مغربی بنگال کے مسلمانوں سے۔ایم ودود ساجد

مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کا جائزہ لینے کیلئے جس ہمہ جہت سکون کی ضرورت تھی وہ تو کیا میسر ہوتا وہاں رونما ہونے والے پُر تشدد واقعات نے ذہن کو اور زیادہ متاثر کردیاـ
مغربی بنگال میں الیکشن سے پہلے‘ الیکشن کے دوران اور الیکشن کے بعد پُر تشدد واقعات کی ایک قدیم روایت ہے۔۔ آج اس روایت کا جائزہ لینا مقصود نہیں۔لیکن یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ تین دہائیوں سے زائد عرصہ تک مغربی بنگال پر حکومت کرنے والی کمیونسٹ جماعتوں کا دامن بھی اس سلسلہ میں پاک نہیں ہے۔ جیوتی باسو اور بدھا دیپ بھٹاچاریہ کے 30-35 سالہ اقتدار کے دوران ان گنت سیاسی قتل ہوئے۔
اسی طرح ممتا بنرجی بھی الزامات سے پاک نہیں ہیں۔دس سال پہلے جب انہوں نے کمیونسٹ طاقتوں کا تین دہائی پرانا اقتدار ختم کیا تھا تو ان کے ورکرس نے بھی وہی کام شروع کردیا تھا جو کمیونسٹ ورکرس کرتے تھے۔یعنی اپنے سیاسی حریفوں پر حملے اور انہیں حزب اختلاف کی سیاست سے باز رہنے کا انتباہ۔۔ لیکن اس معاملے میں کمیونسٹوں کا دور انتہائی بدترین دور تھا۔ ترنمول سے اس کا کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا ۔
لیکن 2021 کا منظر نامہ کچھ مختلف ہے۔آج بہت تفصیلی جائزہ لینا مقصود نہیں۔آج تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ بنگال کے مسلمانوں سے وہی گزارش کرنی ہے جو میں نے الیکشن کی سرگرمی شروع ہونے سے کافی پہلے کی تھی۔
مغربی بنگال اسمبلی کی کل 294 نشستیں ہیں۔جن میں سے 292 سیٹوں پر الیکشن ہوا ہے۔دو سیٹوں پر بعد میں پولنگ ہوگی کیونکہ اس کے دو امیدواروں کی موت ہوگئی تھی۔ 292 سیٹوں میں سے آل انڈیا ترنمول کانگریس نے سب سے زیادہ 213 سیٹیں جیتی ہیں۔ بی جے پی نے 77سیٹیں جیتی ہیں۔ ایک ایک سیٹ دو غیر معروف سی جماعتوں نے جیتی ہے۔کمیونسٹوں کا جو محاذ تین دہائیوں تک بلا شرکت غیرے بنگال پر حکومت کرتا رہا 2021 کے الیکشن میں وہ ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکا۔اسی طرح کمیونسٹوں سے پہلے جو کانگریس بنگال پر حکومت کرتی تھی اس کا بھی ایک بھی امیدوار اسمبلی میں نہیں پہنچ سکا۔۔ کانگریس اور کمیونسٹوں نے اس بار مل کر الیکشن لڑا تھا اور بی جے پی سے زیادہ ترنمول پر سیاسی حملے کئے تھے۔
یہ بات صاف ہوگئی کہ اصل مقابلہ صرف دو جماعتوں‘ ترنمول اور بی جے پی کے درمیان تھا۔لہذا یہی دو جماعتیں اب بنگال اسمبلی میں اپنا وجود رکھتی ہیں۔ہر چند کہ بی جے پی بہت زیادہ کمزور نہیں ہے لیکن حکمراں اور اپوزیشن بلاک کے درمیان بہت فاصلہ ہے۔ایسے میں جہاں اپوزیشن کو احساس کمتری رہے گا وہیں حکمراں جماعت کو احساس برتری رہے گا۔یہ فطری ہے۔یہ امر بھی فطری ہے کہ جس کڑواہٹ اور جس زہریلی نفرت کی انتخابی مہم کے دوران کھیتی کی گئی اگلے پانچ سالوں میں رہ رہ کر اس کو کاٹا جاتا رہے گا۔
