مہنت نریندر گیری نے کی موہن بھاگوت کی تائید ،کہا، مسلمانوں اور عیسائیوں کا ڈی این اے ایک ہے

الٰہ آباد: آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے ڈی این اے والے بیان کی سنتوں کی سب سے بڑی تنظیم آل انڈیا اکھاڑا پریشد نے حمایت کی ہے۔ اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گیری نے کہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ ملک میں بسنے والے ہندوؤں کے ساتھ مسلمانوں اور عیسائیوں کا ڈی این اے بھی ایک ہی ہے۔ انہوں نے نام نہاد تبدیلی ٔ مذہب کی شق چھیڑتے ہوئے الزام لگایا کہ کچھ لوگ لالچ اور دباؤ میں آکر ہندو مذہب تیاگ کرمبینہ طور پر اسلام اور عیسائیت قبول کرلیاہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستان میں بسنے والے تمام مسلمان اور عیسائیوں کے آبا و اجداد پہلے ہندو تھے۔ نیز آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی جانب سے ماپ لنچنگ کے واقعات پر دیے گئے بیان کی بھی حمایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موب لنچنگ کے واقعات کو کسی بھی طرح جواز فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ مہنت نریندر گیری نے کہا کہ گائے ہماری ’ماتا‘ ہے اور ہمیشہ رہے گی، لیکن اس کے باوجود گائے کے ذبیحہ کے نام پر ماب لنچنگ کرنا درست نہیں ہے۔خیال رہے کہ بے زبان گائے کے نام پر بے قصور عوام کا ماب لنچنگ میں ہندو انتہا پسند تنظیموں اور گئو رکشکوں کا ہاتھ ہوا کرتا ہے ۔ مہنت گیری نے کہا ہے کہ اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد ملک میں بسنے والے عیسائیوں اور مسلمانوں کوہندومت کے نظریہ سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ٹھیک کہا ہے کہ کسی مسلمان کو ملک چھوڑنے کے لیے کہنا غلط ہے۔