مجلہ ”عکس ”کا مولانا اعجاز احمد اعظمی نمبر ـ ضیاء الحق خیرآبادی

زیر نظر کتاب ( مجلہ ”عکس ” مولانا اعجاز احمد اعظمی نمبر)استاذ محترم مولانا اعجازاحمد صاحب اعظمی علیہ الرحمہ کی جامع کمالات شخصیت کا تعارف اور ان کی دینی وعلمی خدمات کا بہترین مرقع ہے ۔ مولانا کس پایہ کے عالم ، کیسے مدرس و مربی ، مقرروخطیب اور مصنف وادیب تھے ، اس کا کسی قدر اندازہ اس سے ہوسکے گا۔
یہ مجلہ ٥٢٠ صفحات پر مشتمل ہے ۔ ابتدا میں١٤ صفحات پر مشتمل مضامین کی مفصل فہرست ہے۔اس کے بعد مدیر تحریر مولانا عرفات اعجازاعظمی نے اداریہ میں اس مجلہ میں شائع ہونے والے مضامین اور مولانا کی وفات کے بعد ان پر ہونے والے کاموں کابہترین انداز میں تعارف کرا یا ہے ۔ پھرمقالات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ، پہلا مقالہ حضرت مولانا کے شاگرد رشید، معروف صاحب قلم مولانا اختر امام عادل صاحب کا ہے ، جو ٤٠ صفحات پر مشتمل ہے ، جس میں انھوں نے الگ الگ موضوعات کے تحت مولانا کی علمی خدمات کا بہترین تجزیہ پیش کیا ہے ۔ پہلا موضوع ” قرآنی بصیرت وخدمات ہے ۔ دوسرا ”علم حدیث اور خدماتِ جلیلہ ” ہے ۔ تیسرا ” مولانا کا تفقہ اور خدماتِ فقہیہ” ہے ۔ چوتھا ” علم تصوف واخلاق اور خدمات جلیلہ ” ہے۔ پانچواں ” علم کلام اور معقولات ” ہے ۔ اس میں ہر موضوع پر موجود ودستیاب مولانا کی تحریروں اور اپنے مشاہدات کی روشنی میں نہایت سیر حاصل بحث کی ہے ، اس سے مولانا کے بلند علمی مقام کا اندازہ ہوتا ہے ۔مولانا کی علمی حیثیت کے بارے میں جو لوگ جاننا چاہتے ہیں ان کے لئے اس کا مطالعہ انتہائی مفید ہوگا۔
اس کے بعد ڈاکٹر کلیم عاجز صاحب کی ان متفرق تحریروں کو یکجا کیا گیا ہے ، جو ان کے مختلف مضامین ومکاتیب میں مولانا کے متعلق ہیں ۔ اس کے بعد مولانا کے دوست اور ان کے ساتھ طویل عرصہ تک ساتھ رہنے والے مولانا انوار احمد صاحب اعظمی کا مضمون ہے،جو ٣٢ صفحات پر مشتمل ہے ، جس میں مولانا کے مختلف کمالات وخصوصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے ، اس میں بعض معلومات تو ایسی ہیں جن کا علم مجھ جیسے قریب رہنے والے کو بھی پہلی باراسی مضمون سے ہوا۔ بہترین اور لائق مطالعہ مضمون ہے۔
تیسرا مضمون میرا ہے جو تقریباً ١٢٠ صفحات پر مشتمل ہے ، ” مولانا اعجاز احمد صاحب اعظمی : محاسن وکمالات اور میرے مشاہدات وتاثرات”میں نے اس میں مولانا سے متعلق اپنی یادوں کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے ، اس سے مولانا کے علم وفضل ، انداز تدریس و تربیت ، ذوق ومزاج اورافکار ونظریات کا علم ہوتا ہے،مضمون کے اخیر میں ان کے متعلق اکابر علما کی آرا وخیالات کو بھی میں نے جمع کردیا ہے کہ یہ معلوم ہوکہ ان اکابر کی نگاہ میں مولانا کا کیا مقام تھا ۔ اس سے پہلے مولانا کی شخصیت پر شائع ہونے والے مجلہ ” سراپا اعجاز ” میں بھی ایک مفصل مضمون میں نے لکھا تھا ، تکرار سے بچنے کے لئے اُس مضمون کا کوئی حصہ اس میں نہیں لیا ہے۔
