مہاراشٹر کی ٹھاکرے حکومت کو اکتوبر تک گرانے کی تیاری،سنجے راوت کا دعویٰ

ممبئی:شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی اگلے اکتوبر تک مہاراشٹرا میں مہاوکاس کی حکومت گرانے کی کوشش کررہی ہے۔ سنجے راوت نے اس سلسلے میں شیو سینا کے ترجمان اخبار’سامنا‘ میںاپنے مضمون ’روک ٹوک‘ میںبڑا دعویٰ کیا ہے۔سنجے راوت نے الزام لگاتے ہوئے گورنر کے ذریعہ نامزد ممبران اسمبلی کے عمل کولے کر گورنر بھگت سنگھ کوشیاری اور ٹھاکرے حکومت کے مابین تنازع کے ایک نئے باب کا حوالہ دیا ہے ۔ ذرائع سے موصولہ معلومات کے مطابق گورنر حکومت کی سفارشات پر فوری منظوری دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ گورنر نے بالواسطہ طور پر اگلے دو ماہ تک حکومت کو سفارشات نہ بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔گورنر کا موقف ہے کہ کرونا بحران کے دوران ایم ایل اے کی تقرری پر کاروائی کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ایسی صورتحال میں گورنر نے 12 ستمبر کو قانون ساز کونسل کے ممبران کی تقرری ملتوی کرنے کا ذہن بنا لیا ہے اور شیوسینا اس کو بی جے پی حکومت گرانے کی تیاریوں کاعندیہ بتا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق گورنر گذشتہ تین دن سے یہ اشارہ بالواسطہ حکومت کو دے رہے ہیں۔ گورنر کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال کورونا کی وجہ سے ممبران نامزد کرنے کے عمل کو مکمل کرنے کے لئے گورنر کے لئے سازگار نہیں ہے۔اس لئے یہ واضح ہے کہ گورنر اگلے دو ماہ یعنی ستمبر تک حکومت کی سفارشات کو قبول نہیں کریں گے۔سنجے راوت نے الزام عائد کیا ہے کہ تقرری کا عمل ملتوی کیا جارہا ہے تاکہ اگر بی جے پی مہاراشٹرا میں آپریشن لوٹس کرنے میں کامیاب ہوجائے تو تمام 12 ارکان بی جے پی کے ہی ہوں گے۔