ماہرِ شبلیات محمد الیاس الاعظمی کی کتاب ’بیانِ شبلی ‘ کا بیان ـ شکیل رشید

ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کو ماہرِ شبلیات کیوں کہا جاتا ہے؟
اس لیے کہ علامہ شبلی نعمانی کی حیات و خدمات پر اگر ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی تمام کتابوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو ،یہ حقیقت ،جسے کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا ،سامنے آتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اگر اپنی تحقیقی صلاحیتوں کو کام میں لا کر یہ کتابیں اور مقالات تحریر نہ کیے ہوتے تو ، علامہ شبلی نعمانی کی زندگی کے بہت سارے اہم پہلو اور گوشے ہنوز پردۂ خفا میں رہتے ،بہت سے معاملات میں علامہ پر جو کیچڑ اچھالی گئی ہے ،وہ صاف نہ ہوئی ہوتی۔ ڈاکٹر صاحب ماہرِ شبلیات کہلانے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے علامہ شبلی کی زندگی اور ان کے کارناموں کو رتّی رتّی کر کے ہم سب کے سامنے عیاں کرنے کو اپنا مشن بنا لیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی 2020 میں علامہ شبلی کی حیات و خدمات پر دو کتابیں’’ نقوشِ شبلی‘‘ اور ’’ کلامِ شبلی کے اعلام و اشخاص‘‘ تھیں ۔ اس سے قبل شبلی پر ان کی 14کتابیں آ چکی ہیں،اور اب ایک نئی کتاب ’ ’ بیانِ شبلی ‘‘کے نام سے 2021 کے آغاز میں منظرِ عام پر آئی ہے۔یہ شبلی پر ڈاکٹر صاحب کی پندرہویں کتاب ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ ’’ بیانِ شبلی‘‘ ان کے گیارہ مقالات کا مجموعہ ہے، اور ان کے مقالات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ’ بیانِ شبلی‘ کے اس عنوان کے ساتھ باقی کے مقالات کو سلسلہ وار شائع کرنے کا ارادہ کیا ہے ، اسی لیے اس جلد پر انہوں نے1نمبر ڈال دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ’ دیباچہ ‘ میں تحریر کرتے ہیںکہ انہوں نے’’ درجنوں مقالات سپردِ قلم کیے ،جن کے تین مجموعے ’ متعلقاتِ شبلی‘ ،’ شبلی اور جہانِ شبلی‘اور ’ نقوشِ شبلی‘ علی الترتیب 2008، 2018اور 2020 میںشائع ہوئے۔ ان مجموعہ ہائے مقالات کو نئے نئے ناموں سے شائع کرنے کے بجائے ایک نئے سلسلۂ مضامین ’ بیانِ شبلی‘کے تحت شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ زیر نظر مجموعہ ’بیانِ شبلی‘ کا پہلا حصہ ہے ۔ اس میں کُل 11مضامین و مقالات شامل ہیںاور تمام مقالات علامہ شبلی کی شخصیت کے کسی نئے پہلو اور گوشے سے متعلق ہیں اور ان میں متعدد متنوع جدید مطالعات و تحقیقات شامل ہیں۔‘‘
ڈاکٹرصاحب کی یہ امید اور یقین کہ ’’ فکرِ شبلی کی تفہیم و ترسیل میں یہ مجموعہ نہ صرف معاون اور مفید ثابت ہوگا بلکہ ذخیرۂ شبلیات میں بھی ایک اضافہ قرار پائے گا‘‘،بالکل بجا ہے کیونکہ یہ گیارہ کے گیارہ مقالے علامہ شبلی کی حیات و خدمات کے بعض ایسے پہلو اور گوشے سامنے لاتے ہیں جو پہلے سامنے نہیں آئے تھے ۔ مثال ایک مقالے ’’ علامہ شبلی کے چند نو دریافت غیر مدون خطوط‘‘ کی لے لیں ، یہ مقالہ علامہ شبلی کے ان تیرہ نو دریافت خطوط کے بارے میں ہے جو مختلف کتب و رسائل سے ہاتھ آئے ہیں ۔ اس مقالے سے پتہ چلتا ہے کہ سرسید احمد خان کے دوست اور علی گڑھ تحریک کے خاص لوگوں میں سے ایک قاضی سراج الدین احمد نے علامہ شبلی کی معروف کتاب ’’الفاروق‘‘ پر سبقت کی غرض سے بعجلت ’’ سیرۃ الفاروق ‘‘ لکھ کر شائع کرائی تھی ۔ اس کوشش کو سرسید نے ناپسند فعل قرار دیا تھا ۔ قاضی سراج الدین احمد کے نام علامہ شبلی کے دو خطوط ہیںجن سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان کے مشاہیر کا تذکرہ قلم بند کرنے کے لیے علامہ شبلی سے انہوں نے مشورہ کیا تھا اور علامہ نے ملک کے مشہور مشاہیر اہلِ علم اور اربابِ کمال کی ایک فہرست، انہیںتیار کر کے دی تھی ۔ پتہ چلتا ہے کہ فہرست میں کئی جیّد اہلِ علم کے نام شامل نہ کرنے پر علامہ شبلی نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ ایک خط قائد الملک نواب غلام احمد کلامی کے نام ہے، جو ریاست ارجن گڑھ ترچنا پلی تامل ناڈو کے چشم و چراغ تھے ۔نواب صاحب چاہتے تھے کہ علی گڑھ کالج کی طرح وانم باڑی میں بھی ایک کالج قائم کیا جائے ، مگر یہ خواب پورا نہ ہو سکا ۔ مولانا مفتی شیر علی بڑے عالم و فاضل تھے ،ان کے نام ،نو دریافت خطوط کی تعداد 9ہے ۔ علامہ شبلی کی خواہش پر وہ ندوہ آئے اور صدر مدرس مقرر ہوئےتھے ۔ خطوط کے حوالے سے اس کتاب میں مزید ایک وقیع مقالہ ’’ علامہ شبلی کے نام معاصرین کے خطوط مسائل و مباحث ‘‘ بھی شامل ہے جو ۔یہ انجمن ترقی اردو کے پہلے سکریٹری کی حیثیت سے علامہ شبلی کی جدوجہد کو سامنے لاتا ہے، تحریک علی الاولاد کے سلسلے میںعمائدین کے درمیان جو خط و کتابت ہوئی ، جو رائیں سامنے آئیںاور جو کارروائیاں ہوئیں،اس کی داستان سے واقف کراتا ہے ،جرجی زیدان کی بدمعاشیوں کا پردہ چاک کرتا اور ندوہ و ماہنامہ الندوہ کے موضوعات پر بحث کرتا ہے۔ڈاکٹر صاحب کے بقول ’’ یہ ایک مقالہ نہیں بلکہ مستقل کتاب کی حیثیت رکھتاہے ، جو ’ بیانِ شبلی‘ کی اس جلد میں سمیٹ دی گئی ہے ۔‘‘ اس مقالے سے پتہ چلتا ہے کہ بعض ہندو اہلِ قلم نے یہ اعتراض کیا تھا کہ انجمن ترقی اردو میں ہندؤں کو نظر انداز کیا گیا ہے ، علامہ شبلی نے اس کا جواب اخبارات میں شائع کرا کے مذکورہ اعتراض کو رد کیا تھا کہ ’’ انجمن کے قواعد میں اس خیال کا شائبہ بھی نہیں پایا جاتا اور عملی تردید اس خیال کی یہ ہے کہ انجمن نے سب سے پہلا انعام جو تصنیف پر دیا وہ ایک ہندو مترجم کو دیا اور ایک ایسی کتاب پر دیا جو ہندو قوم کے ساتھ مخصوص تھی۔‘‘علامہ شبلی کے اس تردیدی بیان کے بعد بہت سے ہندو اہلِ علم انجمن کے رکن بنے ۔ میرٹھ کے رئیس آنریبل رائے نہال چند نے ’’ اردو ہندی زبانوں کو ترقی دی جائے ‘‘ کا مشورہ دیا اور انجمن کی ممبری قبول کی۔ اس مقالے میں متعدد اہلِ علم ،اربابِ کمال اور امراء و روسااور والیانِ ریاست کے خطوط اور ان کے اقتباسات شامل ہیں ۔
