مہاگٹھ بندھن کی اہم میٹنگ،زرعی قوانین کے خلاف وسیع احتجاج اورانسانی زنجیرکافیصلہ

پٹنہ:بہارمیں اہم اپوزیشن پارٹی آر جے ڈی کی قیادت میں مہاگٹھ بندھن کی اہم میٹنگ ہوئی ہے۔اس میں زرعی قوانین کے خلاف تحریک تیز کرنے کافیصلہ کیاگیاہے ۔اس درمیان یہ بھی فیصلہ کیاگیاہے کہ وزیراعلیٰ اورنائب و زیراعلیٰ کی رہائش کامہاگٹھ بندھن گھیرائوکرے گا۔یہ میٹنگ حزب اختلاف کے لیڈر تیجسو ی یادو کے گھر پر مہاگٹھ بندھن کے تمام جماعتوں کے رہنماؤں کی ہوئی ہے۔حزب اختلاف کے رہنماؤں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب 30 جنوری کو بابائے قوم مہاتماگاندھی کے یوم شہادت کے دن اس مسئلے پرایک انسانی زنجیرکا انعقاد کیا جائے گا۔ میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہاہے کہ اس سے قبل بائیں بازو کی جماعتوں کے ذریعہ 25 جنوری کو ایک انسانی زنجیرمنظم کی گئی تھی لیکن اب اس کی تاریخ30 جنوری کردی گئی ہے۔ تیجسوی یادو نے کہاہے کہ اب گرینڈ الائنس کے عظیم الشان پروگرام کو بڑے پیمانے پر چلانے کافیصلہ کیاگیا ہے۔انہوں نے کہاہے کہ ہم کسان مخالف قانون کے خلاف ڈٹ کرکھڑے ہیں ۔تیجسوی یادو نے الزام لگایاہے کہ بہار میں اے پی ایم سی ایکٹ (منڈی ایکٹ) کے خاتمے کے بعد یاست میں کسانوں کی حالت ابتر ہوگئی ہے۔کسان ایم ایس پی سے آدھے قیمت پر اپنا دھان بیچنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ یہ قانون زراعت کی بنیادپرلوگوں کو بے روزگار کرنے کی سازش ہے۔تیجسوی یادونے نتیش کمار کی حکومت سے پوچھاہے کہ بہار کے کسان نقل مکانی پرکیوں مجبور ہوئے۔ یقینی طورپر بہار میں کسانوں کو اپنی فصلوں کی مناسب قیمت نہ ملنے پر بہت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔بہار میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے کہاہے کہ یقینا بہار میں اپوزیشن کے کسانوں کے معاملے خصوصا زرعی قانون سازی کے معاملے پر بیک وقت تحریک چلانے سے این ڈی اے حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ ایک سال میں دھان کی خریداری کا اپنا ہدف پورا نہیں کر سکی۔ تاہم اس سے قبل بھی کسان مہاسبھا اور 30دیگرتنظیموں نے اس مسئلے پرپٹنہ میں ایک مارچ کا اہتمام کیاتھا۔ پولیس نے اس پر لاٹھی چارج بھی کیا۔