جامع الصّفات شاعرونثرنگار ماہرالقادری ۔ اسلم رحمانی

ماہرالقادری اپنے عہد کے قادرالکلام شاعر ادیب اور نقاد تھے۔آپ کی ولادت 30/جون 1907ء کو کیسر کلاں ضلع بلند شہر(یوپی)برطانوی عہد( ہندوستان) میں ہوئی۔آپ نے رومانی، سیاسی،ملّی،مذہبی،اور معاشرتی موضوعات پر مختلف اصناف سخن میں بے شمار نظمیں لکھیں،وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ بر محل محل شعر کہنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔انہوں نے ادب میں اسلامی افکار کو فروغ دیا ان کو زبان وبیان پر قدرت حاصل تھی۔نعت گو شعراء میں ایک ممتاز مقام حاصل تھا۔ان کی شاعری انسان فطری کی ترجمان ہے۔وہ درویش صفت انسان تھے۔قلندری ان کا شیوہ اور تعمیری ادب تخلیق کرنا ان کا مقصد زندگی تھا۔

شاعرانہ کمالات:

ماہرالقادری کی شاعرانہ کمالات کا ذکر کرتے ہوئے حبیب احمد صدیقی لکھتے ہیں کہ:

مولانا ماہرالقادری کو اللہ تعالٰی نے دولت علم سے بڑی فیاضی سے نوازاتھا۔وہ بڑے اچھے شاعر، بڑے اچھے نقاد،بڑے اچھے نثر نگار اور بڑے عالم دین تھے۔ان کی شاعری میں مقناطیسی تاثیر پیدا کرنے کی ضامن ان کی ندرت خیال، رفعت فکر اور شگفتی بیان تھیں۔

(یاد رفتگاں،جلد اول،ص : 9/ مکتبہ شان راوہ،نئی دہلی)

مذکورہ بالا اقتباس کے مطابق ان کی شاعرانہ کمالات سے روبرو ہونے کے لئے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

جہاں سےنقش خودی کےمٹا دئیے تونے
چراغ مجلس عرفاں جلا دئیے تونے

قدم قدم پہ تجلّی کی روح دوڑا دی
روش روش پہ گلستاں کھلادئیےتونے

عرب کی خاک کو خلدوجناں بنا ڈالا
لطافتوں کےخزانے لٹا دئیے تونے

زیر نظر اشعار کے معنی و مفاہیم پر غور و خوض کرنے سے بخوبی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ماہرالقادری ایک محقق شاعر تھے جنہوں نے پورے شرح صدر کے ساتھ یہ کہنے کی کوشش کیں ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس انقلاب کے پیغمبر تھے۔وہی حقیقی اور آخری انقلاب تھا،اس کے بعد جتنے انقلاب بھی دنیا میں آئے، آرہے ہیں یا آئیں گے وہ بالکل وقتی اور ہنگامی ہیں جن کو زندگی کے مسائل کی اساس بنانا انتہائی خطرناک غلطی ہے۔

ماہرالقادری کی شاعری کی فنی کمالات پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے شارح اقبال ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا رقمطراز ہیں کہ:

ماہرالقادری ایک خوش فکر اور خوش گو شاعر تھے۔جس وقت اقبال کی شہرت نصف النہار پر تھی اور جوش،حفیظ واختر کے نغمے فضا میں بلند ہورہے تھے ان دنوں ماہرنے بھی آہستہ آہستہ خوش ذوق قارئین کو متاثر کرنا شروع کیا،ان کے ہاں اختر کی رومانیت،جوش کی انقلابیت،حفیظ کی نغمگی اور اقبال کی مقصدیت کی جھلکیاں موجود تھیں۔
(کلیات ماہر ص:2/ادراہ تعمیر ادب،کراچی)
چند مثالیں اشعارکے طورپر دیکھیں:

درحقیقت انقلاب زندگی کی اعجاز ہے
ذرہ ذرہ خاک ہستی کا جہاں راز ہے

انتہائے درد دل ہے،ابتدائے آرزو
موت کہتے ہیں،جسے وہ عشق کا آغاز ہے

ہوچکی بیمار الفت کو تسلی ہوچکی
ایک دزیدہ نظر وہ بھی غلط انداز ہے

آپ نےجوکچھ کیااچھا کیا میں کیا کہوں
فیصلہ دنیا کرےگی کون دنیا سازہے

جامع الصّفات شاعر:

