ماحولیات کو درپیش چیلنجز اور مردو‍ں کو جلانے کی روایت ـ شہلا کلیم

روئے زمین پر بسنے والا کوئی انسان خواہ وہ کسی بھی مذہب یا عقائد و نظریات کا حامل ہو "کل نفس ذائقة الموت” کا انکار نہیں کر سکتاـ جیون مَرَن کا یہ تعلق دنیا کی وہ بڑی حقیقت ہے جس پر بلا چوں و چرا ہر ذی نفس کا اتفاق ہےـ اور بس یہی وہ کائناتی اتحاد کا مرکز ہے جہاں ٹھہر کر واقعتا زمین ایک ہی محور پر گردش کرتی محسوس ہوتی ہےـ تاہم اتحاد و اتفاق کا یہ وقفہ محض لمحے بھر پہ محیط ہےـ اس کے بعد مذہبی و نظریاتی اختلاف و انتشار کا سلسلہ ایسا دراز ہوتا ہے کہ الامان و الحفیظ ـ موت و حیات کا قدرتی عمل تو ایک ہی ہے البتہ نام اور کام دین دھرم ، تہذیب و ثقافت اور علاقوں خطوں کے اعتبار سے گھڑ لیے گئےـ اس عمل کا طریقۂ ادائیگی کہیں "آخری رسومات” کہلایا تو کہیں اسے "انتم سنسکار” کے نام سے موسوم کیا گیاـ کسی نے "اگنی” دی تو کسی نے "تدفین” کی ـ لیکن اس اختلاف و انتشار سے قدرتی نظام پہ رتی بھر فرق نہ پڑ سکا اور حیات و وفات کا یہ سرکل تاحال جاری ہےـ اور جب تک خالق کائنات کا "کن فیکون” جاری رہےگا یہ سلسلہ بھی یونہی چلتا رہےگاـ البتہ سوال یہ ہے کہ انسانی عمل دخل سے خدائی نظام پہ تو کوئی فرق نہ پڑ سکا لیکن اس دخل اندازی نے کرۂ ارض کے ماحولیاتی نظام کو کس حد تک متاثر کیا؟

عام حالات میں کسی عام موضوع پر گفتگو کرنا اس قدر اہمیت کا حامل نہیں ہوا کرتا جتنا کہ خاص حالات میں اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور اس پر بحث لازم بھی ہو جاتی ہےـ موت زندگی کا خاتمہ نہیں تکمیل ہےـ موت و حیات کا رشتہ اٹوٹ ہے لیکن ان دنوں جس انداز سے لفظ "موت” سارے عالم پر قہر بن کر چھا چکا ہے انسان تو کجا خود موت بھی اپنے وجود سے خوفزدہ ہوگی ـ

وجہ جگ ظاہر ہےـ ۲۰۱۹ میں چین کے شہر ووہان سے نکلنے والا کورونا وائرس covid-19 بن کر دیکھتے ہی دیکھتے سارے عالم میں پھیل گیاـ اور اس نے ایسا وِکرال روپ دھار لیا کہ ابتداءاً جو Epidemic تھا بہت جلد اسے WHO نے pandemic قرار دے دیاـ Epidemic اور pandemic کا بنیادی فرق یہ ہے کہ epidemic کسی ملک، علاقے یا خطے تک محدود ہوتا ہے جبکہ pandemic سے ہونے والی ہلاکت و تباہی کی گونج سارے عالم میں سنائی دیتی ہےـ یہاں قابل ذکر اور لائق توجہ بات یہ ہے کہ یہ گونج ایک ملک سے اٹھی اور اس کی چیخ سارے عالم نے نہ صرف سنی بلکہ محسوس کی اور پھر جلد یا بدیر اس پر قابو بھی پا لیاـ خود چین حیران کن طریقے سے نہ صرف نئے سرے سے اٹھ کھڑا ہوا بلکہ economy growth میں ناقابل یقین حد تک آگے نکل گیاـ لیکن ہندوستان تاحال اس دردناک عذاب سے جوجھ رہا ہےـ اور نہ صرف ترقی یافتہ بلکہ ترقی پذیر ممالک سے بھی تمام تر world indexes میں شکست کھا چکا ہےـ حال یہ ہے کہ خود اس ملک کا پڑوسی پاکستان (جو کہ رقبے، آبادی اور development ہر اعتبار سے ہندوستان سے کمتر ہےـ ) نیز جسے وطن عزیز کی متشدد آوازیں ایسے پر آشوب وقت میں بھی "کرونا کی موت” مرنے کی وعید سناتی رہی ہیں وہی ملک اس بھیانک کرونا کال سے لڑ کر "world happiness index” میں ہندوستان سے بازی مار گیاـ اور اب جبکہ covid-19 کا قہر کرۂ ارض پہ شانت پڑنے لگا تھا؛ ہندوستان کو اس کی دوسری لہر نے اپنی لپیٹ میں لے کر عوام الناس کو جوق در جوق موت کے گھاٹ اتار دیاـ بہر کیف ہندوستانی حکومت کی نا اہلی کی ایک الگ روداد ہے نیز یہ اپنے آپ میں ایک الگ اور توجہ طلب موضوع ہےـ فی الوقت زیر بحث وہ متعصب آوازیں ہیں جو گزشتہ برس کورونا کی پہلی لہر کے دوران بلند ہوئی تھیں کہ مسلمانوں کو مردے دفنانے کی بجائے نذر آتش کر دینے چاہیئیں ـ چنانچہ نذر آتش اور سپرد خاک کیے جانے کے عمل کا تقابلی جائزہ مذہب کی بجائے سائنس کی روشنی میں لینے کی کوشش کرتے ہیں ـ (جو کہ سر زمین ہند پر کورونا کی دوسری لہر کا ایک بڑا سبب بھی ہےـ) کیونکہ مذہبی دلائل میں طرفہ تماشے کا راہ پا جانا ممکن ہےـ نیز یہ بھی بعید از قیاس ہے کہ دیگر مذاہب بھی کسی ایک مذہب کے نظریاتی دلائل پر متفق ہوں جائیں ـ

