میں کچھ کہوں گا نہیں تجھ سے، بے وفائی پر ـ سلیم شوق پورنوی

گھڑی جو اتری تھی میری تری جدائی پر
سجی نہیں وہ دوبارہ کبھی کلائی پر

میں آرہا ہوں ابھی آنکھ پڑھ کے لڑکی کی
بھلے وہ کچھ بھی کہے،خوش نہیں سگائی پر

مجھے وہ رنج دیا ہے ترے رویوں نے
لگا ہوں پڑھنے میں لاحول آشنائی پر

یہ باندھ ضبط کا اک دم سے ٹوٹ سکتا تھا
میں ہنس رہا تھا بہت اس لئے وداعی پر

زمانہ تجھ سے ہی لے گا ترے کیے کا حساب
میں کچھ کہوں گا نہیں تجھ سے، بے وفائی پر

مجھے یہ دکھ ہے کہ رکھے تھے تیرے کنگن کو
جو پیسے خرچ ہوئے ہیں مری دوائی پر

کتاب کھول کے بیٹھی ضرور ہے پگلی
ذرا بھی دھیان نہیں ہے مگر پڑھائی پر

نکال پائیں گے سورج کبھی اندھیرے سے؟
جنہیں چلاتے ہو جگنو کی رہنمائی پر

عجیب چیز ہے یہ شاعری بھی شوق میاں
کہ داد ملتی ہے زخموں کی رونمائی پر