Home اسلامیات ماہ مبارک کی عظیم ترین یادیں-ام ہشام

ماہ مبارک کی عظیم ترین یادیں-ام ہشام

by قندیل

جب کسی کی آمد کاا نتظار ہو تو دل میں کس قدر خوشگوار سےاحساسات اٹھتے ہیں اور ہم اس سرشاری میں کتنے ہی مشکل سے مشکل کاموں کو بآسانی ہنسی خوشی انجام دے دیتے ہیں – بحیثیت مسلمان رمضان المبارک کے مہینہ کی آمد بھی ہمارے لئے کسی طور پر ایک عظیم مژدہ سے کم نہیں ہے کہ جس میں ہمارے گناھوں کی رذالت دھل جاتی ہے ایمانی پیمانے حب الہی سے لبریز ہوجاتے ہیں –

صاحب ایمان اس مہینہ میں اپنی منزل مقصود کی جانب رواں دواں ہوتا ہے- اپنی چھوٹی بڑی کوتاہیوں پرنادم ہوکر ,رب کے حضور عفو ودرگزر کا خواست گار ہوتا ہے – اسکی آمد صرف ایک مسلمان کے لیے نہیں بلکہ امت مسلمہ کے علاوہ دنیا کے ہر فرد کے لیے عالمی پیمانہ پر خیروبرکت والی خبر ہوتی ہے – جس کا مشاہدہ ہمیں بازار سے ہوتا ہے کہ انواع واقسام کی نعمتیں بندۂ مومن کے دسترخوان پر سجی ہوتی ہیں جس سے یہ بات یقینی ہوجاتی ہے کہ رمضان کی آمد سے کئی لوگوں کا کاروبار جڑا ہوتا ہے جنہیں اس مہینہ کی آمد پر بے تحاشہ فائدہ پہنچتا ہے۔

ماہ رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے تقوی ,پرہیزگاری،ہمدردی،غم گساری،محبت والفت ,خیرخواہی،خدمت خلق،راہ خدامیں استقامت ,جذبہ حمیت اور جذبہ اتحاد ,اللہ اور رسول سے سچی لو لگانے کا مہینہ ہے -اس مہینہ کی عظمت وبرکت پر ہم ایک سرسری نظر ڈالیں کہ یہی وہ عظیم مہینہ ہے جسمیں قرآن نازل ہوا , روزے فرض ہوئے،شب قدر نازل کی گئ ,جنگ بدر پیش آئی ،فتح مکہ جیسی فتح وجود میں آئی- اس کے عشروں میں عبادات کے درجے کو بلند ترین مقام پر فائز کردیا-

اس مہینہ میں صدقات ووزکات و فطرہ جیس مالی عبادات کو رکھتے ہویے شریعت نے اس ماہ کی عبادات کو ایک خاص مقام ومرتبہ بخشا ہے -رمضان المبارک پر پہلو سے ہم مسلمانوں کے لیے باعث خیر وعظمت ہے لیکن اس سے جڑے ہوئے تین واقعات امت اسلامیہ کی عظمت شان وشوکت کا روشن مینارہ ہیں یہ وہ تین ابتدائی واقعات ہیں جس کی روشنی میں امت مسلمہ بحیثیت فردو ملت اپنی فوزوفلاح کے لیے حکمت عملی، نئ پالیسیاں ,اور ملت اسلامیہ کی بازیابی کی خاطر منظم تدابیر اختیار کرسکتی ہے -یہ ابتدائی تین واقعات تاریخ اسلام کا ایک ایساروشن باب ہیں جو ایک مسلمان کی زندگی میں مشعل راہ ہیں – اسکی ملی زندگی ہو یا اجتماعی وہ ان تینوں واقعات سے اپنی زندگی کو شریعت اسلامیہ کے تابع رکھ کر دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوسکتا ہے-

