ماہنامہ النخیل مطالعہ نمبر- مولانا ضیاء الحق خیر آبادی

ماہنامہ النخیل کا مطالعہ نمبر ملا ،عروسِ جمیل در لباسِ حریر کا صحیح مصداق، نہایت عمدہ ومعیاری کاغذ، طباعت اورجلد، جس طرح حسن ظاہر نگاہوں کواپنی جانب ملتفت کرنے والا ہے، اسی طرح جمال باطن بھی ذہن ودماغ کو اسیر کرنے والا ثابت ہوا۔ ایک سے ایک عمدہ مضامین ومقالات اور اہل نظر علماء کے مطالعہ کے سلسلہ میں اپنے نوع بنوع کے تجربات! مختلف مکاتب فکر کے اہل قلم کی شمولیت نے دلچسپ قسم کا تنوع اور ہمہ گیریت پیدا کردی ہے ۔ ایک دو روز میں پوری کتاب نہ صرف پڑھ ڈالی بلکہ چاٹ ڈالی ۔
اداریہ کے بعد معاون مدیربشارت نواز صاحب کا مضمون جو مطالعہ کے موضوع پر شائع ہونے والی کتابوں کے تعارف پر مشتمل ہے ، بہت معلوماتی ہے ، ١٥ صفحات پر مشتمل اس مضمون سے اس موضوع پر لکھی جانے والی اکثر کتابوں سے آگاہی ہوجاتی ہے ، اس کے بعد میری نگاہ میں سب سے اہم مضمون مولانا عبدالمتین منیری کا ہے ، ” مطالعہ کتب ، کیوں اور کس طرح ” ہر طالب علم کو یہ مضمون بغور پڑھنا چاہئے اور کئی بار پڑھنا چاہئے اور اس کے مندرجات پر عمل کی کوشش کرنا چاہئے۔ مولانا نظام الدین صاحب نے مطالعہ کے طریقہ میں رجسٹر بناکر اس میں حاصل مطالعہ یا تاثرات لکھنے کا جو مشورہ دیا ہے ، وہ بہت صائب اور مفید ہے۔ مولانامحمد تقی عثمانی صاحب نے اپنے مضمون میں جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کے بارے میں جو تجزیہ اور رائے پیش کی ہے وہ لائق مطالعہ ہے۔ مولانا شاہد صاحب سہارنپوری کے مضمون میں یہ بات بہت پسند آئی کہ ” ایک بار انھوں نے اپنے ایک مضمون میں خدمت حدیث کے سلسلہ میں مظاہر علوم کاتفوق دارالعلوم دیوبند پر ثابت کیا، جب وہ مضمون حضرت شیخ الحدیث علیہ الرحمہ کو سنایا تو انھوں نے اس پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور اسے مضمون سے نکلوادیا۔” مسابقت بلکہ منافست کے اس دور میں اس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔
مولانا نور الحسن صاحب کاندھلوی کے مضمون سے بہت سی نادر ونایاب کتابوں کا پتہ چلتا ہے ، مولانا کا مضمون بہت تشنہ ہے ، کاش وہ کچھ اور تفصیل سے لکھتے تو معلومات کے بہت سے گوشے سامنے آتے ۔اس خاص نمبر کا سب سے طویل مضمون مفتی زید صاحب مظاہری کا ہے ، یہ مضمون ہمیں کتابوں کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ علوم تھانوی کی معرفت اور مضمون نگاری وتصنیف وتالیف کے طریقے سے بھی آگاہ کرتا ہے ۔ محمد متین خالد صاحب کے مضمون میں قادیانیت کے سلسلہ میں بڑی مفید معلومات ہیں ۔ مولانا بدرالحسن قاسمی مقیم کویت کا مضمون بڑا چشم کشا ہے ، مولانا نے کتابوں پر مختصر الفاظ جو تبصرے کئے ہیں وہ ہم طلبہ کے لئے بڑے کام کی چیز ہیں ، ان کے تجربات دوسروں کے لئے مشعل راہ ہیں ۔
مولانا ڈاکٹر محمد ادریس صاحب سندھی کا مضمون بھی بڑا دلچسپ معلوم ہوا، خصوصاً مخطوطات کے سلسلہ میں ۔ مولانا اختر امام عادل صاحب کا مضمون بھی بہت پسند آیا ، واقعی جہد مسلسل ہی انسان کو بلند مقام تک پہنچاتی ہے ۔ مولانا فیصل بھٹکلی کا مضمون بڑا مفید اور معلوماتی ہے۔مفتی محمد جاوید قاسمی کے مضمون کو پڑھ کر ان کے غیر معمولی علمی شغف اور اسباق کی پابندی سے دل متاثر ہوا۔ ”علمائے مظاہر کا ذوق مطالعہ ” قاری کے ذوق مطالعہ کو مہمیز کرنے والاعمدہ مضمون ہے۔ اخیر کے تین مضامین ” مطالعہ کے اصول وآداب” از مولانا عبید اختر رحمانی۔ ”مطالعہ کی اہمیت ، اصول اور طریقۂ کار ” از مفتی عبید انور شاہ قیصر اور ”بچوں میں مطالعہ کا ذوق کیسے پیدا کریں ؟ ” از مولانا سراج الدین ندوی، خاصے کی چیز ہیں۔
اس مختصر سی تاثراتی تحریر میں کن کن خوبیوں کا ذکر کروں ، واقعی مولانا ابن الحسن عباسی اور ان کے معاون مولانا بشارت نواز صاحب لائق صد مبارکباد ہیں جن کی سعی وکاوش سے یہ مفید دستاویز وجود میں آئی جو ہزاروں شائقین مطالعہ کے لئے مشعل راہ بنے گی ۔ ہندوستان میں اس کی اس خوب تراشاعت پر مولانا بدرالاسلام قاسمی اور ان کے رفقاء لائق تحسین وتبریک ہیں، باری تعالیٰ ان سبھی حضرات کو اپنے شایان شان اجر عطا فرمائیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*