میں نے فرانس تشددکاجوازنہیں پیش کیا،منوررانانے بیان پروضاحت پیش کی

 

لکھنو: مشہور شاعر منور رانانے کارٹون معاملے پرفرانس کونشانہ بنایاہے۔اس پرمیڈیاکی طرف سے نئی بحث چھیڑدی گئی ہے ۔اب انھوں نے صفائی دیتے ہوئے کہاہے کہ مذہب کے نام خطرناک کھیل جاری ہے اورانسانوں کواس سے دور رہنا چاہیے۔استاد وہ ہوتا ہے جس کا کام پڑھانا ہوتا ہے ، وہ محمدصاحب کا کارٹون کیوں بنا کر دکھاتا تھا۔ اسے صرف محمدﷺ سے ہی پریشانی کیوں ہے؟میڈیاکے ساتھ خصوصی گفتگوکرتے ہوئے منور رانا نے کہاہے کہ میں نے فرانس تشددکاجواز پیش نہیں کیا۔ آپ میری بات کو نہیں سمجھے اورنہ ہی میرے الفاظ سمجھے ،ان کے دوسرے معنی تلاش کرنے لگے۔میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہاں سے مقبول فدا حسین کو ملک چھوڑنا پڑاکیونکہ انہوں نے ہندو مذہب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ اس کے نتیجے میں ، اگر وہ اپنی جان بچانے کے بعد ملک سے بھاگ نہیں جاتے تووہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھتے۔وہ یہاں سے چلے گئے۔ انہوں نے کہاہے کہ مذہب ایک خطرناک کھیل ہے اور انسان کواس سے دوررہناچاہیے۔ دنیا میں کارٹون بننے لگے کیونکہ دنیاکاہر فردایک دوسرے کوگالی نہیں دے سکتاہے۔ کارٹون بنانے کامطلب یہ ہے کہ آپ اللہ کی ظاہری شکل خراب کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پوچھاہے کہ جواستادہے وہ محمدصاحب کا کارٹون کیوں بنا کر دکھائے گا۔ اگر اسے دکھانا ہے تو وہ خداکا کارٹون دکھائے گا ، حضرت عیسیٰ کاکارٹون دکھائے گا ، حضرت مریم کا کارٹون دکھائے گا لیکن وہ دکھائے گا نہیں۔ کیونکہ وہ خود بھی خدا پر یقین رکھتا ہے۔ اسے صرف محمد ﷺسے ہی دشواری ہے۔