مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے تناظر میں ـ ڈاکٹر عزیز قریشی

ترجمہ:مسعود جاوید

جہاد مقدس جنگ اور ناانصافی اور ظالم حکمران کے خلاف جدوجہد کا نام ہے۔
شاہنواز حسین اور اس قبیل کےجاہل اور ناقص معلومات والے لوگ مذہبی جذبات کا استحصال کرنے کے لیےاسے کوئی بھی نام دے سکتے ہیں ۔
جہاد کا اعلان سب سے اعلی مذہبی قیادت اور دینی اتھارٹی کر سکتی ہے نا کہ نام نہاد کمرشیل مفتی اور قاضی جو بارہ تیرہ ہر محلے اور گاؤں میں پائے جاتے ہیں۔
ممتا بنرجی ہندوستان میں جمہوریت، مساوات اور سیکولرازم کے تحفظ کے لئے امن‌ میں خلل ڈالنے والے عناصر ، تاریکی، بربادی اور تباہی مچانے والوں کے خلاف جہاد کر رہی ہیں ۔ انہوں نے غلطیاں بھی کی ہوں گی اور ان کی سیاسی پالیسی کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں کی سیاست سے مطابقت نہیں رکھتی ہوں مگر موجودہ صورتحال ہر ڈیموکریٹک اور سیکولرازم پسند پارٹی سے مطالبہ کرتی ہے کہ فرقہ پرست بریگیڈ کی سونامی اور آتش فشاں کو روکنے کے لئے اسے نیست و نابود کرنے کے لئے کچھ کڑوے گھونٹ پی لیں ـ اگر ہم ابھی بیدار نہیں ہوئے تو بہت دیر ہو چکی ہوگی اور ہمیں دفن کردیا جائے گا اور ہماری قبروں پر تباہی و بربادی تاریکی اور فنا کرنے والی رجعت پسند طاقتوں کے بینر بہت لمبے عرصے تک کھڑے رہیں گے جس کے لئے ہماری آنے والی نسل ہم میں سے کسی کو معاف نہیں کرے گی۔
تاریخ سے مقصود در حقیقت ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہے۔ اس وقت کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کو تاریخ کے صفحات الٹ کر یہ جاننے کی کوشش کرنا چاہیے کہ جرمنی میں ہٹلر کے عروج کی اصل وجہ کیا تھی؟ ان دنوں "سوشل ڈیموکریٹس” سب سے اہم سوشلسٹ پارٹی تھی جسے عظیم شخصیت جے پرکاش نارائن نے "پرائیڈ آف انٹرنیشنل سوشلزم” فخر بین الاقوامی اشتراکیت قرار دیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے کمیونسٹ پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ ان کا نمبر ون دشمن سوشل ڈیموکریٹس ہیں ۔ نتیجتاً کمیونسٹ اور سوشل ڈیموکریٹس دونوں ہار گئے اور ہٹلر اقتدار میں آگیا۔ اس کے بعد عالمی امن‌ اور جمہوریت کا کیا ہوا اس سے سب واقف ہیں۔
ہم ہندوستان کے عوام کانگریس ، ٹی ایم سی اور بائیں بازو کی جماعتوں کے لیے دلی دعا کرتے ہیں کہ وہ نوشتہ دیوار کو پڑھیں اور ہندوستان کو فرقہ واریت اور رجعت پسندی کے ہولوکاسٹ سے بچائیں۔ مستقبل کا مؤرخ قلم تھامے بے چینی سے منتظر ہے اور دیکھ رہا ہے کہ ہم اپنے حال اور مستقبل کے لیے کیا قدم اٹھاتے ہیں وہ ہم سے توقع کر رہا ہے کہ ہم نہ صرف عام آدمی کے بھروسے کو ٹوٹنے نہیں دیں گے بلکہ امن‌ دشمن طاقتوں کو شکست بھی دیں گے۔ اور اگر ایسا نہیں ہوا تو تاریخ ہم پر ماتم کرے گی۔
کانگریس ، بائیں بازو اور دیگر سیکولر جماعتوں کو وقت کی اہم آواز سننی چاہیے ، مذاکرات کے ذریعے انتخابی امور طے ہو جانے کے بعد ملک کو درپیش چیلنجز اور بڑے مقصد کی حصولیابی کے لئے ممتا بنرجی سے ہاتھ ملا کر ان کی پوری حمایت اور مکمل تائید کرنی چاہیے کیونکہ ہندوستان کے مستقبل کی تقدیر اور سیاسی مستقبل کا دار ومدار اگلے سال بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج پر ہےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*