مہر افروز کا تخلیقی شعور اور افسانہ -پرویز شہریار

مہر افرز دکن کی خاتون افسانہ نگاروں میں ایک روشن ستارہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔مہر افروز ایک ذہین اوراعلیٰ تعلیم یافتہ افسانہ نگار ہیں جو عالمی سطح پر بھی اپنی ایک منفرد پہچان رکھتی ہیں۔آپ نے افسانہ نگاری اور بلاگ نگاری کے علاوہ رسالہ’’خرمن‘‘ کی ادارت کے توسط سے اپنی صحافتی صلاحیتوں کا بھی لوہا منوایاہے۔مہر افروز کے افسانوں میں ہر چند کہ براہِ راست پند و نصیحت سے احتراز ملتا ہے تاہم ان کے افسانوں کے بین السطور میں بہ نظر غائر دیکھا جائے تو کہیں نہ کہیں تشکیل معاشرہ اور تعمیر اخلاق کا عنصر مضمر معلوم ہوتا ہے۔ان کے افسانے کے بیشتر موضوعات ایک دم نئے تو نہیں کہے جا سکتے لیکن ان میں نسائی حسّیت اور عصری شعور کی آمیزش سے جس طرح کی فضا آفرینی کی جاتی ہے، وہ یقیناً انوکھی اورقابلِ تحسین ہوتی ہے۔ان کے افسانے عام فہم اور سہل زبان میں بیان ہونے کے باوجود اپنی ممتاز اور منفرد شناخت رکھتے ہیں۔
مہر افرز اپنے افسانہ’’کٹی پتنگ‘‘ میں تمثیلی انداز سے دخترانِ مشرق سے مکالمہ کرتی ہیں کہ مغرب کی نقل میں از حد آزادی کی خواہش انھیں گندے نالے میں خس وخاشاک کی طرح بہا لے جائے گی۔ لہٰذا آزادی کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم ہوا کے دوش پر اُڑنے کی آرزومیں اپنی زمین کی کھردری سچائیوں کا ساتھ چھوڑ دیں۔مہر افروز کے افسانوں میں ’کچا گوشت‘، ’ادھوری عورت‘،’دہشت گرد‘، ’ٹوٹی سرحدیں‘،’ پل صراط‘، ’پھالگنی‘ اور ’پتنگ ‘ وغیرہ انتہائی معرکہ آراء افسانے کا درجہ رکھتے ہیں۔
مہر افرز کے افسانے ہماری افسانہ نگاری کی روایت سے پوری طرح مربوط ہیں۔ ان میں پلاٹ، واقعات، جزیات نگاری کے ساتھ ساتھ کردار نگاری کے رموز و اوقاف کی پاس داری ملتی ہے۔ افسانے کے فن اور شعریات سے ان کی کماحقہ واقفیت نے ان کے افسانوں میں چار چاند لگا دیے ہیں۔ان کے افسانے عموماً مختصر ہوتے ہیں تاہم کردار مرکوز افسانے طویل بھی ہیں جن میں تہذیبی عناصر کے بیان سے کردار کی نامیاتی اور فطری بالیدگی کو بروئے کار لانے کی قابلِ تعریف شعوری کاوشیں کی گئی ہیں۔
مہر افرز کے افسانوں کی قرات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے شعور سے ایسے افسانے تخلیق کر رہی ہیں جن میں ماضی کی یادیں بھی ہیں اور مستقبل کے خواب بھی جو آئندہ نسلوں کی زندگی میں تموج اور رنگ بھرنے کے علاوہ ان کی شناخت کا باعث بھی بنیں گے۔مہر افرز سے مستقبل میں بہترین افسانوں کی توقعات وابستہ ہیں۔