لہذا انسانی زندگی کے خاتمے پر مذہبی رسومات کے ذریعے environment پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ ecology اور ecosystem کی روشنی میں لینا زیادہ معنی رکھتا ہےـ

ہندوتوا کے بعد سر زمین ہند کی دوسری بڑی population مسلمان ہیں ـ اور تقریبا پوری دنیا میں ہی میت کی آخری رسومات کے دو طریقے زیادہ رائج ہیں ـ نذر آتش کرنا یا سپرد خاک کرنا ـ

اگر environment impact کی رو سے اول الذکر کی بات کریں تو عام طور پر ایک مردے کے انتم سسنکار میں تقریبا تین کونٹل (اس سے کم کی بھی گنجائش ہے) لکڑیاں استعمال کی جاتی ہیں ـ لکڑی (درخت) کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائڈ کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اسی لکڑی کو اگر جلایا جائے تو یہ خاصیت الٹ جاتی ہے اور ۱۰۰۰ گرام لکڑی جلانے پر (ایک وقت پر ایک چولہے میں جلنے والی لکڑی کے وزن سے بھی کم) تقریبا ۱۹۰۰ گرام کاربن خارج ہوتی ہےـ یعنی دوہرا نقصان ـ اندازہ لگائیے کہ صرف ایک مردے کے انتم سسنکار پر خرچ ہونے والی لکڑیوں سے کتنی بڑی تعداد میں کاربن خارج ہوکر فضا کو آلودہ نیز ماحولیات پہ کتنے گہرے اثرات مرتب کرتی ہے اور یہ بھی قابل غور بات ہے کہ کسی انسانی وجود کے جلنے پر اسکی چمڑی سے نکل کر فضا میں پھیلنے والے زہریلے مادے ماحولیات پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتے ہیں ـ مزید یہ کہ لکڑی جلنے پر صرف کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج نہیں ہوتا بلکہ لکڑی جلانے پر نکلنے والے دھوئیں میں موجود particulate matter (pm 2.5 and pm 10) اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں ـ جو سانس لینے کے عمل کے ساتھ ہی جسم میں داخل ہو جاتے ہیں اور بہت سی بیماریوں کے ساتھ ساتھ کینسر جیسی بڑی بیماری کا سبب بنتے ہیں ـ نیز لکڑی جلنے پر carbon monoxide, sulfur oxide, nitrogen oxide, volatile organic compounds (VOCs), water vapers جیسی بہت سی زہریلی گیسیں فضا میں پھیل جاتی ہیں ـ