(۱) نزول قرآن سارےدن اور مہینے ایک جیسے ہوتے ہیں ،کیوں کہ سبھی اللہ کے بنائے ہو ئے ہیں اس لیے ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا ،لیکن بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جن کے ساتھ ساری انسانیت اور ساری کائنات کا مقدر وابستہ ہوجاتا ہے ۔ایسا ہی عظیم اور بابرکت وہ لمحہ تھا جب غار حرا میں ہدایت خداوندی کی آخری کرن نازل ہوئی اور نبی کریم اس ﷺاس کے امین ٹھہرے ۔اور یہ عظیم اور و بابرکت لمحہ اسی رمضان المبارک کے مہینہ کا تھا اور یہی راز ہے اس مہینہ کی برکت اور عظمت کا۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو سارے انسانوں کے لیے سر تا پاہدایت ہے ۔اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں ۔لہذا جو شخص اس مہینے کو پائے لازم ہے کہ وہ اس میں روزے رکھے ۔(سورةالبقرہ ۔۵۸۱)گویا رمضان المبارک کی عظمت و برکت کا سارا راز اس چیز میں پو شیدہ ہے وہ یہ ہے کہ اس مہینے میں نزول قرآن شروع ہوا۔اللہ کے رسول آغاز نزول قرآن سے قبل غار حرا کی تنہائیوں میں زیادہ سے زیادہ ذکر و فکر اور عبادت الہیٰ میں مشغول رہتے ،آپﷺ اعتکاف فرماتے جس کا ایک جزو روزہ ہے۔آپﷺ روزہ اور ذکر و فکر کے اسی عالم میں تھے کہ جبرئیل پہلی وحی لیکر تشریف لائے اور اسی طرح قرآن کے نزول کا آغاز ہوا –

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول قرآن ،روزے اور اعتکاف میں بڑا گہرا ربط ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہےشَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَ الْفُرْقَان(۴) رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیاجو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی روشن نشانیاں ہیں اور یہ حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔گویا رمضان المبارک کی اہمیت روزے کی وجہ سے نہیں بلکہ نزول قرآن کی شان اس کو اہم بناتی ہے ۔

