیں ہوسکتا ہے۔
یاد رکھیے!جب جب بات اتحاد المسلمین کی آئے گی، تب تب اتحاد الہنود دو گنا اور تین گنا رفتار سے ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلموں کے درمیان اتحاد تقریباً ناممکن ہے۔ اگر ہو بھی جائے تو پھر ان کے درمیان مسلک کے ٹھیکیدار آجائیں گے۔ اس لیے سیاست کیجیے، جنگ نہیں۔ شطرنج کی بساط میں نہ کوئی ورزش ہے نا ہو ہلہ!

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*