Home تجزیہ مہاراشٹر میں بی جے پی کی مشکلیں !-شکیل رشید

مہاراشٹر میں بی جے پی کی مشکلیں !-شکیل رشید

by قندیل

( ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

منگل کے روز لوک سبھا الیکشن کے تیسرے مرحلے کی پولنگ سے یہ تقریباً عیاں ہو گیا ہے کہ مہاراشٹر میں بی جے پی کی حالت اچھی نہیں ہے ۔ منگل کے روز ریاست کے جن گیارہ حلقوں میں پولنگ ہوئی ان میں بارامتی بھی شامل ہے ، جسے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی ( این سی پی ) کے سربراہ شرد پوار کا گڑھ کہا جاتا ہے ۔ اس سیٹ پر شردپوار کی تین بار کی ایم پی بیٹی سپریہ سولے کا مقابلہ ریاست کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی بیوی سنیترا پوار سے تھا ۔ اجیت پوار سپریہ سولے کے چچازاد بھائی اور سنیترا ان کی بھابھی ہیں ، گویا کہ پوار خاندان کی دو خواتین ایک دوسرے کے مقابل تھیں ۔ یہ سینئر اور جونیئر پوار ، دونوں ہی کے لیے ناک کی سیٹ تو ہے ہی بی جے پی کا وقار بھی یہاں داؤ پر ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی اس حلقے کا دورہ کر چکے ہیں ، انہوں نے تھیلے بھر بھر کے گارنٹیاں دی ہیں ، ساتھ ہی شردپوار پر سیدھا حملہ کرتے ہوئے انہیں بھٹکتی آتما قرار دیا ہے ۔ پونے میں بھی وہ شرد پوار کو بھٹکتی آتما قرار دے چکے تھے ۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ سنیترا پوار مقابلہ تو کریں گی لیکن سپریہ سولے کا پلڑا بھاری ہے ۔ سیاسی مبصرین کا یہ ماننا ہے کہ مودی کا شرد پوار کا ، بھٹکتی آتما کہہ کر ، مذاق اڑانا بارامتی والوں کے لیے اجیت پوار کی بیوی کی مخالفت کا ایک سبب بن جائے گا کیونکہ ان کی نظر میں یہ ایک بزرگ کی توہین ہے ۔ دیکھا جائے تو مہاراشٹر ، بی جے پی اور اس کے حلیفوں کے لیے ایک مشکل ریاست بن گئی ہے ۔ یہاں سے گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو 48 میں سے 42 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی ، تب اس کا ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا سے اتحاد تھا ، اب وہ اتحاد ٹوٹ چکا ہے اور نئے اتحادی ایکناتھ شندے اور اجیت پوار نے وہ دم نہیں دکھایا ہے جو ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا میں تھا ۔ اجیت پوار اپنی بیوی کی سیٹ تک محدود ہو چکے ہیں اور شندے بھی اپنے گڑھ تھانے کو بچانے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں ۔ خود بی جے پی کی مقامی قیادت بے اثر نظر آرہی ہے اور شاید بی جے پی کی مرکزی قیادت کو بی جے پی کی مقامی یا ریاستی قیادت پر بھروسہ بھی نہیں رہا اسی لیے پی ایم مودی اب تک ریاست میں ایک درجن انتخابی ریلیوں سے خطاب کر چکے ہیں اور 20 مئی تک وہ مزید پانچ چھ ریلیوں سے خطاب کریں ، جبکہ انہوں نے 2019 کے الیکشن میں محض پانچ انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا تھا! مودی اور امیت شاہ کا بار بار مہاراشٹر آنا یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اس ریاست کے الیکشن کے نتائج کے سلسلے میں مرکزی قیادت کو کس قدر تشویش ہے ۔ مودی یہ چاہتے ہیں کہ اگر ان کی سیٹیں یہاں گھٹیں بھی تو بس ایک یا دو ۔ مہاراشٹر میں بی جے پی کے لیے پریشانیاں سیٹوں کے بٹوارے سے ہی شروع ہو چکی تھیں ۔ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ تک بی جے پی ، شندے اور اجیت پوار کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر ناچاقی رہی ، لہٰذا ان تینوں کے اتحاد نے جو امیدوار میدان میں اتارے ان میں سے اکثر کمزور ہیں ۔ اور کئی امیدوار ایسے ہیں جنہیں بی جے پی کی قیادت اتحاد سے قبل کرپٹ کہتی رہی ہے ۔ اب سب بی جے پی کی واشنگ مشین میں دھل چکے ہیں ، لیکن ووٹر اتنا بھی نادان نہیں ہے کہ بی جے پی کے کھیل کو نہ سمجھ سکے ۔ مراٹھی باشندوں کو خوب پتا ہے کہ سیاسی پارٹیوں میں توڑ پھوڑ کرکے بی جے پی ریاستی پارٹیوں کو کمزور ہی نہیں ختم کرنا چاہتی ہے ۔ ووٹر خوب جانتے ہیں کہ بی جے پی نے پوار خاندان میں پھوٹ ڈلوا دی ہے ۔ انہیں خوب پتا ہے کہ ادھو ٹھاکرے کو ذلیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ مراٹھی لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ پی ایم مودی نے مہاراشٹر کی صنعتیں چھین کر گجرات کو سونپ دی ہیں ۔ یہ سب باتیں بی جے پی کے لیے مہاراشٹر میں سر درد بن گئی ہیں ۔ اگر بی جے پی 42 سے گھٹ کر 30 پر پہنچ جاتی ہے تو اسے ریاستی اسمبلی کے الیکشن میں ، جو اکتوبر میں ہونا ہیں ، سو سیٹوں پر خطرہ لاحق ہو جائے گا ، جبکہ کہا جاتا ہے کہ بی جے پی کو لوک سبھا الیکشن میں پہلے کی 42 کی نصف سیٹیں یا اس سے کچھ اور کم ملنے کا امکان ہے ۔ اس کا مطلب اسمبلی الیکشن میں وہ اچھی خاصی سیٹیں کھو دے گی ۔ اگر بی جے پی نے شیوسینا اور این سی پی میں دراڑ نہ ڈلوائی ہوتی تو یہ مشکلات نہ ہوتیں ، مودی اور شاہ کو نہ شندے کو ڈھونا پڑتا اور نہ اجیت پوار کو ۔ اب اگر بی جے پی کو جیتنا ہے تو وہ دعا کرے کہ مودی کا جادو چل جائے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like