مغربی بنگال کی سیاست:نام نہاد سیکولر جماعتیں اور مسلم لیڈر شپ

 

نوراللہ جاوید

مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی کاایشو کافی پراناہے،تعلیم اور ملازمت میں مسلمانوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کی وکالت سیکولر سیاسی جماعتیں کرتی رہی ہیں۔سچرکمیٹی اور دیگر کمیٹیوں کا قیام اسی مقصدکے تحت کیا گیا تھا۔یہ الگ بات ہے کہ ان کمیٹیوں کی رپورٹیں بھی مسلمانوں کی پسماندگی کا خاتمہ نہیں کرسکیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے حقوق اور مواقع کیلئے آنسو بہانے والی ان جماعتوں میں تنظیمی سطح پر مسلمانوں کی حیثیت کیا ہے۔کیا وہ اپنی تنظیمی سطح پر مسلمانوں کو آبادی کے لحاظ سے نمائندگی دے رہی ہیں؟۔کیا ان سیاسی جماعتوں کی فیصلہ سازی یا پھر کور کمیٹی میں مسلم لیڈران کی بھرپور نمائندگی ہوتی ہے؟۔یہ سوالات میں اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ جو سیاسی جماعتیں اپنی تنظیم اور ضلعی و ریاستی یونٹ میں آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کونمائندگی نہیں دے سکتی ہیں،کیا ان سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ حکومت میں رہ کر مسلمانوں کے ساتھ انصاف کریں گی۔

آج شام وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر پارٹی کی تنظیم میں بڑے پیمانے پر ردو بدل اور تشکیل نو کی ہے۔یہ تبدیلی انتخابی حکمت عملی کار پرشانت کشور کے ایک سالہ سروے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔چناں چہ قبائلی علاقے پرولیا، جھاڑگرام،بشنوپوراورمشرقی مدنی پور میں لوک سبھا انتخابات میں شکست کی تلافی اور جنگل محل میں پارٹی کو مضبوط کرنے کیلئے چھتر دھرمہتو جو اس علاقے کے ایک مضبو ط قبائلی لیڈر ہیں اور ان پر ماؤنوازوں سے قربت اور مدد سے پولس کے خلاف مہم چلانے کا بھی الزام ہے، ان کو ریاستی کمیٹی میں جگہ دی گئی ہے۔کئی نوجوان لیڈروں کو ضلعی اور ریاستی کمیٹی میں آگے لا کر پارٹی کی شکل و صورت بدلنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس وقت میرے سامنے ترنمو ل کانگریس یوتھ کی نوتشکیل شدہ کمیٹی کی پوری فہرست ہے۔ نوتشکیل یوتھ کمیٹی کا خاص طور پر جائزہ اس لئے پیش کررہا ہوں کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا یوتھ ونگ اس لئے اہم ہوتا ہے کہ اگلے چند سالوں کے بعد یہی نوجوان لیڈران پارٹی کی کمان سنبھالتے ہیں۔امیدوں کے مطابق یوتھ ونگ کی کمان ابھیشیک بنرجی جنہیں ممتا بنرجی کے بھتیجے ہونے کااعزاز حاصل ہے کو ایک مرتبہ پھر سونپی گئی ہے۔ پانچ نائب صدور بنائے گئے ہیں،ان میں ایک بھی مسلم نوجوان لیڈر شامل نہیں ہے۔15جنرل سکریٹری بنائے گئے ہیں ان میں صرف دو مسلم لیڈرز کو جگہ دی گئی ہے۔15سکریٹری بنائے گئے ہیں،ان میں ایک بھی مسلم نوجوان لیڈر شامل نہیں ہے۔28ضلع یوتھ صدور بنائے گئے ہیں ان میں مرشدآباد کی کمان امتیاز کبیراورجنوبی 24پرگنہ کی قیادت شوکت ملا کو دی گئی ہے۔گویا 64رکنی ٹیم میں صرف چار مسلم نوجوان لیڈر ان نے جگہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔یعنی 30فیصد مسلم آبادی والے مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے مستقبل کے لیڈروں میں صرف چار مسلم لیڈر ہوں گے۔21افراد پر مشتمل ریاستی کمیٹی کی بھی کم وبیش یہی صورت حال ہے،صرف دو مسلم لیڈران ریاستی وزیر فرہاد حکیم اور راجیہ سبھا کے رکن ندیم الحق کو جگہ دی گئی ہے۔جب کہ ان دونوں لیڈروں کا تعلق کلکتہ شہر سے ہے۔جب کہ شمالی بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں سے کسی بھی مسلم لیڈر کو اس میں جگہ نہیں دی گئی ہے۔یہی صورت حال ضلع کمیٹیوں کی ہے۔مرشدآباد اور مالدہ کمیٹی کی قیادت اگرچہ مسلم لیڈر کے ہاتھ میں ہے،مگر چیرمین اور کوآرڈری نیٹر میں سب کے سب غیر مسلم لیڈر ہیں۔شمالی دیناج پور میں جہاں مسلم آبادی 51فیصد ہے وہاں بھی مسلمانوں کی نمائندگی نہیں۔جنوبی دیناج پور کوچ بہار، ندیا، بیر بھوم،بردوان،ہگلی جہاں مسلمانوں کی آبادی 25فیصد سے زاید ہے وہاں بھی مسلم لیڈرشپ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