اس کے بعد مولانا سعداللہ صاحب قاسمی(مدھوبنی) کامضمون ” کچھ یادیں ، کچھ باتیں ” ہے ۔ جو ١٥ صفحات پر مشتمل ہے۔اس کے بعد مدیر مسئول مولانا قمر الحسن قاسمی کا ٢٣ صفحات پر مشتمل تفصیلی مضمون ہے ، جس میں انھوں نے مولانا کے مختلف واقعات ونصائح اور ان کی تلقین کردہ دعائیں نقل کی ہیں ۔ اس کے بعد مولانا ابن الحسن قاسمی کا مضمون ” انفرادیت وخصوصیات ” ہے جو ٢٠ صفحات پر مشتمل ہے۔اس کے بعد معروف صاحب قلم مولانا ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی کا مضمون ہے ، جس میں مولانا کی زندگی کا اپنے مخصوص انداز میں اجمالی جائزہ لیا ہے۔اس کے بعد٤٠ صفحات پر مشتمل مولانا صبیح الحسن گورکھپوری کا ایک مفصل مضمون ” مولانا اعجاز احمد اعظمی : کماوجدتہ ”ہے، جس میں انھوں نے مولانا کو جیسا دیکھااورپایا، اپنے قارئین کو بھی بتانے یا دکھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
میرے عزیز دوست اور مدرسہ شیخ الاسلام کے سابق استاذ مفتی فیض احمد اعظمی کا مضمون ” مدرسہ شیخ الاسلام میں شیخ الاسلام والمسلمین ” بھی مختصر ہونے کے باوجود بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اس کے بعد مولاناکے دو شاگرد مولانا محمد موسیٰ قاسمی اور مفتی مرغوب الرحمن مہراج گنجی کے مضامین ہیں۔
مجلہ کاتیسرا باب مولانا کے بعض علمی ودعوتی اسفار کی روداد پر مشتمل ہے ، جو مولانا مفتی شرف الدین قاسمی شیخوپوری کے قلم سے ہے۔ یہ مولانا پر لکھی گئی ان کی غیر مطبوعہ سوانح کا ایک حصہ ہے۔چوتھا باب مولانا کی تین کتابوں کے تعارف وتجزیے پر مشتمل ہے ۔ پہلی کتاب مولانا کی خود نوشت سوانح ” حکایت ہستی ” ہے، جس کا تعارف جناب نایاب حسن صاحب نے لکھا ہے۔ دوسری کتاب مولانا کے اداریوں کا مجموعہ ” حدیث دردِ دل ” ہے جو انتہائی اہم مضامین پر مشتمل ہے ،اور موجودہ حالات میں مسلمانانِ ہندکے لئے مشعل راہ ہے۔ اس کا تعارف نوجوان صاحب قلم عالم مفتی محمد اجمل صاحب قاسمی ، استاذ مدرسہ شاہی مرادآباد نے لکھا ہے ، مفتی صاحب نے ٢٠ صفحات میں نہایت تفصیلی تعارف رقم فرمایا ہے، جس میں کتاب کی اہمیت اور اس کی خصوصیات وامتیازات پر مفصل گفتگو کی ہے، بطور خاص اس کے مطالعہ کی سفارش کی جاتی ہے۔تیسری کتاب مولانا کا سفرنامۂ حج ” بطواف کعبہ رفتم ” ہے ، جو اس اعتبار سے شایددنیا کا واحد سفرنامہ حج ہوگا جس میں کسی شخص کے تمام اسفار حج کی روداد موجود ہو۔ معروف صحافی وادیب جناب سہیل انجم صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں اس کا بہترین تعارف کرایا ہے۔
پانچواں اور آخری باب جو ایک اہم علمی دستاویز بھی ہے، ان خطوط پر مشتمل ہے، جو مولانا کے اکابرین ومعاصرین نے ان کو لکھے تھے، یہ تقریباً ١١٥ صفحات پر مشتمل ہے ، جس میں ٤٢ لوگوں کے خطوط ہیں۔
اخیر میں دو ضمیمے ہیں ، جن میں معروف ادیب مولانا اسیرادروی کے اس مضمون کا تعاقب کیا گیا ہے جو انھوں نے اپنی کتاب ” کاروانِ رفتہ ” کے جدید اڈیشن میں مولانا پر لکھا ہے، ان کا پورا مضمون غلط سلط معلومات اورسنی سنائی افواہی روایات پر مشتمل ہے، پہلے ضمیمہ میں ان معلومات کی تردید کرکے درست معلومات کو درج کیا گیا ہے اور دوسرے ضمیمہ میں مولانا اسیر ادروی کے ہی طرز پردرست معلومات کی روشنی میں مولانا کا ایک مختصر وجامع تعارفی مضمون لکھا گیا ہے۔
مجلہ کا اختتام اس کے مدیر مسئول مولانا قمر الحسن قاسمی کے ”کلمات تشکر ” پر ہوتا ہے ، جس میں انھوں نے مجلہ عکس کے اجرا کا مقصد اور تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا ہے۔
اس خاص نمبر کی عام قیمت ٥٠٠ روپئے اور رعایتی 350 روپیے  ڈاک خرچ کے ساتھ ہےـ حاصل کرنے کے لیے مکتبہ ضیاء الکتب خیرآباد اور
الکتاب فاؤنڈیشن سے اس نمبر 8340586502 پر رابطہ کیا جا سکتا ہےـ