”مرگِ انبوہ “کا سرسری جائزہ-رمّانہ تبسم

اکیسویں صدی کے جن ناول نگاروں نے اپنے فن کا لوہا منوایا ہے،ان میں مشرف عالم ذوقی کا نام ہند و پاک میں سب کی زبان پر ہے ۔مشرف عالم ذوقی نے ناول نگاری کی ابتدا1986 میں کی۔پہلا ناول ”عقاب کی آنکھیں“ سترہ سال کی عمر میں لکھااور انھوں نے11ناول دنیائے ادب کو دیے ہیں اور قاری سے داد و تحسین وصول کر چکے ہیں۔مشرف عالم ذوقی نے ناولوں میں تہذیب، تاریخ،عقائد،نفسیات،رسومات،فسادات،سیاست ،اورزندگی کے گوناگوں مسائل کوبہت خوبصورتی کے ساتھ برتا ہے نیز اپنی تہذیب کے خدوخال کو اس طرح اجاگر کیا ہے جو قارئین کے دل و دماغ پر نقش ہو جاتے ہیں۔مشرف عالم ذوقی کے ناول پڑھ کر ایک الگ ہی قسم کا احساس ہوتا ہے ۔موضوع اور اسلوب کی انفرادیت انھیں دیگر ناول نگاروں کی بھیڑ سے ممیز رکھتی ہے۔
مرگِ انبوہ 2019میں ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاﺅس دہلی سے شائع ہواہے، یہ ناول 431صفحات اور پانچ ابواب پرمشتمل ہے اور انتساب فکشن کی عظمت کا نشان عظیم انسان سید محمد اشرف کے نام کیا ہے۔ اس ناول میں گذشتہ صدی کی برق رفتاری کا عکس نظر آئے گا تو موجودہ عہد کے سلگتے ہو ئے مسائل بھی ملیں گے۔ انھوں نے اپنے ناول میں مرزا پاشا،جہانگیر مرزا ، سارہ جہانگیر، سبحان علی جیسے منفرد کرداروں کے ذریعے حقیقتوں کو پیش کیاہے۔اس ناول کے دو مرکزی کردار پاشا مرزا اور جہانگیر مرزا ہیں۔اس ناول میں پرانی اور نئی نسل کا ٹکراﺅ دیکھنے کو ملتا ہےـ
مرگ انبوہ کا پہلا باب ”موت سے مکالمہ ہے“مشرف عالم ذوقی نے باب اول میں نئی نسل کو موضوع بنایا ہے۔جسے گھر کا بنا کھانا پسند نہیں بلکہ اسے فاسٹ فوڈ زیادہ پسند ہے ۔نئی نسل روزبروز کتابوں سے دورہو کراپنازیادہ تر وقت موبائل ،ویڈیوں گیم ،انٹر نیٹ پر اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہی ہے ۔موبائل اور اور انٹر نیٹ دن بھر چلانے سے اس کا اثر اس کی صحت پر بھی پڑرہا ہے جس کی وجہ سے اس میں چڑچڑاپن بڑھ رہا ہے۔یہی نہیں نئی نسل نفسیاتی بیماری میں بھی مبتلا ہو رہی ہے اورذرا سی مرضی کے خلاف کوئی بات ہونے پر گھر سے بھاگ جاتی ہے یا خودکشی کر لیتی ہے۔
ناول باب اول کے مرکزی کردارپاشا مرزا کی زبانی بیان کیاگیا ہے۔پاشا مرزا بیس سالہ نوجوان ہے اور اسی سال کا تجربہ رکھتا ہے۔جنک فوڈ کھانے والے کو مرنے والوں سے کوئی ہمدردی نہیں ،وہ سونامی کا استقبال کرنے والے نوجوان ہیں اور بلیووہیل کو اپنی زندگی کا اہم ترین حصہ سمجھتا ہے،اپنی زندگی میں کسی کی دخل اندازی برداشت نہیں کرتا ۔ماں ہو یا پھرکوئی اور فرد وہ آزاد ہو کر جیناچاہتا ہے اورگاندھی جیسے لوگ ان کے آدرش نہیں ہوتے ۔جب پاشا مرزا کو بچپن میں ما ں بانہوں میں لے کر جن اور پریوں کی کہانیاں سناتی وہ ہنستے ہوئے ماں کو روک دیتا اور جب اس کے والد اپنے کالج کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں جھنانکتے تو وہ اپنے والد کی بات سن کر تعجب خیز نگاہوں سے دیکھتا اور سوچتا کہ کیا کوئی دنیا فیس بک اور گوگل سے الگ بھی ہو سکتی ہے۔ اس باب کا مرکزی کردار اپنی ماں سارہ جہانگیرسے محبت کرتا ہے لیکن اسے اپنے باپ جہانگیر مرزا سے سخت نفرت ہوتی ہے کیوں کہ اسے لگتا ہے کہ اس کا باپ اس سے محبت نہیں کرتا ۔وہ باپ کے لیے ریپر یا بیکار کاغذ ہے۔ وہ سوچتا ہے اس گھر میں کیوں پیدا ہوا اس گھر میں اس کی تمام خواہش گھٹ کے رہ گئی ہے ۔جب اس کی نظر دیوار پر لگی فوٹو فریم پر پڑتی ہے جس میں اس کے والدین اور وہ تھا،اسےدیکھ کر نفرت سے دوسری طرف نظریں کر لیتا ہے۔ اس کے باپ کو محبت ہے تو صرف کتابوں سے وہ ہر وقت کتابوں کی دنیا میں گم رہتا ہے ۔اس کے اردگرد کتابوں کا ڈھیر رہتا ہے ۔وہ جدھر نظریں دوڑاتا ہے اسے ہر طرف کتابیں ہی نظر آتی ہیں لیکن مرزا پاشا کو گھر میں کتابوں کا ڈھیر پسند نہیں وہ چاہتا ہے کہ اس کا باپ کچھ وقت اس کے ساتھ گزارے،اس کی خواہشوں کو پورا کرے ،اس کے موبائل اور لیپ ٹاپ جو پرانے ہو چکے ہیں اسے نئے لا کر دے اس کے دوست ہرروزنئے موبائل بدلتے رہتے ہیں ۔وہ چیخ کر نفرت سے اپنے باپ سے کہتا ہے:
”اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں بڑا ہو کر میں آپ کی طرح کہانی لکھوں گا تو یقینا آپ غلط سوچتے ہیں۔“
بیٹے کے منہ سے سخت لہجے میں یہ بات سن کر جہانگیر مرزا کے چہرے کا رنگ فق جاتا ہے ۔وہ بیٹے کو پیار سے سمجھاتا ہے:
”میرے لیے یہ دنیا جس میں ابھی اس وقت میں ہوں اور ہمیشہ رہتا ہوں بڑی اور قیمتی ہے ۔جیسے وہ دنیا تمہارے لیے بڑی اور قیمتی ہونے والی ہے ۔جس دنیا پر آنے والے وقت میں تم حکومت کرو گے۔“
باپ کے منہ سے یہ الفاظ سن کر پاشا مرزا خاموش ہو جاتا ہے کہ اس وقت بھی اس کا باپ اسے سمجھ نہیں پا رہا۔
ناول کا دوسرا باب”جہانگیر مرزا کی ڈائری “انسان اپنی زندگی میں بہت سے واقعات اورحا لات سے دو چار ہوتا ہے اور انھیں وقتی طور پر بھول جاتا ہے لیکن جہانگیر مرزا ان واقعات اور حادثات کو روزانہ اپنی ڈائری میں لکھتا ہے۔جہا نگیر مرزا کی صحت دن بدن خراب ہوتی جاتی ہے اور مرنے سے پہلے اپنی بیوی سارہ جہانگیر کو وصیت کرتا ہے کہ اس کے مرنے کے دو سال بعد یہ ڈائری اس کے بیٹے پاشا مرزا کو دے دے، کیوں کہ اس وقت پاشا مرزا باشعور ہو جائے گا اور ڈائر ی میں لکھی باتوں کو سمجھ سکے گا۔جہانگیر مرزا کی وصیت کے مطابق سارہ جہانگیر دو سال بعد ڈائری پاشا مرزا کودیتی ہے ۔اس وقت پاشا مرزا 20سال کا ہوتا ہے لیکن پاشا مرزا ڈائری کھولنا نہیں چاہتا۔اس ڈائری میں بیس برسوں کی زندگی روشن تھی اور ڈائری کا ہر صفحہ روشن تھا مگر پاشا مرزا صفحو ں کو کھولنے سے گھبراتا ہے وہ بار بار ڈائری کی طرف دیکھتا رہتا ہے وہ سوچتا ہے کہ ان صفحوں کو دیکھے گاجہاں اس کے نفرت کی ابتدا ہوئی لیکن جب پاشا مرزا ڈائری پڑھنا شروع کرتا ہے تو ایک ایک لفظ محبت اور فکر میں ڈوبا ہوا تھا کہ اس آنے والے وقت کا مقابلہ اس کا بیٹا کیسے کر پائے گا۔ ڈائری میں کچھ جگہ نشانات بھی لگے ہوئے ہوتے ہیں۔