دوسری توجہ طلب بات ایک بڑی تعداد میں درختوں کا صفایا ہےـ واضح ہو کہ سائنس نے کرۂ ارض پہ سمندروں کے بعد سب سے بڑا carbon sink درختوں کو قرار دیاـ اب دوسرا اندازہ لگائیں کہ فی مردہ تین کونٹل لکڑیوں کے خرچ کے حساب سے دنیا بھر میں یومیہ جلائے جانے والے مردوں پر خرچ ہونے والی لکڑیوں کی تعداد اور ان سے نکلنے والی زہریلی گیسوں کی مقدار کتنی ہوگی ـ لہذا یہ تصور بھی ایک عام فہم ذہن کو ماؤف کر دینے کیلیے کافی ہے کہ کورونا عہد میں جبکہ یومیہ اموات کا سلسلہ ہزاروں کے آنکڑے پار کر رہا ہو ان حالات میں ماحولیات پہ کیا کچھ گزری ہوگی ـ یہ تو محض فضائی آلودگی اور زہریلی گیسوں کے اخراج سے ہونے والے اثرات پر بحث ہے، درختوں کے صفائے سے ہونے والے دیگر ماحولیاتی نقصان مثلاglobal warming, climate change, soil erosion desertification, degradation, extinction, وغیرہ بھی قابل توجہ اور تفصیل طلب موضوعات ہیں ـ اسی کے پیش نظر سائنٹسٹ نے داہ سنسکار کیلیے الیکٹرک بھٹیوں کا رواج نکالاـ لیکن ہوا یوں کہ درختوں نے محض نام کی حد تک خیر منائی اور non renewable energy سولی چڑھ گئی ـ مزید یہ کہ ان بھٹیوں کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں اور زیریلی گیسوں کے اثرات کسی بھی ذی شعور کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ـ

غور کیجیے کہ ہندوستان میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران ہونے والی اموات کی وجہ بیماری سے زیادہ آکسیجن کی کمی ہےـ اور یقینا ایسے حالات میں جبکہ الیکٹرانک بھٹیاں چوبیس گھنٹے مصروف عمل ہوں، شمشان گھاٹ دن رات میں کسی لمحے سرد پڑنے کا نام نہ لیتے ہوں ، ایک ایک چتا پر مردوں کے ڈھیر نذر آتش کیے جا رہے ہوں اموات کا سلسلہ ایسا دراز ہو کہ فٹ پاتھ پہ لاشیں جل رہی ہوں تو ایسے حالات میں آنکڑے پیش کیے بغیر بھی فضائی آلودگی کا اندازہ اور آکیسجن کی کمی کی وجہ با آسانی سمجھی جا سکتی ہےـ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ گنگا کے نواحی علاقے مکمل طور پر covid-19 اور آکیسجن کی کمی کے زیر اثر ہیں ـ وجہ بلکل واضح ہے کہ گنگا کنارے تینوں طرح کا pollution خطرناک حد تک جڑ پکڑ چکا ہےـ گنگا کنارے نذر آتش کی جانے والی لاشیں air pollution ، گنگا میں تیرتی لاشیں water pollution اور گنگا کنارے پڑی لاوارث لاشیں soil pollution میں بڑا کردار ادا کرنے کیلیے کافی ہیں ـ اور کیا خبر کہ covid-19 کے زیر اثر مرنے والی یہ لاورث لاشیں جو کہ اب جنگلی جانوروں اور کتوں کی خوراک ہیں ان جانوروں میں وائرس کا سبب نہ بن رہی ہوں لیکن کیا کیجیے کہ جس ملک میں انسان کتوں سے بد تر موت مر رہا ہو وہاں ان جانوروں پر توجہ کی کسے فرصت ہےـ

اب ذرا دیر کو ecology سے ہٹ کر economy کے رخ سے دیکھیےـ جس ملک کا مقام ۲۰۲۰ کی رپورٹ کے مطابق Global Hunger Index (GHI) میں 107 ممالک میں 94 نمبر پر آتا ہو اس ملک کے افلاس زدہ طبقے کی حالت تین کونٹل لکڑیاں صرف انتم سسنکار پہ صرف کر دینے لائق ہوگی؟ نتیجتا (باوجود اس کے کہ ہندو دھرم میں انتم سنسکار کی اہمیت جنم سنسکار سے بھی بڑھ کر ہے) مسلسل لاک ڈاؤن کی مار کھائی ہوئی بھوکی ننگی عوام اپنے سنسکاروں کی بلی چڑھا کر اپنے عزیزوں کو رات کے اندھیارے میں پانی کے حوالے کرنے پر مجبور ہےـ لیکن دن کا اجالا اس انسانیت سوز منظر سے پردہ اٹھانے کو کافی ہےـ اس پہلو پر مزید گفتگو کیا کی جائے کہ خود پریم چند انتم سنسکار کے اس المیے پر گؤ دان جیسا شاہکار ناول رقم کر گئےـ

