میں مسلم قیادت سے کیا چاہتاہوں ؟ -نقی احمد ندوی

بیشتر لوگ مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ آخر قیادت سے چاہتے کیاہیں؟ لوگوں کا الزام ہے کہ میں علماء اور تنظیموں کے سربراہوں اور قایدین پر بے جا اور بے سبب تنقیدیں کرتا ہوں، سب سے پہلے یہ ذہن میں رکھیے کہ جب تک کوئی قوم اپنا اور اپنی تنظیموں اور قائدین کا محاسبہ نہیں کرتی اس وقت تک وہ قوم تاریکی میں رہتی ہے، اسے یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس مقام پر ہے اور کہاں اسے جانا ہے اور اب تک وہ کہاں پہنچ چکی ہے۔ اس لیے کسی بھی قوم کو انفرادی، مجموعی اور تنظیمی لحاظ سے ہمیشہ محاسبہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جاپان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک ایسے فارمولا پر عمل کیا جس نے اسے ترقی یافتہ ممالک میں صرف تیس چالیس سالوں میں لاکھڑا کردیا۔ جاپانی انڈسٹریز نے جس تسلسل اور پلاننگ کے ساتھ ترقی کی اس میں اس کے ایک بزنس فلسفہ کا بہت بڑا رول رہا ہے اور اس کو بعد میں دنیا کے بہت سے ممالک نے بھی اپنے یہاں نافذ کیا ہے۔ اسکا نام ہے Kaizen کایزن۔ اس فلسفہ نے جاپانی قوم کے اندر ایک انقلاب پیدا کردیا۔ کایزن کامطلب ہے بہتر کے لیے تبدیلی یا مسلسل بہتری۔ آپ دنیا کے کسی بھی شعبہ میں یا کسی بھی تنظیم یا مدرسہ یا اسکول یا کاروبار میں ہوں، آپ کو بہتر سے بہتر کے لیے مسلسل تبدیلی کرتے رہنا ہے۔ اگر آپ بہتر کے لیے تبدیلی کرنے سے قاصر ہیں تو آپ کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔
اس پس منظر میں جب ہم اپنی قوم، اپنی تنظیموں اور اپنے قائدین کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں بہت مایوسی ہوتی ہے۔ ہم گذشتہ سترسال میں آگے بڑھنے کے بجاے پیچھے چلے گئے ہیں۔ ہم نے بہتر کے لیے تبدیلی (کایزن)کے فارمولے پر کبھی عمل ہی نہیں کیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلام ہمیں جمود اور تعطل سکھاتا ہے اور بہتر کے لیے تبدیلی سے منع کرتا ہے۔ حالانکہ اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے جو بہتر کے لیے تبدیلی پر ابھارتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے آباء واجداد نے اسلام کے گولڈن ایج میں وہ سب کچھ بدل ڈالا جو امت کے لیے مفید نہیں تھا اور وہ سب کچھ اختیار کیا جو مفید تھا۔ مگر ہم بحیثیت امت اس وقت کسی بھی تبدیلی سے گھبراتے ہیں۔ ہمیں فقر وفاقہ، بے بسی اور پسماندگی، اور ہرطرح کا ظلم وجو ر منظور ہے مگر ہمیں نہ تو اپنے مدارس، نہ اپنے مساجد کے نظام اور نصاب میں تبدیلی منظور ہے اور نہ ہی اپنی تنظیموں کے سربراہوں، اور اداروں کے مالکان میں، بلکہ ہم تو ایک لفظ بھی ان کے خلاف سننا گوارہ نہیں کرتے۔ اسلام نے تو کبھی نہیں کہا کہ اگر قائدین کا پرفارمنس صحیح نہیں ہے تو بھی ان کو نہ بدلیں، اور نہ ہی اس سے منع کیا ہے کہ ہم ان کا محاسبہ کریں کہ امت کے جن اداروں اور انسٹی ٹیوشنز کی ذمے داری ان کو سونپی گئی ہے اگر متوقع نتائج نہیں پیداہورہے ہیں تو ہم ان سے پوچھیں کہ آخر آپ کی کارکردگی کیوں خراب ہے؟ یہ تو امت کا مسئلہ ہے، کسی ایک شخص یا کسی ایک مسلک یا کسی ایک گروہ کا نہیں، لہذا ہمیں ان سے پوچھنے میں کیوں جھجھک محسوس ہوتی ہے؟ اورہم کیوں نہیں ان سے مطالبہ کرتے کہ ہمیں اپنے اداروں، اپنی تنظیموں اور اپنے انسٹی ٹیشن میں بہتر کے لیے تبدیلی یا مسلسل بہتری کسی بھی قیمت پر چاہیے کیونکہ یہ کوئی آپ کا یا ہمارا ذاتی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ امت کا مسئلہ ہے اور ظاہر ہے کہ امت فرسٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔
کایزن کا ایک بنیادی اصول ہے(Plan-Do-Check-Act) یعنی آپ کسی بھی تنظیم یا ادارہ میں سب سے پہلے پتہ لگایئے کہ پروبلم کیا ہے، اس کے بعد اس کا جو حل ممکن ہو اسے تلاش کیجیے، اور جب حل مل جاے تو اس کو عمل میں لائیے، پھر اسکی جانچ کیجئے کہ وہ حل صحیح کام کررہاہے یا نہیں اگر نہیں تو اسے بدل دیجیے اورپھر اسی طرح یہ سایکل چلتی رہے گی، اپنی پرفارمنس کا معاینہ کیجیے، اگر بہتر نہیں ہے تو پروبلم کا پتہ لگائیے، اس کا ُحل مل جائے تو اس پر عمل کیجیے اور اگر و ہ کام نہیں کررہا ہے تو اسے بدل دیجیے۔ دنیا کی کسی بھی تنظیم، ادارہ خواہ وہ بزنس سے تعلق رکھتا ہو یا حکومت سے یا عوام سے، ان میں یہ فارمولا کامیابی کا ضامن ہے۔ اب آیئے ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری قوم کے اداروں میں اس فارمولا کو کس حد تک عمل میں لایا جاتا ہے۔
جہاں تک (Plan-)منصوبہ بندی کی بات ہے تو اگر مدارس کی بات کریں تو ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ ہمارے لاکھوں مدارس نے کبھی اپنے نصاب اور سسٹم میں کوئی خامی دیکھی ہی نہیں، لہذا اس میں آج تک کوئی معنی خیز تبدیلی نظر نہیں آئی، ستر سال پہلے جوکتابیں تھیں وہی آج ہیں، جبکہ حکومت بھی ہر پانچ سال پر اپنے نصاب میں تبدیلی کرتی ہے۔ یہاں ہم مواد میں تبدیلی کی بات نہیں کررہے ہیں بلکہ مواد کو پیش کرنے کے طریقہئ کار میں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج بھی فارغین مدارس کو ہمارا سماج قبول کرنے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی وہ مین اسٹریم میں جانے کے قابل ہوتے ہیں۔ اگر تنظیموں کی بات کریں تو پرانی تنظیموں کی کارکردگی، ان کا دائرہ کار، ان کے ممبران کی تعداد، ان کا پولیٹکل ویٹ اور مسلمانوں اور حکومت پر ان کی پکڑ کا جایزہ اس بات کو آشکارہ کرتا ہے کہ ستر سالوں میں ان تنظیموں نے کوئی خاص ترقی نہیں کی اور ہماری تمام بڑی تنظیموں کا یہی حال ہے، لوگ کہتے ہیں کہ آپ آرایس ایس سے موازنہ نہیں کرسکتے کیونکہ حکومت کا انھیں سپورٹ حاصل ہے، جناب والا سوسال تک محنت کرنے کے بعد آج انھیں یہ مقام ملا ہے کہ حکومت بھی ان کی ہے۔ آرایس ایس اور دوسری طرف جمعیہ علماء ہند کا موازنہ کرلیجیے، دونوں کا قیام لگ بھگ ایک سو سال پہلے ہوا تھا۔ یہ دونوں تنظیمیں اپنے افراد، اپنی کارکردگی اور اپنے اثرات میں زمین وآسمان کا فرق رکھتی ہیں۔جمعیۃ آج بھی چند اضلاع تک محدود ہے اور کچھ مفید کام ضرور کرتی ہے مگر اتنی طویل مدت میں وہ تنظیم آگے بڑھنے کے بجاے ایک خاندان میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔ ان کے پاس کوئی ویزن اور کوئی مشن نہیں ہے، لہذا وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ وہی بہت ہے اور انھیں اپنی کوئی خامی نظر نہیں آتی۔ جب تنظیموں نے ترقی نہیں کی تو وہ قوم جس کے لیے وہ تنظیم کام کررہی تھی وہ کیسے ترقی کرسکتی ہے؟ یہی حال کم وبیش جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت اور دیگر اداروں کا ہے۔ ان ساری تنظیموں نے یہ تسلیم کرلیا کہ جو ان کے بانیوں نے لائحہ عمل تیار کیا تھا اس میں بہتر کے لیے تبدیلی کی کوئی گنجایش نہیں، وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ امت اسلامیہ پر احسان ہے، اس میں تبدیلی یا مسلسل بہتری کی کوئی گنجایش نہیں۔ لہذا انھیں نہ تو پلاننگ کی ضرورت پڑی، نہ بحث کرنے کی اور نہ ہی اس پر عمل کرکے چیک کرنے کی کہ مزید بہتری لائی جاسکتی ہے۔
آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جناب گذشتہ ستر سالوں میں اگر ان تنظیموں نے کام نہیں کیا تو پھر وہ زندہ کیسے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر واقعی ہماری ساری تنظیموں، اداروں اور مدارس ومساجد نے خوب کام کیا اور صحیح سمت میں کام کیا اور پورے اخلاص کے ساتھ کام کیا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رزلٹ برعکس کیوں ہے، پھرہندوستانی مسلمان مسلسل پیچھے کیوں ہوتے چلے گئے۔ بہتر کے لیے تبدیلی یا مسلسل بہتری کے اگراس فارمولا پر عمل کیا جاتا تو میرا خیال ہے کہ مسلم قوم کی حالت بدتر سے بدتر نہ ہوتی جاتی، سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے علما، قائدین اور رہنماؤں نے کبھی بھی اپنے اداروں، اپنی تنظیموں اور اپنی جماعتوں میں کوئی کمی، خامی یا پروبلم دیکھا ہی نہیں۔ جب تک آپ خود کو مریض تسلیم نہیں کریں گے آپ ڈاکٹر کے پاس نہیں جائیں گے اور جب تک آپ کا علاج نہیں ہوگا، اس وقت تک آپ تندرست نہیں ہوں گے۔ ایک یہ بھی سوال کیا جاتا ہے کہ ہم صرف علما کی، مدارس کی اور تنظیموں کی بات کیوں کرتے ہیں،عصری تعلیم یافتہ قائدین کی بات کیوں نہیں کرتے؟ تو غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ آزادی کے بعد جتنی بھی بڑی تنظیمیں کام کررہی ہیں ان میں سے نوے فیصد علماکے ہاتھوں میں ہیں وہ پینٹ شرٹ والوں کے ہاتھو ں میں نہیں ہیں۔ لہذا سوال بھی انھیں سے کیا جائے گا دوسری بات یہ ہے کہ امت ہمیشہ اپنا قاید علما کو ہی مانتی رہی ہے، لہذا سوال انھیں سے کیا جائے گا جو خود کو واثین نبوت کہتے ہیں، اور عصری تعلیم یافتہ قائدین کبھی خود کو وارثین نبوت نہیں کہتے۔
اس لیے اگر آپ کوئی ادارہ، کوئی تنظیم، کوئی مدرسہ، کوئی مسجد یا کوئی جماعت چلارہے ہیں تو آپ کو ایمانداری کے ساتھ اپنی، اپنے اسٹاف کی اور اخیر میں اپنے ادارے کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہنا اور اس میں وقت کے حساب سے حل تلاش کرنا اور اس پر عمل کرنا اور پھر اسے چیک کرنا کہ کیا وہ صحیح طور پر کام کررہاہے بہت ضروری ہے، اگر آپ ایسا نہیں کرتے ہیں تو آپ اپنے اور اپنی قوم کے ریسورسز ضائع کررہے ہیں۔
مجھے دیوبند کی ہزاروں شاخوں اور ان کی فلک بوس عمارتوں سے کوئی دلچسپی نہیں، ندوہ کے مسعود و سلیمان اور علی میاں کی تحقیق، بزرگی اور ادبی شہپاروں میں کوئی رغبت نہیں، جمعیت، جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت اور دیگر چھوٹی بڑی تنظیموں کے بلندو بالا دعووں، ان کے نعروں اور منشور سے کوئی لگاؤ نہیں، مجھے پانچ لاکھ مدارس اور دسیوں لاکھ مساجد کے منبر ومحراب کے نقش وآرایش سے کوئی مطلب نہیں اگریہ سب کے سب پچھلے ستر سال میں مسلمانوں کی حالت میں کوئی تبدیلی پیداکرنے میں ناکام رہے ہیں تو یہ سب لاحاصل، بے معنی اور بیکار ہیں۔ عرب ممالک کے اہل حدیث کے لیے ڈونینش، تبلیغی جماعت کے ملک اور بیرون ملک پھیلے ہوے کروڑوں ممبران، جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مخلص افراد، اہل دیوبند کی شان وشوکت، بریلوی طبقہ کی رسول ﷺ سے محبت، اور شیعہ کی اہل بیت پر قربان ہونے کی چاہت اگر ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت بدلنے میں گذشتہ ستر سال میں ناکام رہی ہیں تو میں سمجھتا ہوں ان مدارس کی فلک بوس عمارتوں کوڈھا دینا چاہیے، مسجدوں کے گنبدوں کو توڑدینا چاہیے، تنظیموں کے دفاتر میں آگ لگادینی چاہیے اور ہمارے علمااور قائدین کو ان کے خلوت خانوں سے باہر کھینچ کر لانا چاہیے اور پوچھنا چاہیے کہ آخر آپ نے گذشتہ ستر سالوں میں ہمارے لیے کیا پلاننگ کی، اور کیا اقدامات کیے کہ آج ہماری قوم ترقی تو دور بلکہ مزید گراوٹ اور پسماندگی کا شکار ہوگئی ہے، بلکہ اب تو خوس اس کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگیاہے؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس امت کا قیادت سے مطالبہ ہے کہ اپنے ستر سال کی کارکردگی کا معائنہ کرے اور جو بھی اور جہاں جہاں بھی ضروری تبدیلی کی ضرورت ہے،بہترکے لیے تبدیلی یا مسلسل بہتری کے فارمولا پر عمل کرے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*