میں کہاں پیرہنِ زیست بدل کر آیا ـ راجیش ریڈی

میں کہاں پیرہن زیست بدل کر آیا
میراہونا تو نہ ہونے سے نکل کر آیا

اتنا آساں تو نہ تھا میری بلندی کا سفر
میں یہاں خود کو کئی بار کچل کر آیا

جو بھی غم آتا ہے یہ کہہ کےلپٹ جا تا ہے
تجھ سے ملنے میں بڑی دور سے چل کر آیا

وہ حقیقت تھا مگر ایسی حقیقت تھا کہ جو
سامنےخوابوں- خیالوں ہی میں ڈھل کر آیا

اب کےآنکھوں کو بھنک بھی نہ لگی اشکوں کی
غم بھی اس بار زیادہ ہی سنبھل کر آیا

یوں لگا ہاتھ بڑھایا ہو ندی نے جیسے
ایک قطرہ مری جانب جو اچھل کر آیا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*