پروفیسر عبدالمغنی فاروق رقمطراز ہیں کہ:
ماہرالقادری جامع الصّفات شاعر اور نثر نگارتھے۔ان کا انداز نعت گوئی بڑا دل پذیر اور فکروخیال کی پاکیزگی اور رعنائی کا آئنہ دارہے جسے خلوص کی حلاوت، جذبے کی صداقت اور زبان وبیان پر قدرت کامل نے وہ مخصوص اسلوب بخشاہے جو انہیں عصر حاضر کے نعت نگاروں میں ایک ممتاز مقام عطا کرتا ہے ماہر اپنے ہم عصر غزل گوشعراء میں منفرد خصوصیات کے حامل ہیں۔
اور ڈاکٹر فرحان فتح پوری کے الفاظ میں ان کی غزل گوئی قاری اور سامع کو چونکائے بغیر نہیں رہتی۔انہوں نے رومانی، سیاسی، ملی،مذہبی اور معاشرتی موضوعات پر مختلف اصناف سخن میں بے شمار نظمیں لکھیں جوان کی قادرالکلامی پر شاہدعادل ہیں۔
(کلیات ماہر،ص:30/ بہ اہتمام:ادارہ تعمیر داب،کراچی)
ماہرالقادری کی شاعری اور نثر نگاری کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات کھل کر ہمارے سامنے آتی ہے کہ ایک معیاری ادیب، ناقد،مبصر،اور تخلیق کار کے اندر مجموعی طور پر جو خوبیاں ہونی چاہئیں وہ تمام خوبیاں ماہرالقادری کی غزلوں، نظموں، تبصروں اور نثری تحریروں میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔حقیقت و مجاز پر چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

مراوجودہے خود حاصل جبینِ نیاز
نفس نفس ہے عبادت،نظر نظر ہے نماز

فردکی راہ میں آئےبہت نشیب وفراز
رواں دواں ہی رہامیں،یقیں کی عمردراز

زہے!کمالِ مشیت خومشا!ظہور جمال
حقیقتوں کویادجس نےآب ورنگ مجاز

دل و نظرپہ ہوئی ہیں نوازشیں کیاکیا
یہ رنگِ ذوق تماشا،بہ نامِ سدوگداز

نثری خدمات:
خواجہ محمد زکریا،ماہرالقادری کی نثری خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

نثر میں موصوف(ماہرالقادری)نے چار ناول یادگار چھوڑے مختلف وقتوں میں چھ مجموعے افسانوں کے طبع کرائے۔مختلف شخصیات پر تقریبا دو سو کے لکھے۔باقاعدہ کتابی صورت میں ایک سفرنامہ حج(کاروان حجاز)کے علاوہ مختلف سفروں کی روداد "سیاحت نامۂ ماہر” کے عنوان سے بھی شائع ہوچکی ہے جسے ان کی وفات کے بعد جناب طالب ہاشمی نے مرتب فرمایا۔تبصرہ نگاری میں ماہرالقادری واقعۃ انفرادیت اور خاص امتیاز کےحامل ہیں اور دوہزار سے زائد کتابوں پر انہوں نے جامع اور بھرپور تبصرے قلمبند کئے۔اسی طرح تنقید، نعت اور اصلاح زبان کے سلسلے میں ان کے ماہانہ رسالے”فاران” نے جو کرادر اداکیا اور اسلامی نظام اور دینی تعلیمات،غیر اسلامی افکار اور لادینی نظریات کےرد میں قلمی جہاد کا جو معرکہ انجام دیا،علم و ادب وزبان کی جو خدمات انجام دیں اور تنقید میں عدل وتوازن اور جرآت ووقار کا جو معیار قائم کیا وہ اردو صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا فی الحقیقت ایک شاعر، ایک ادیب، ایک داعی اور ایک صحافی کی حیثیت سے ماہر کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے۔
(کلیات ماہر،ص:30/ بہ اہتمام:ادارہ تعمیر داب، کراچی)
تبصرہ نگاری:
ماہرالقادری کی تبصرہ نگاری کی دیدہ ریزی، جانفشانی، دیانت داری،اور ہمہ گیری کو واضح کرتے ہوئے حبیب احمد صدیقی لکھتے ہیں کہ:
مصنفین کی تخلیقات پر تبصرہ کرنے میں مولانا بڑی دیدہ ریزی اور دیانت داری سے کام لیتے تھے۔تبصرے کےلئے جو کتابیں آئیں انھیں عموما شروع سے آخر تک پڑھتے اوران کے حسن و قبیح کا پورا جائزہ لیتے تھے۔عیوب سے صرف نظر کرکے صرف محاسن کی داددینے کو تنقیدی فرائض کے خلاف سمجھتے تھے جس کے باعث انھیں مصنفین کی خفگی اور کبھی کبھی عتاب سے سابقہ پڑتا۔مگر وہ کسی سے رورعایت اور اپنی روش میں تبدیلی کرنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوئے۔
(یاد رفتگاں، ص:11/ مکتبہ نشان راہ،نئی دہلی)

