مہاراشٹر میں کرونا رپورٹ نگیٹو سہرسہ آتے آتے پوزیٹیو 

پوزیٹیو پائے گئے سبھی طلبہ کی دوبارہ جانچ ہواور مدارس کےخلاف افواہ پھیلانے والوں پر قانونی کارروائی کی جائے :شاہنوازبدرقاسمی

Shahnawaz badar qasmi

سہرسہ:  مہاراشٹرکے مختلف مدارس سے بذریعہ ٹرین سہرسہ آئے180بچوں میں سےدس بچوں کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو آنے کےبعد بالخصوص بہار کے مسلم حلقوں میں تشویس کی لہردوڑگئی ہے۔اس رپورٹ پر سماجی رکن شاہنوازبدرقاسمی نے عدم اطمینان کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ6مئی کومہاراشٹرکے مختلف مدارس سے جوبچےسہرسہ آئے تھے،وہ سبھی مقامی انتظامیہ کے ذریعہ کرائی گئی جانچ کے مرحلے سے گزرکرآئے تھے،وہاں ایک بھی بچے کے اندرکورونا نہیں ثابت ہواتھا۔انتظامیہ نے جانچ کی نشان دہی کے لیے ان بچوں کے ہاتھوں پرباضابطہ مہربہی لگارکھاہے۔اورجس ٹرین سے یہ طلبہ آئے تھے اس میں ان بچوں کے علاوہ کوئی دوسرا مسافر نہیں تھاجس سے یہ شک ہوکہ دوران سفر رابطے میں آنے کی وجہ ان بچوں میں کوروناکا اثر آگیاہو۔ان باتوں کوپیش نظررکھتے ہوے ہر انسان سوچنے پر مجبور ہے کہ جانچ میں کہاں چوک ہوئی ہے اور اس کیلے کون ذمہ دار ہے۔ورنہ ان بچوں کے علاوہ اب تک تقریباساڑھے تین ہزارمزدوراورکالج کے طلبہ وطالبات بذریعہ ٹرین سہرسہ پہنچ چکے ہیں،مزدورجہاں سے چلے تھے ان کی وہاں جانچ بھی نہیں ہوئی تھی،اورصاف صفائی پرکم دھیان دینے نیزلاک ڈاؤن میں کھانے پینے کی دشواری کی وجہ انہیں کوروناسے متاثرہونے کاخطرہ زیادہ تھا،اس کے باوجوداتنی بڑی تعدادمیں ایک بھی کوروناکامریض نہیں ملا۔ان سب باتوں کودیکھتے ہوئے اس رپورٹ پرہماراعدم اطمینان کااظہاربجاہے اس لیے ہم سہرسہ ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان بچوں کی دوبارہ جانچ کسی پرائیوٹ ہاسپٹل میں کرائی جائے تاکہ عوام الناس کے علاوہ متاثرہ بچوں کے اہل خانہ کوبھی مکمل اطمینان حاصل ہوجائے۔

شاہنوازبدر نے کہاکہ پورے بہارمیں ایک منصوبہ بند طریقہ سے مدارس کے طلباء کو بدنام کرنے کیلے جو طریقہ اپنایا جارہاہے وہ سراسر غلط ہے، سرکارکی سخت ہدایت اور قانونی جرم کے باوجود سہرسہ کے جن بچوں کو کورونا پوزیٹیو آیاہے سب کی مکمل شناخت سوشل میڈیا پر خوب وائرل کیاجارہاہے جو مقامی انتظامیہ کی لاپروائی کا نتیجہ ہے، جان بوجھ کرایسی غلطی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہئے، انہوں نے کہاہے کوروناوائرس پھیلانے کے نام پر جس طرح ایک خاص مذہب کے لوگوں کو ہراساں کیاجارہاہے وہ بیحد تشویشناک اور قابل مذمت ہے، اس لڑائی کو لڑنے میں ہمیں بھید بھاؤ سے کام نہیں لیناچاہئے، شاہنوازبدر نے کہاکہ اس ملک کی سلامتی اور خوشحالی کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب بلا تفریق مذہب مل جل کر کورونا سے اپنے سماج کےہرفردکو بچائیں جو لوگ کورونا کے مریضوں اور اس کی فیملی سے نفرت کررہے ہیں اس میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی ہمیں کورونا سے لڑنا ہے کورونا مریض سے نہیں_

شاھنوازبدرقاسمی نے مسلمانوں سے صبروتحمل کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت ہمارےلئے سخت امتحان کی گھڑی ہے کورونا کے قہر سے بچنے کیلئے جو ہدایات ہیں اس پر ضرور عمل کریں، اگر آپ کے آس پاس کوئی کورونا مریض ملتا بہی تو آپ خوف زدہ نہ ہوں، مریض اور اس کے گہر والوں کو سماجی طور پر نظرانداز نہ کیاجائے کیوں اس وائرس کے کوئی بہی شکارہوسکتے ہیں اس لئے حکمت، مصلحت اوردوراندیشی کایہی تقاضہ ہے کہ ہم اس تحریک کو کامیاب بنانے میں انتظامیہ کا ہرممکن تعاون کریں مجہے امید ہے کہ عنقریب ہمارا ملک کورونا مکت ثابت ہوجائے گا بشرطیکہ ہم گائیڈ لائن پرعمل کریں اور نفرت کے بجائے آپسی بھائی چارگی اور محبت کو پھیلائیں، انہوں نےآخر میں کہاکہ یہ ایک عالمی وباء ہے اس سے اگرجلد چھٹکارا چاہتےہیں تو اس ماہِ مقدس میں اللہ پاک کو راضی کریں جب تک وہ نہیں چاہیں گے تب تک ہم اس قدرتی قہرسے نہیں بچ سکتے ہیں_