اس سال فروری میں ترنمول کانگریس کیلئے انتخابی حکمت سازی کرنے والے پرشانت کشور سے سالٹ لیک میں واقع ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی،انھوں نے انتہائی بے باک اور صاف گوانسان کی طرح مجھ سے کئی سوالات کئے اور میرے بھی کئی سوالات کے جوابات دئے۔انہیں وزیر اعظم مودی کے ساتھ ایک طویل مدت تک کام کرنے کا موقع ملا ہے،راہل اور پرینکا کے ساتھ بھی کام کا تجربہ انہیں ہے۔اروند کجریوال،نتیش کمار، امریندر سنگھ اورجگنموہن ریڈی کو اپنی انتخابی حکمت عملی سے وزیر اعلیٰ بناچکے ہیں۔اس لئے ان کی نظر ہندوستانی سیاست پر گہری ہے۔انہوں نے مسلمانوں میں ممتا بنرجی کی شبیہ سے متعلق مجھ سے سوال کیا؟ میں نے کہا کہ مسلم اکثریتی اضلاع مالدہ، مرشدآباد، شمالی دیناج پور میں اسدالدین اویسی کی سیاسی جماعت کے تئیں رجحان میں اضافہ ترنمول کانگریس کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ایک جھٹکے میں ہی اس امکان کوخارج کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے پاس ترنمول کانگریس کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں ہے۔بھلے وہ اس وقت اویسی اویسی کررہے ہیں،مگر ووٹ دیتے وقت ترنمو ل کانگریس کو ہی دیں گے اورممتا بنرجی صرف مسلم ووٹ کی بدولت تیسری مرتبہ وزیرا علیٰ نہیں بن سکتی ہیں۔اس لئے ہمیں 70فیصد ہندو اکثریت کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے محنت کرنی ہے۔کشور کی یہ صاف گوئی تمام سوالوں کا جواب فراہم کردیتی ہے کہ حکمراں جماعت کے نزدیک مسلم ووٹروں کی حیثیت کیا ہے۔

یہ صورت حال صرف ترنمول کانگریس کی نہیں ہے، بلکہ کانگریس اور سی پی ایم جیسی سیکولر جماعتوں میں مسلم لیڈر شپ کی صورت حال کم وبیش یہی ہے۔مگراس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ پارٹی کارکنان اورلاٹھی برداروں میں سب سے زیادہ مسلم ورکر ہرسیاسی جماعت میں سب سے زیادہ ہے۔بنگال کی خون ریز سیاست میں تشدد کا ارتکاب کرنے والوں میں مسلم کارکنان ہی ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ بی جے پی جیسی جماعت کیلئے مارنے اور مرنے والوں میں مسلم نوجوانوں کی اکثریت ہے۔اس کا ایک اقتصادی پہلو بھی ہے کہ بے روزگاری کے شکار مسلم نوجوانوں کو چند روپے کی خاطر آسانی سے مرنے اور مارنے پر آمادہ کرلیا جاتا ہے۔مگریہ مسلم معاشرہ اور اس کے اشرافیہ اور مصلحین کی ناکامی کا بھی ثبوت ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے 70سال بعد بھی مسلمانوں کا وجود سیاسی جماعتوں کے رحم وکرم پر منحصر ہے تو اس سے بڑھ شرمناک بات کچھ اور کیا ہو سکتا ہے۔دراصل 70کی دہائی میں سدھارت شنکر رائے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے، انہوں نے مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں میں حصہ داری کیلئے سنجیدہ کوشش کی اور انہیں کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی حصہ داری 8فیصد سے زاید پہنچ گئی۔جو بعد میں 2006میں گھٹ کر 2فیصد تک پہنچ گئی۔شنکررائے کی تمام تر مخلصانہ کوششیں ایک طرف مگروہ مسلم لیڈر شپ کے قائل نہیں تھے۔چناں چہ انہوں نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ جب وہ ہیں تو پھر مسلم نمائندگی کا سوال ہی کیوں۔ان سے بڑھ کر مسلمانوں کا مسیحا کوئی اور ہوسکتا ہے؟وہ وقت ہے اور آج کہ بنگال میں مسلم لیڈر شپ نام کی کوئی چیز بنگال میں باقی نہیں رہ گئی ہے،اب تک مسلم سیاسی جماعتیں، مساجدکے ائمہ اور مدرسوں کی وفاداری بھی خریدی جارہی ہے۔بات شاید ناگوار گزرے مگر حقیقی صورت حال یہی ہے،آج بی جے پی کا خوف دکھا کرمسلمانوں کو اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں ہے اوراگرکوئی آواز بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے بی جے پی اور آر ایس ایس کا ایجنٹ قرار دے کر معتوب قراردیدیا جائے گا اور اس سے بھی کا م نہیں چلا تو پھر گالی بازوں کی پوری ٹرول آرمی انجام تک پہنچانے کیلئے موجود ہےـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)