مہنگائی سرچڑھ کربولنے لگی،سبزیوں اورپیازکی بڑھتی قیمتوں سے عوام پریشان

نئی دہلی:لاک ڈاؤن میں کروڑوں لوگوں نے روزگارکھودیا،عوام کی جیبیں خالی ہوچکی ہیں۔معیشت تباہ ہوگئی ہے۔مہنگائی آسمان چھورہی ہے۔اب نہ ہوگی مہنگائی کی مارکادعویٰ کرکے سرکارمیں آنے والی بی جے پی حکومت میں چوطرفہ مارلگ رہی ہے۔اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے سے لے کرسبزیوں،آلواورپیازتک کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں،لیکن بہارالیکشن میں مہنگائی،بے روزگاری جیسے مدعے کی بجائے مذہبی ایشواچھال کرووٹ مانگے جارہے ہیں۔ جیسے ہی تہوار کا موسم شروع ہواہے ، مارکیٹ میں مہنگائی نے لوگوں کو لوٹ لیاہے۔ سبزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔آلو،پیاز اور ٹماٹر کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔مارکیٹوں میں ٹماٹر 70 سے 80 روپے فی کلو اور آلو 45 سے 55 روپے فی کلومیں فروخت ہورہے ہیں۔ پیاز 60 سے 70 روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے ،مہنگائی پچھلے سال کی طرح صارفین کے آنسونکال رہی ہے۔ پیازکی قیمتیں مسلسل آسمان کو چھو رہی ہیں ، جو عام صارفین کو پریشان کررہی ہیں۔پیاز کی منڈی میں 60 سے 70 روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔ منگل کے روز چنئی کی خوردہ مارکیٹ میں پیاز کی قیمتیں 73 روپے فی کلو تک پہنچ گئیں۔ منگل کو دہلی میں پیاز کی خوردہ قیمت 51 روپے فی کلو ، کولکاتہ میں 65 روپے فی کلو اور ممبئی میں 67 روپے فی کلو تھی۔اہم بات یہ ہے کہ نوراتری میں ، لوگ شمالی ہندوستان سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں لہسن اورپیازنہیں کھاتے ہیں۔جس کی وجہ سے کھپت کم ہے ،لیکن اس سے پیاز کی مہنگائی سے نجات نہیں مل سکی۔تاجروں کاکہنا ہے کہ جنوبی ہنداورمہاراشٹر میں بارش کم ہوئی تھی ، یعنی پیاز پیدا کرنے والی ریاستوں میں بارش کی قلت ہوئی ہے۔جس کی وجہ سے نئی فصل کی آمدمیں تاخیر ہو رہی ہے،جہاں بھی نئی فصل آرہی ہے ، وہ بھی کافی نہیں ہے۔ نیز پیاز کاشتکار کی طرف سے زیادہ قیمت پر آرہی ہے۔تہوار کے موسم میں مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کے سامنے ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ پہلے ہی ، کورونا بحران نے لوگوں کی معاشی حالت کوبہت متاثر کیا ہے ، اب لوگوں کو سبزیاں دوگنی قیمت میں خریدنی پڑ رہی ہیں۔