مہاراشٹرمیں سیلاب کی تباہ کاریاں، مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر متاثرین کو راحت وامداد پہنچانے کا سلسلہ جاری

 

نئی دہلی(پریس ریلیز):مہاراشٹر کا ساحلی علاقہ کوکن بھیانک سیلاب سے شدید متاثر ہے، خاص طورپرمہاڈاور چپلون کے تقریباتمام علاقے سیلاب کی زدمیں ہیں اسی طرح مغربی مہاراشٹر کے اچل کرنجی، کولہاپور، سانگلی، میرج علاقے بھی سیلاب سے متاثر ہیں، ان علاقوں میں جمعیۃ علماء مہاراشٹرکی جانب سے ریلیف کے مختلف کام کئے جارہے ہیں جس میں میڈیکل کیمپ کے انعقاد بھی شامل ہیں، میڈیکل کیمپ میں بلا تفریق مذہب و ملت انسانی بنیادوں پر عوام کی خدمت کی جارہی ہے۔
جمعیۃ علماء پونے کے صدر قاری ادریس کی سربراہی میں چپلون کے مختلف مقامات پر میڈیکل کیمپ لگایا گیا ہے،ان میں ایک میڈیکل کیمپ مہاکالی مندر میں بھی لگایا گیا، جس میں مقامی لوگوں کا چیک اپ اور علاج کیا جارہاہے۔ ان علاقوں میں صد فیصد آبادی برادران وطن کی ہے۔
ڈاکٹر جلیل احمد، ڈاکٹر غزالہ ملا، ڈاکٹر خان محمد،ڈاکٹر ذہیب انصاری، ڈاکٹر تبسم خان،ڈاکٹر وسیم شیخ ودیگر ڈاکٹروں کی ٹیم میں شامل ہیں جنہوں نے چپلون اور مہاڈ کے مختلف مقامات پر لگے میڈیکل کیمپوں میں اپنی خدمات انجام دیں جبکہ ڈاکٹر شیخ فیضان، ڈاکٹر عبدالفیض خان، ڈاکٹر شیخ مشرف اور ڈاکٹر سعید پہلے سے مہاڈ کے میڈیکل کیمپوں میں مریضوں کا علاج کررہے ہیں۔
اسی طرح سیلاب میں غرق ہونے کی وجہ سے آٹو رکشا اور چھوٹی گاڑیاں ناقابل استعمال ہوگئی تھیں،چنانچہ ان کی مرمت اور قابل استعمال بنانے کے لئے موٹر میکینکوں کی مختلف ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں موٹر سائیکل، رکشا اور دیگر چھوٹی بڑی گاڑیوں کی بڑی تعداد میں مرمت کررہی ہیں، برادران وطن کی ایک بڑی تعداد نے جمعیۃعلماء کی جانب سے روانہ کی گئی میکینکوں کی ٹیم سے استفادہ کیا اوراپنی گاڑیوں کو درست کرایا۔
جمعیۃ علماء کی مختلف یونیٹوں کی جانب سے موٹر میکینکوں اور الیکٹریشین کی مزید ٹیمیں مہاراشٹر کے مختلف علاقوں سے کوکن کے مختلف متاثرہ علاقوں میں پہنچ رہی ہیں۔اس سے قبل بھی جمعیۃعلماء کی جانب سے سیلاب متاثرین میں غذائی اجناس، کپڑے، چٹائی، جائے نماز، عمدہ کوالیٹی کے بسکٹ، پانی کی بوتلیں، گم بوٹ اور دیگر چیزیں تقسیم کی گئی تھیں اور سیلاب سے متاثر ہ علاقوں میں ہر طرح کی راحت رسانی کا کام بڑے پیمانے پر انجام دیاجارہا ہے۔
واضح رہے کہ مولانا مدنی نے جمعیۃ علماء ہند کے تمام ذمہ داران و کارکنان کو ہدایت دی ہے کہ امداد و بازآبادکاری کا کام مذہب سے اوپر اٹھ کر صرف انسانیت کی بنیاد پر کیا جائے۔