یہ جشن قرآن کا مہینہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : لوگو؛ تمہارے پاس رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے ،یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کے لئے شفا ہے اور جو اسے قبول کرلیں اس کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے-(یونس :57) ان سب چیزوں سے بہتر ہے جو لوگ سمیٹ رہے ہیں ۔(سورہ یونس :۰۱ ۔۸۵ )قرآن کے لیے رمضان کے مہینے میں ایک ایسی رات کا انتخاب کیا گیا جسے اس مبارک مہینے کی روح اور اس کی برکات کا عطر کہنا چاہئے یعنی لیلۃ القدر، چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اِنَّآاَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِبلاشبہ ہم نے قرآن کریم لیلۃ القدر میں نازل کیا ہے اور تمہیں کیا معلوم کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ لیلۃ القدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے-گربدن کی پاکیزگی اس کے لفظوں کو چھونے کے لیے ضروری ہے تو پھر روح کی پاکیزگی اس کے معارف کو چھونے کے لیے ضروری ہے۔گویا قرآن سے حصول ہدایت کے لیے روح کی طہارت کی طرف بھی ہمیں توجہ دینا چاہیے۔ جتنی جتنی روح پاک ہوگی اتنی اتنی ہم قرآن کی ہدایت پاتے چلے جائیں گے۔ اللہ کی یہ کتاب اپنے پڑھنے والوں کو بہت کٹھن مقامات کی سیر کرواتی ہے، کئی ایسی منزلیں آتی ہیں جہاں قرآن مجید اپنے پڑھنے والوں سے سوال کرتا ہے، ان سے پوچھتا ہے کہ بتاؤ! تم ان منزلوں کو کیسے سر کرو گے؟ اس مرحلے کو کس طرح طے کرو گے؟ اس مقام سخت جاں سے گزرتے ہوئے دل کوکتنا رفیق پاؤ گے؟دوسراواقعہ:جنگ بدر:تاریخ اسلام کا وہ عظیم الشان دن جب اسلام اور کفرکے درمیان پہلی فیصلہ کن جنگ لڑی گی -جسمیں کفار مکہ کی طاقت کا گھمنڈ خاک میں ملنے کے ساتھ اللہ کے مٹھی بھر نام لیواؤں کو ابدی طاقت اور رشک زمانہ غلبہ نصیب ہوا جس پر آج تک مسلمان فخر کرتے ہیں اللہ کی خاص فتح ونصرت سے مٹھی بھر بے سرو سامان سر پھرےاللہ پر بھروسے کا سامان لیے اپنے سے تین گنا بڑے لاؤ لشکر کو اسکی تمام تر مادی و معنوی طاقت کے ساتھ خاک چاٹنے پر مجبور کردیا- اس جنگ نے ثابت کردیا کہ مسلمان نہ صرف ایک قوم بلکہ بہترین صلاحیتوں سے لیس ایک جنگجو قوم ہے یہ جنگ اسلام کے فلسفہ جہاد کا نقطۂ آغاز تھی – اس واقعہ کو چودہ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ گزرچکا ہے لیکن صدیوں بعد بھی غزوۂ بدر کفار مکہ کی شکست فاش اور مسلمانوں کی فتح ونصرت کی گواہی دیتے ہیں فضائے بدر کو ایک آپ بیتی یاد ہے ابتک یہ وادی نعرہ توحید سے آباد ہے ابتک اس جنگ نے غریب الوطن سرفروشان اسلام کو وہ عزم وحوصلہ بخشا جس سے وہ مستقل میں بڑی سے بڑی طاقت کے خلاف نبرد آزما ہوسکتے ہیں-سچ یہ ہےکہ جنگ بدر ہی اسلام کا عروج ہے اس جنگ نے واضح کردیا تھا کہ الہ واحد پر ایمان رکھنےوالی نہتی قوم اپنے سے تین گنا مسلح فوج کو دھول چٹاسکتی یے اسے پسپا کرنا لوہےکے چنے چبانے کے مترداف ہوگا – یہ واقعہ کسی معجزہ سے کم نہیں تھا اس کے بعد لوگوں کو اسلام کی وحدانیت، حقانیت اور صداقت ہر یقین آگیا لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے اس عظیم جنگ نے اسلام کی نشرو اشاعت کے مقفل دروازے کھول دیے۔ اسلام.کی اس پہلی جنگ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مسلمان جنگ میں پہل نہیں کرتے آخری وقت تک جنگ سے احتراز کرتے ہیں کیوں کہ اسلام سلامتی کا دین ہے اور سب سے بڑا سبق یہ ملتا ہےکہ اگر خلوص وللہیت کے ساتھ کلمہ حق بلند کرنے کے لیے مسلمان کسی بھی میدان میں اتریں تو ہرحال میں اللہ تبارک وتعالی کی مدد شامل حال ہوگی-تیسرا واقعہ :فتح مبین:یہ دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مصائب وآلام بھری زندگی کےاختتام کی تمہید تھا-آپ کی عزت وتکریم کا دن جب اللہ نے آپ کو پوری عظمت و محبت کے ساتھ اھل مکہ کے دلوں پر طاری کردیا – یوں تو عموماََ دلوں پر ہیبت ہی طاری ہوکر خود کو تسلیم کروانے پر مجبور کرتی ہے لیکن یہاں کائنات کے اصولوں سے جداگانہ ایک نیا قاعدہ رواج پاچکا تھا- وہ جو فاتح تھے ,بڑی ہی عجز وانکساری کے ساتھ گردن کو جھکائے ہوئے مکہ میں اس طرح داخل ہوتے ہیں کہ اھل مکہ کے دل ان کی ہیبت اور محبت سے معمور ہوئے جاتے ہیں۔ وہ دن سورج کی طرح افق پر پوری طرح روشن ہوکر دنیا کو یہ نوید دے رہا تھا کہ حق کے علمبردار اس دنیا میں بھی سرخرو ہوں گے اور آخرت کی ابدی کامیابی کا مینا بھی بھی انہی کے ہاتھ آنے والا ہے -فتح مکہ کا یہ پیام عام ہے کہ اللہ کا گھر اور اس کی عبادت کرنے والے انسان دونوں ہی شرک وبت پرستی کی آلائشوں سے پاک ہونے چاہیے تبھی جاکر بندگی کا حقیقی اور واجبی حق ادا ہوسکے گا- اور اللہ کے نبی کریم نے اس حق کو بخوبی ادا کیا – فتح مکہ کے دن اللہ کے رسول نے خانۂ کعبہ کے ساتھ ساتھ اھل مکہ کے دلوں میں بسے ہویے جھوٹے الہ کی محبت کو بھی مسمار کردیااور دنیا میں بسنے والے انسانوں کو یہ اصولی پیغام دیا کہ یہ زمین اللہ کی ہے اور اسی کی عبادت کےلیےخاص ہے لہذا اسمیں باطل سے سودے بازی نہیں کی جاسکتی -اس روز کی فتح مبین پر بجائے شورو غوغااور جشن کرنے کے اللہ کے ان سادہ دل بندوں نے اللہ کے سامنے سر بسجود ہوکر اس کے سامنے اپنی کمزوریوں اور اسکی عظمت کا بیان کرتے رہے – وہ جو سبھی کے لیے مشق ستم کا سامان تھے پیام وحدت سنانے کی پاداش میں جو سبھی کی نظروں میں کانٹے کی مانند کھٹکا کرتے تھے ,جنہیں مٹانے کی خاطر اسی سرزمیں پر دنیا کا ہر پینترا آزمایا جاچکا تھا آج انہوں نے ہر کس وبے کس کو یہ کہ کر اپنا غلام کرلیا "الیوم لاتثریب علیکم فانتم الطلقاء”مکی زندگی کے تیرہ سال ,ایک ایک دن کمزور اور ناتواں مسلمانوں کے خون سے سیاہ تھا ,نبی کریم کی اہانت سے ہر شام خون آشام تھی لیکن” الیوم لاتثریب علیکم.” کی پیغمبرانہ سنت سب پر حاوی ہوگی آپ نے عفو درگذر کی لاثانی داستان رقم کردی -اس روز گذشتہ سالوں کے دکھ ,درد کے مقابلہ میں اللہ نے آپ کے ہاتھوں اپنےبابرکت گھر کو عزت بخشی اور اپنے وحدت پسند بندوں کی جبینوں سے اپنے گھر کو معمور کیا – یہ اعزاز آپ کے پچھلے سبھی غموں کا مداوا تھا-