دریتیم:
ماہرالقادری کی قلمی کاوشوں کی تاریخ ان کی مایہ ناز اور نایاب تصنیف "دریتیم” کے ذکر کے بغیر ناقص اور ادھوری ہے۔سیرت رسول کے موضوع پر یہ کتاب اپنی مثال آپ ہے۔ماہرالقادری کی شخصیت پر کوئی بھی گفتگو "دریتیم ” کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔
سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سدا بہار موضوع ہے جس پر اب تک دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں بے شک کتابیں لکھی گئیں،لکھی جارہی ہیں۔اور صبح قیامت تک لکھی جاتی رہیں گی۔ یہ موضوع وہ چشمۂ صافی ہے جس سے ہر زمانہ میں علم و حکمت کےسوتے پھوٹتے ہیں۔بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا طویل عرصہ گزر چکا ہے،لیکن اب بھی وہی تروتازگی،وہی شادابی، وہی رعنائی،وہی زیبائی،وہی معنویت وہی کمالات،وہی خصوصیات، وہی اہمیت و افادیت قائم ودائم ہیں۔اس طویل عرصے میں بے شمار عشاق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہ رسالت میں عقیدت و محبت کے پھلو نچھاور کیے۔اسلامی تواریخ کی انہی باکمال سیرت نگاروں کی بزم میں اپنے جادونگار قلم اور سحر طراز اسلوب سے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف گوشوں کو دل کش انداز میں اجاگر کیا ہے۔مصنف اپنی اس کتاب کے متعلق حرف آغاز میں فرماتے ہیں:
ناولوں اور افسانوں کی بنیاد خود تراشیدہ خاکے ہوتے ہیں جن میں انشا پرداز کا تخیل رنگ بھرتا ہے،دریتیم کو بھی ناول کے انداز پر لکھاگیاہے لیکن اس ناول کا ہیرو وہ "انسان کامل” ہے جس سے بہتر انسان پر آج تک سورج طلوع نہیں ہوا،یہی ذات گرامی خلاصہ کائنات، فخر موجودات اور شرف انسانیت ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ بعض کیفیات اور تفصیلیں زبان حال سے بیان، ہوئی ہیں جن میں ناول نگار کا تخیل بھی شامل ہوگیا ہے۔(ص:4)
چار سو صفحات پر مشتمل اس ناول میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے وصال تک کے احوال کو نہایت عقیدت ومحبت کے ساتھ فصیح و بلیغ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔انداز اس قدر دلنشین اور جاذب ہےکہ کسی لمحے اکتاہٹ نہیں ہوتی،یہ کتاب پہلی بار 1949ء میں گوشۂ ادب انارکلی لاہور سے شائع ہوئی۔اس کتاب کے مصنف ماہرالقادری ہیں جو ایک اعلٰی پایہ کے ادیب اور ایک قادرالکلام شاعر کے طورپر دنیائے ادب میں اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔انہوں نے دریتیم میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت اور شخصیت کے متنوع گوشوں کو دل پذیر انداز میں پیش کیا ہے۔قاری ان کی نثر کی روانی اور دلکشی کے سحر میں گرفتار ہوکر اسیر ہوجاتا ہے۔دریتیم کے معنی ایسے موتی کے ہیں جودیگر تمام موتیوں سے فائق اور منفرد ہو۔ماہرالقادری کی اس کتاب کی اہمیت آج بھی بہت زیادہ ہے۔شگفتہ اور عمدہ زبان کے ساتھ عمدہ جذبات نگاری اس کتاب کی نمایاں خصوصیت ہے۔اسے پڑھتے ہوئے کئی مقامات پر آنکھیں اشک بار ہوجاتیں ہیں۔انہوں نے یہ کتاب عشق وسرمستی میں ڈوب کر لکھی ہے اور اس کی ہر سطر ان کی کے اس عشق کی گواہی دے رہی ہے۔