ڈاکٹر صاحب نے ،علامہ شبلی نعمانی کے اس خطبہ کو، جو انہوں نے دہلی کے حلقۂ مشائخ میںخواجہ حسن نظامی کی فرمائش پر ، تصوف کے موضوع پر دیا تھا ،تلاش کر کے ’’ تصوف: شبلی نعمانی کی ایک نادر تقریر ‘‘ کے عنوان سے شاملِ کتاب کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق یہ علامہ شبلی کا تصوف کے موضوع پر واحد خطبہ ہے، اور اس میں ’’ امورِ تصوف کے ساتھ وحدۃالوجود اور وحدۃ الشہود کی اجمالی تشریح بھی ہے۔‘‘ ایک مقالہ ’’ علامہ شبلی ،اقبال اور دارالمصنفین‘‘کے عنوان سے ہے ،اس میں شبلی اور اقبال کے علمی روابط کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں ۔ تین اہم مقالے ’’ علامہ شبلی کے چند منتخب اشعار‘‘، ’’ کلامِ شبلی پر تضمین۔ایک مطالعہ‘‘ اور ’’ اردو شارٹ ہینڈ اور علامہ شبلی‘‘ کے عنوانات سے ہیں۔ آخر الذکر مقالے سے پتہ چلتا ہے کہ اردو شارٹ ہینڈ کے بانی پروفیسر ایم ایل گھوش تھے ۔ علامہ شبلی شارٹ ہینڈ کے فن کو نہایت ضروری قرار دیتے تھے ۔ایک مقالہ ’’ سیاسیاتِ شبلی ‘‘ کے عنوان سے ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول علامہ شبلی نعمانی ابتدا سے ہی قوم پرور خیالات رکھتے تھے ، جب لفظ نیشنل انگریز حکومت سے بغاوت کے مترادف تھا تب علامہ نے اعظم گڑھ میں نیشنل اسکول کی بنیاد ڈالی تھی۔ علامہ شبلی اصلاً انگریزوں کے سخت مخالف تھے اور ملک میں ان کی حکومت کو سخت نا پسند کرتے تھے ۔یہ بہت اہم مقالہ ہے ،کاش اس موضوع پر ڈاکٹر صاحب پوری ایک کتاب لکھ سکیں۔ کتاب کے نام یعنی ’’ بیانِ شبلی‘‘ کے عنوان سے بھی ایک طویل مقالہ ہے ۔ اس مقالے میں علامہ شبلی کی فکر و نظر ، تصنیفات و تالیفات اور مختلف زبانوں میں ان کے تراجم وغیرہ سے متعلق معلومات جمع کی گئی ہیں ۔ اس مقالے میں ڈاکٹر صاحب نے ’’ الفاروق‘‘ کے سندھی ، فارسی اور ہندی تراجم کا تعارف کرایا ہے ،’’ سیرۃ النبی‘‘کے سندھی ترجمے سے واقف کرایا ہے،’’ شعرالعجم ‘‘ کے عربی اور ’’ نقد شعرالعجم‘‘ کے فارسی ترجموں کا ذکر کیا ہے ۔ اور علامہ شبلی نعمانی کی ایک نظم کے انگریزی ترجمے پر روشنی ڈالی ہے۔اس مقالے میں ڈاکٹر وحید قریشی کی کتاب ’’ شبلی کی حیاتِ معاشقہ ‘‘ کے تعلق سے ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر وحید قریشی نے اس کتاب کی اشاعت کو ممنوع قرار دیا تھا اور جب کتاب دوبارہ شائع ہوئی تو وہ خوش نہیں تھے ۔ڈاکٹر صاحب نے یہ جائز سوال اٹھایا ہے کہ جب یہ کتاب ممنوع اشاعت قرار دے دی گئی تھی تو شائع کیسے ہوئی ؟ اس مقالے میں شبلی کی حیات و خدمات کے تعلق سے بہت ساری باتیں آگئی ہیں۔
آخر کےدو مضامین ’’ شبلی کی بدولت: دارالمصنفین‘‘ اور علامہ شبلی کا ایک خواب: معارف‘‘ کے عنوان سے ہیں۔ ان دونوں ہی مضامین میں دارالمصنفین اور معارف کی تاریخ پر اور اس تاریخ میں علامہ شبلی کے کردار پر مدلل اور بھرپور بات کی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب کے ذریعے علامہ شبلی نعمانی کی حیات و خدمات کے،جہاں نئے گوشے اور پہلو سامنے لانے میں کامیابی حاصل کی ہے ، وہیں یہ مقالے فکرِ شبلی کی تفہیم و ترسیل میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔ یہ کتاب بلا شبہ ذخیرۂ شبلیات میں اضافہ ہے۔ کتاب کی طباعت ادبی دائرہ اعظم گڑھ کے زیرِ اہتمام ہوئی ہے ، اسے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،نئی دہلی نے روایتی شان سے شائع کیا ہے۔ 208 صفحات کی اس کتاب کی قیمت 300 روپیہ ہے ، جو سفید کاغذ اور مضبوط جلد اور کتاب میں شامل بے حد قیمتی مواد کو دیکھتے ہوئے زیادہ نہیں ہے ۔