اب "سپرد خاک” کر دیے جانے والے نظریے کی طرف لوٹتے ہیں ـ ecosystem کا مطلب ہے وہ نظام جس کے تحت جانوروں، پودوں اور بیکٹریا سمیت تمام جانداروں کی زندگیوں کا ایک دوسرے پر انحصار ہوتا ہے۔ اور اس ایکو سسٹم میں دو الفاظ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ـ پہلا food chain اور دوسرا food web. فوڈ ویب فوڈ چین کا وسیع ترین روپ ہےـ دونوں ہی ہماری گفتگو کا مرکز ہو سکتے ہیں لیکن فی الوقت مزید طوالت سے اجتناب کرتے ہوئے موخر الذکر ہماری بحث سے خارج ہے اور اول الذکر ہمارے موضوع کا حصہ ہےـ food chain کی وضاحت ان الفاظ میں کی جا سکتی ہےـ”فوڈ چین حیاتیات اور نباتات کی ایک ترتیب ہے اور اسی ترتیب کی پیروی کرتے ہوئے ایک حیاتیات سے دوسرے میں غذائی توانائی کی منتقلی کا ایک سلسلہ food chain کہلاتا ہےـ”

حیاتیات کی اس ترتیب میں سب سے پہلا مقام producers یعنی پیڑ پودوں کا ہے جو کہ اپنی خوراک سیدھے سورج سے حاصل کرکے consumers کو پہنچانے کا کام کرتے ہیں ـ دوسرا مقام consumers (primary consumers, secondry consumers etc.) کا ہے جو کہ پیڑ پودوں سے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں ـ انسان کا شمار سیکنڈری کنزیومرس میں ہوتا ہے کیونکہ انسان omnivorous ہےـ یعنی وہ سیدھے پیڑ پودوں سے بھی غذا حاصل کرتا ہے اور پیڑ پودوں کو کھانے والے جانور یعنی پرائمری کنزیومرس بھی اسکی خوراک ہیں ـ food chain میں سب سے آخری مقام decomposers کا ہےـ اور ہمارے موضوع کا تعلق بھی انہی کے عمل دخل پر گفتگو کرنا ہےـ decomposers نہ تو سورج سے غذا حاصل کرتے ہیں نہ ہی پیڑ پودے ان کی خوراک ہیں بلکہ decomposers وہ حشرات الارض ہیں جن کا کام مردار کو decompose کرنا اور خاک کو واپس خاک میں بدل دینا ہےـ decomposers وہ کیڑے مکوڑے ہیں جو زیر زمین دفن لاشوں سے اپنی غذا حاصل کرتے اور food chain کو استحکام بخشتے ہیں ـ خلاصہء کلام یہ کہ اگر کوئی کہے کہ سپرد خاک کر دینے والی رسم soil pollution کا سبب ہے تو پھر اسکو اپنی عقل کا ماتم کرنا چاہیےـ کیونکہ biodiversity کی رو سے دفن کیے گئے وجود food chain کا حصہ ہیں ـ اور کمال یہ ہے کہ environment impact مثلا گلوبل وارمننگ میں بڑھاوا، کاربن سنک کا استحصال، کاربن ڈائی آکسائڈ اور مزید زہریلی گیسوں کا اخراج وغیرہ میں "انتم سنسکار” کی بنسبت "آخری رسومات” کی حصےداری صفر کے برابر بھی نہیں!

آخر میں یہ وضاحت لازم ہے کہ ہمارا مقصد کسی مذہب کو اس کی رسومات ترک کرنے پر قائل کرنا ہرگز نہیں بلکہ یہ تو محض "سائنسی جواب” ہے ان متعصب آوازوں کا جو مسلمانوں کے لاشے نذر آتش کر دیے جانے پر مصر تھےـ البتہ ایک انسانی مشورہ ضرور ہے ان لوگوں کیلیے جن کے پیاروں کی لاشیں درندوں کی خوارک ہیں ،جنہیں آگ نصیب نہ ہوئی، پانی نے انہیں اپنے ریتلے کناروں پہ اگل دیا پھر ہوائیں اس ریت کو اڑا لے گئیں اور دن کی روشنی نے انہیں بےحجاب کر ڈالا؛ کبھی آزما کر دیکھیے:
"ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!”