ناول کا باب سوم ”موت سے سامنا“ہے، آہستہ آہستہ ناول کا باب کھلتا جاتا ہے اور عہد بہ عہد بدلتا مزاج نظر آتا ہے اور قاری مرگ انبوہ سے قریب ہوتا چلا جاتاہے۔ اس ناول میں جہاں ایک طرف برق رفتاری کا عکس نظر آتا ہے تو موجودہ عہد کے سلگتے ہوئے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔جب ناول کا باب چہارم ”مرگ انبوہ کا باب کھلتا ہے تو قاری اس کے بالکل قریب ہو جاتا ہے یہاں بھی جہانگیر مرزا اپنے بیٹے پاشا مرزا کو اپنی زندگی کے بارے میں بتاتا ہے۔ یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ دور حاضر میں کس طرح ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ آئے دن ظلم و ستم ہو رہے ہیں،مسلمانوں کوکبھی ماب لنچنگ کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا جا رہاہے اور کبھی دہشت گرد قرار دے کر ان کا تابناک مستقبل ختم کیا جا رہاے کبھی مسلمانوں کے مذہبی اداروں پر حملہ ،اقلیت سے تعلق رکھنے والی نشانیوں کو آہستہ آہستہ مٹانے کی سازش، شہروں کے نام تبدیل کرکے اپنے نام کر لینا،اور این آرسی،سی اے اے اور این پی آر کے تحت مسلمانوں کو اپنے ہی وطن میں شہریت ثابت کرنے کے لیے دستاویز دکھانا۔یہ تمام باتیں جہانگیر مرزا کی ڈائری سے سامنے آتی ہیں ۔مشرف عالم ذوقی نے ملک کی آزادی، طبقاتی کش مکش ،مذہبی جارحیت فرقہ وارانہ کشیدگی وغیرہ بے شمار مسائل جن سے ہندوستانی سماج دوچار ہے ایسے تمام پس منظر میں یہ ناول لکھا ہے ۔1947میں ہمارا ملک آزاد ہوا اور پھر اس کے ساتھ قوم نے تقسیم کا درد بھی سہا ان تمام درد کوناول نگار نے محسوس کیا اور نہایت بے باکی سے نقشہ کھینچا ہے ۔مرگ ابنوہ کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ ذوقی صاحب اپنی قوم اور ہندوستان میں بسنے والے انسان کی بے بسی دیکھ کردل برداشتہ ہیں ۔مرگ انبوہ سے چند اقتباسات ملاحظہ کیجئے :
”ہمارے بچوں کو کون بتائے گا کہ حملہ ٓاور چیونٹیوں نے چاروں طرف سے ہم کو گھیر رکھا ہے۔“
”خون چوسنے والی سرخ چیونٹیاں یہ کیا ہو رہاہے۔جہانگیر مرزا کچھ لوگ غائب ہو جاتے ہیں کچھ مکانات راتوں رات جن اور بھوت اٹھا کر لے جارہے ہیں کچھ سر عام ہلاک کر دیے جاتے ہیں اور کچھ خو ف میں مبتلا ہو کر مر جاتے ہیں ۔ہم رینگنے والے کیڑوں سے بھی بدتر بنا دیے گئے ہیں۔“
ناول کا باب پنچم ہے ”نیند میں چلنے والے“ مشرف عالم ذوقی نے بڑی خوبصورتی اورچابک دستی سے اس باب کو سمیٹا ہے۔ جب پاشا مرزا اپنے باپ کی ڈائری پڑھتا ہے تو اس کے دل میں باپ کے لیے جو نفرت تھی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے وہ سوچتا ہے کہ وہ کتنا غلط تھا اس کا باپ اس سے کتنا پیار کرتا تھا۔ وہ ڈائری کو کئی بار پڑھتا ہے۔ڈائری میںجہانگیر مرزا بیٹے پاشا مرزا کو لکھتا ہے۔
”میرے بیٹے میں زندگی بھر تہی دامن رہا میرے پاس کچھ نہیں تھا سوائے محبت کے مجھے احساس ہے کہ کبھی بھی میری موت ہو سکتی ہے ،میری طرح زندگی میں شکست تسلیم مت کرنا۔“
ناول نگار کی عقابی نگاہ معاشرے پر مرکوز رہتی ہے اور اسے لفظوں کا جامہ پہنا کر کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ وہ حقیقت کے قریب نظر آنے لگتا ہے ۔یہ مشرف عالم ذوقی کی فنی مہارت اور وسیع تجربات و مشاہدات کا ماحصل ہے جو ہمیں بار بار انھیں داد دینے پر مجبور کرتا ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)