مغربی بنگال میں صدر راج لگانے کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل داخل

نئی دہلی:اپوزیشن کاالزام ہے کہ جب سے مغربی بنگال میں بی جے پی کی شکست ہوئی ہے،وہاں تشددکاالزام لگاکر،کبھی وزراء کی گرفتاری سے مبینہ طورپرعدم استحکام کی کوششیں جاری ہیں۔اب سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی گئی ہے۔لیکن یوپی میں طبی لاپرواہی پراب تک ایسی کوئی درخواست نہیں کہ وہاں گورنرراج لگایاجائے۔جب کہ الیکشن کے نتائج تک وہاںانتظامیہ الیکشن کمیشن کے پاس تھا۔ اسی طرح ہرروزبہارمیں طبی بدنظمی کی شکایت آرہی ہے،لیکن ابھی تک وہاں کی حکومت کوبی جے پی ناکام نہیں بتارہی ہے۔مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد ہونے والے مبینہ تشدد کے معاملے میں سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مرکزی حکومت کو مغربی بنگال میں صدرراج کے نفاذکے لیے ہدایت دے۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد ہونے والے تشددکے لیے ہدایات جاری کی جائیں کہ آرٹیکل -356 کو استعمال کیا جائے اور وہاں صدر راج نافذ کی جائے۔سپریم کورٹ میں درخواست گزار ایڈوکیٹ گانشیم اپادھیائے کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کے حامیوں کے قتل کے معاملے کی ایس آئی ٹی کوتحقیقات کرنی چاہیے۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہاگیاہے کہ عدالت مغربی بنگال میں امن وامان کی صورتحال سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کے لیے مغربی بنگال کے گورنر کو ہدایات جاری کرے۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ ریاست میں امن و امان نام کی کوئی چیز نہیں ہے اورریاست میں آئینی مشینری مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