ماہ رمضان اور ہمارا کردار-انجشہ زیدی

یٰٓاَایُّھا الَّذِينَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِکُم لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ( سورۃ البقرہ : ۱۸۳ )
ترجمہ : ” ایمان والوں ! تم پر روزے فرض کیے گئے، جس طرح تم سے پہلے کے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ متقی اور پرہیز گار بن جاؤ – ”
رمضان ہم مسلمانوں کے لیے خدا کی رحمت ، برکت ، عظمت اور عنایت کا مہینہ ہے اور ہمارے لیے من جانب اللہ ایک خاص ہدیہ ہے جو کہ باعثِ اجر باعثِ مغفرت ہے۔ اور پورے سال میں جو بھی گناہ نادانستگی میں سرزد ہوئے ہیں ان کے لیے باعثِ کفارہ ہے۔
کون ہے جو اِس عظمت و رحمت کی آغوش میں آنے کےلیے بے چین و بے قرار نہ ہو ۔
تو آئیے! اس خوبصورت مہینہ میں خدا کی عظیم رحمتوں سے اپنے دامن کو بھر لیں اور پورے خلوص ، خشوع و خضوع اور دل لگی کے ساتھ اپنے خدا سے تعلق کو مضبوط کریں۔ زیادہ سے زیادہ عبادات کا اہتمام کریں۔ نوافل کی کثرت کریں۔ خدا کے سامنے عاجزی و انکساری کے ساتھ اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ کثرتِ استغفار سے اپنی زبان کو تر کریں ۔اپنی نگاہوں کو سعادت دارین کے لیے کوشاں رکھیں۔ اپنے کانوں کو ذکرِ خیر کی آمد کا دروازہ بنائیں۔ اپنے دلوں کو حصولِ تقویٰ کا مسکن بنائیں۔اپنے ہر قدم کو حصول ثواب کا ذریعہ بنائیں۔ اپنی خلوت کو خدا کی یاد سے پُر کریں۔تہجد میں طویل سجدہ ریزی کے ساتھ اُس کا قُرب حاصل کریں۔ اور اس بابرکت مہینہ میں تلاوت کا خاص اہتمام کریں
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
” شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِي اُنْزِلَ فِیہ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَاسِ” ( سورۃ البقرہ ۱۸۵ )
” رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کو اتارا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے "ـ
لہذا قرآن کے لفظ کو بس زبان سے ادا نا کریں بلکہ ترجمہ کے ساتھ اس کے پیغام کو دل میں اتاریں اور اپنے نفس کو برائی سے پاک رکھیں غیبت ، جھوٹ ، بد نگاہی اور فضول کاموں سے پاک رکھیں۔
حدیث میں ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ فرماتے ہیں” ہر گندگی کو دور کرنے کے لیے اللہ نے کوئی نا کوئی چیز بنائی ہے اور جسم کو روحانی گندگی اور بیماریوں سے پاک کرنے والی چیز روزہ ہے اور روزہ آدھا صبر ہے "ـ
حقوق اللہ سے تعلق حقوق العباد کے بغیر نا ممکن ہے تو اس مہینے میں غریبوں ، مسکینوں ، اور ضرورت مند رشتے داروں کی مدد کریں اور ان کو اس کا حصہ بنائیں۔
اگرچہ اِس رمضان کی آمد ہر بار سے مختلف ہے لوگ بازار کی رونقوں اورچہل پہل سے محروم ہیں لیکن پھر بھی یہ ماہ ہمارے لیے باعث رحمت ہے ہمیں سنہرا موقع ملا ہے کہ ہم دنیا کی مشغولیت اور بازاروں میں بے جا مصروفیت سے کنارہ کشی اختیار کر کے اپنے آپ کو عبادات اور دیگر خیر کے کاموں میں لگانے کا۔
اللہ ہمیں نیک عمل کی توفیق دے اور ہمارے ہر عمل کو قبول فرمائےـ آمین

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*