مجھے ترنمول کانگریس کے دفاع سے کوئی دلچسپی نہیں۔لیکن انتخابی مہم کے دوران ترنمول کانگریس کے قائدین نے نسبتاً ہلکا ہاتھ رکھا۔۔کسی لیڈر نے کوئی ہلکی بات نہیں کی۔بی جے پی کے لیڈروں اور خاص طور پر اس کی اعلی قیادت کے خلاف کوئی نازیبا بات نہیں کی۔چونکہ خود وزیر اعظم نے انتخابی کمان سنبھال رکھی تھی ان کے خلاف بھی ممتا بنرجی نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ہاں وزیر داخلہ کے خلاف انہوں نے تیز وتند سیاسی حملے ضرور کئے۔لیکن ان سے زیادہ ترش جملے خود امت شاہ نے ممتا بنرجی کے خلاف استعمال کئے۔
دوسری طرف وزیر اعظم کا لہجہ انتہائی تلخ‘ ترش اور نازیبا رہا۔انہوں نے جس طرح بھونڈے انداز میں”دیدی او دیدی“ کہہ کر ممتا کا مذاق اڑایا اور جس طرح ان کی ٹانگ کی چوٹ پر فقرے کسے اس سے ماحول بہت خراب ہوا۔مودی کا یہی لہجہ بی جے پی کو لے ڈوبا۔ان کے علاوہ امت شاہ‘ کیلاش وجے ورگیہ‘ دلیپ گھوش‘ بابل سپریو‘ متھن چکرورتی اور بہت سے بی جے پی لیڈروں نے بہت بد اخلاق مہم چلائی۔ظاہر ہے کہ ترنمول کیڈر میں اس سب کے خلاف غصہ پنپ ہی رہا تھا۔اب جب وہ حکومت میں واپس آگئے تو انہوں نے اس غصہ کا اظہار کرنا شروع کردیا۔حالانکہ ممتا بنرجی نے حلف برداری کے بعد کہا ہے کہ تشدد انہی علاقوں میں ہوا جہاں بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوئے ۔
ممتا کے بیان اور مرنے والوں میں چند ناموں پر نظر ڈالنے سے اس اندازہ کو تقویت ملتی ہے کہ بی جے پی کو مغربی بنگال کے مسلمانوں کا یکطرفہ فیصلہ بہت کھلا ہے۔۔ بد دماغ اداکارہ کنگنا رناوت نے جو کہا اس نے اس پہلو کو اور زیادہ مضبوط کردیا۔اس نے ٹویٹ کرکے کہا تھا کہ "۔غنڈئی (غنڈہ گردی) کو ہلاک کرنے کیلئے سپر غنڈئی کی ضرورت ہے۔ مودی جی آپ اپنا گجرات کا 2002 والا وراٹ روپ دکھادو۔۔۔” ظاہر ہے کہ یہ گجرات کے مسلم کش فسادات کی طرف واضح اشارہ تھا جس میں پولیس اور شرپسندوں نے سرکاری سرپرستی میں تاریخ کا سب سے بھیانک قتل عام مچایا تھا۔۔ ٹویٹر نے اس بد دماغ کا اکاؤنٹ ہمیشہ کیلئے بند کردیا ہے۔
مغربی بنگال میں ترنمول کی طاقت یہ ہے کہ ایک طرف وہاں عام ہندؤں میں فرقہ پرستی کا عنصر بہت کم ہے اور دوسری طرف ان کے ساتھ وہاں کے مسلم ووٹروں کی اکثریت ہے۔۔ دوسری ریاستوں میں یہ بہت کم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا جس طرف عام رجحان ہو عام ہندو بھی بڑے پیمانے پر اسی طرف مائل ہوں۔لیکن بنگال میں یہ ہوا۔۔ کہتے ہیں کہ مغربی بنگال کی کم وبیش 128سیٹوں پر مسلمان ووٹ خاصا اثر رکھتا ہے۔ مسلمانوں نے آنکھ بند کرکے ممتا کو ووٹ دیا اور کسی دوسری پارٹی کی طرف دیکھا ہی نہیں۔ بی جے پی اس عنصر کو سمجھ رہی تھی۔اسی لئے انتخابی مہم کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ سمیت ان کے دوسرے تمام لیڈروں نے اپنا رنگِ سخن فرقہ وارانہ بنائے رکھا۔
کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ انتخابی مہم اور پھر شروع کے پولنگ مرحلوں کے دوران ہونے والے تشدد میں سینٹرل فوسرز کی گولیوں سے مرنے والے زیادہ تر کون تھے؟ 11 اپریل کو کوچ بہار کے سیتل کوچی میں سی آئی ایس ایف کی گولیوں سے ایک 18سالہ نوجوان سمیت چار مسلم ووٹر مارے گئے تھے۔یہ چاروں ترنمول کے حامی تھی۔ 13 اپریل کو بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش نے ان چاروں کو ’برے لڑکے‘ قرار دیتے ہوئے سی آئی ایس ایف کی گولیوں سے ان کی ہلاکت کو جائز بتایا تھا۔بی جے پی کے دوسرے لیڈر راہل سنہا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ سی آئی ایس ایف کو چار نہیں بلکہ 8 لوگوں کو گولی مارنی چاہئے تھی اور یہ کہ سی آئی ایس ایف کو شو کاز نوٹس دیا جانا چاہئے کہ اس نے 8 کیوں نہیں مارے۔
کیا وزیر اعظم نے اپنے لیڈروں کے ایسے بیانات پر کوئی روک ٹوک کی؟ کیا خود الیکشن کمیشن نے اس کا کوئی نوٹس لیا؟ کیا سی آئی ایس ایف کی قیادت نے اس پر کوئی اعتراض کیا؟ اور کیا خود وزیر داخلہ نے اس پر ان لیڈروں کی کوئی گوشمالی کی؟ نہیں کی۔اس لئے نہیں کی کہ وہ اس الیکشن کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر لڑنا چاہتے تھے۔لیکن ترنمول کانگریس اور خود مسلمانوں نے اس پر ضبط کیا اور بی جے پی کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔بی جے پی اسی لئے آتش زیر پا ہے کہ بنگال میں کیوں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے اور کیوں مسلمانوں نے یکطرفہ ووٹنگ کی۔
اب خود ممتا بنرجی نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی بنگال میں نتائج کے بعد ہونے والے پر تشدد واقعات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔نیوز پورٹل دی وائر نے بھی اسی خیال کی تائید کی ہے۔اس کے ایک صحافی نے بنگال سے جو رپورٹ بھیجی ہے اس کے مطابق بی جے پی لیڈر پرانی اور فرضی ویڈیوز کے ذریعے ایسی افواہیں اڑا رہے ہیں کہ ’مسلم غنڈوں‘ نے بی جے پی حامی خواتین کی عصمت دری کی ہے اور یہ کہ بنگال میں ہندو زبردست خطرے میں ہیں۔ یہ نعرے حالانکہ انتخابی مہم کے دوران بھی لگائے گئے لیکن ہندؤں نے اس خیال کو مسترد کردیا کہ بنگال میں ہندو خطرے میں ہیں۔اب نتائج کے بعد اس بے بنیاد خیال کو ہوا دینے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح ماحول خراب ہو اور فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوں اور پھر ان کی بنیاد پر ممتا بنرجی کے اقتدار پر قدغن کی کوئی سبیل نکالی جائے۔وہاں صدر راج کے مطالبے تو شروع ہو ہی گئے ہیں۔حیرت اس پر ہے کہ بی جے پی کے مطالبات کی تائید میں کانگریس اور کمیونسٹ بھی سامنے آگئے ہیں۔
ایسے میں سب سے بڑی ذمہ داری بنگال کے امن پسند عوام اور خاص طور پر مسلمانوں پر آن پڑی ہے۔انہوں نے جس طرح الیکشن سے پہلے‘ انتخابی مہم اورالیکشن کے دوران ضبط کا دامن تھامے رکھا اسی طرح آج بھی یہ کرنا ہوگا۔اس بار کل 41 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جبکہ پچھلی بار یہ تعداد 55 تھی۔ان تمام 41 مسلم ممبران اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں گشت کریں اور لوگوں کو ضبط کی تلقین کریں۔ورنہ ملک کی باقی ریاستوں کو انہوں نے ’سیاسی اتحاد‘ اور سیاسی بصیرت کا جو راستہ دکھایا ہے اس کا کوئی معنی نہیں رہ جائے گا اور بی جے پی ہارکر بھی جیت جائے گی۔