حرف آخر:

انسان جب کسی کا غلام ہوجائے تو اس کے لیے لازم آتا ہے کہ اس کی غلامی کو دورکیاجائے کیوں کہ انسان جسمانی اور عقلی بنیادوںپر آزاد پیدا کیاگیا ہےساتھ ہی وہ اللہ کا بندہ بھی ہے لہذا اسکے جسم وذہن کو اس کی ہر اس فکر سےنجات دلانی ہوگی جسکی غلامی میں رہ کر وہ غوروفکر اور عمل کرتا ہے اسے ہی تطہیر قلب یا تزکہہ نفس کہتے ہیں یہ عمل انہی افراد پر کیا جاسکتا ہے جن میں نفسیاتی غلامی سے آزادی کی خواہش ہو-جسکے اندر حق کی تلاش و جستجو ہو ,جو اپنے ذہن کی پیداوارکو اللہ کے بنایے اصولوں کے تحت پرکھنے کا جذبہ رکھتا ہو-جو اپنے افکار میں تضاد کا شائبہ بھی نہ آنے دیتا ہو – یہ تمام صفات جس کے اندر ہوں گی وہی حق کو پایگابھی اور اسے جذب بھی کرپائے گا – کیوں کہ تزکیہ نفس اور تطھیر قلب یہ کوئی معمولی کام نہیں ,یہ تو پیغمبرانہ مشن ہے ..هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (جمعۃ:۲)رمضان المبارک کے اس مہینہ میں امت کے ہر فرد کو خود کو اس عمل کے ساتھ گزارنا چاہیے تزکیہ نفس کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ باطل اوربوسیدہ اقدار ایک ایک کرکے بکھرتےچلے جائیں اوران کی جگہ صاف ستھری اقدار جنم لیں – یہی ہمارے لیے وہ بہترین استقبال رمضان ہوگا جو رمضان کے ایام گزارنے کے بعد ہماری سابقہ زندگیوں کے شب و روز کو مکمل طور پر تبدیل کردے گا-پھر یہی تبدیلی ہماری نجات کا ذریعہ ثابت ہوگی ان شاءاللہ ہرمضان المبارک کا استقبال ہمیں اس طرح کرنا چاہیے کہ ہم پر یہ واضح ہوجایے کہ جاء الحق وزحق الباطل(بنی اسرائیل: ۸۱) اور ساتھ ہی یہ بھی کہ حق کو باطال کیساتھ نہ ملاو اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاو (بقرہ 42)رمضان کااستقبال کریں ہم اپنے قول سے اپنے عمل سے ،اسلامی نظریہ حیات کو عام کرکےاور ان طریقوں کو اختیار کرکے جو ہم ہر لازم آتے ہیں-اس ماہ کا استقبال کرتے وقت خود سے عہدو پیمان باندھیں ایسا عہد کہ ہم اور آپ داعی الی الخیر بن جائیں – جس کےنتیجے میں ہماری زندگیاں نہ صرف ہمارے متعلقین کے لیے بلکہ عوام الناس کے لیے بھی فایدہ مند ہو رمضان المبارک کا استقبال کچھ اس طرح کریں کہ کہ یہ استقبال امت مسلمہ کے عروج کا ذریعہ بن جایے – اس ماہ کی عبادات سے اپنے ظاہرو باطن میں انقلاب لانے کی کوشش کریں -یہی ہے آنے والے اس رمضان کا شاندار استقبال ،ہماری زندگیوں کا بہترین استفادہ ،یہی ہے مومنوں کی منزل مقصود !

You may also like