معاف کرنا،مسلمان سمجھ کر مارا تھا-معصوم مرادآبادی

پچھلے دو دن سے مدھیہ پردیش کے بیتل ضلع کی ایک خبر میڈیا میں خوب چل رہی ہے۔ وہاں کے ایک وکیل دیپک بندیلے لاک ڈاؤن کے دوران اسپتال جارہے تھے کہ راستے میں انہیں پولیس والوں نے گھیر کر بری طرح پیٹ ڈالا۔ انھوں نے اس واقعے کو اعلیٰ افسران تک پہنچایا تو تحقیقات کے لئے ان کے گھر آ نے والے انسپکٹر نےمعذرت خواہانہ انداز میں کہا کہ ” وہ اپنی شکایت واپس لے لیں کیونکہ ان کے چہرے پر داڑھی ہونے کی وجہ سے دھوکہ ہوگیا اور پولیس والوں نے انھیں مسلمان سمجھ کر مارا تھا۔ ” لیکن دیپک نے اس معذرت کو قبول نہ کرکے اس معاملے کو بہت آگے لے جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک خاص فرقے کے خلاف نفرت کا جو زہر بویا جارہا ہے، وہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ زہر معاشرے میں حاشیہ پر کھڑے ہوئے سبھی لوگوں کے لئے خطرناک ہے۔
مجھے دیپک بندیلا کی کہانی پڑھ کر اپنے ساتھ پیش آ نے والا ایک پرانا واقعہ یاد آ یا۔ ہوا یوں کہ 1989 میں اترپردیش کی نارائن دت تیواری سرکار نے اردو کو یوپی کی دوسری سرکاری زبان بنانے کا اعلان کیا تو اردو دشمنوں نے فرقہ طوفان برپا کردیا۔ اس دوران بدایوں میں بھیانک فساد پھوٹ پڑا ۔ درجنوں لوگ ہلاک ہوگئے۔ ہم رپورٹنگ کے لئے اسی روزدہلی سے بذریعہ ٹیکسی بدایوں روانہ ہوگئے۔ کلکتہ سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار” ٹیلی گراف” کے نمائندے یوراج گھیمری اور فوٹو گرافر راجیش کمار بھی ہم سفر تھے۔ ہم تینوں میں سے صرف راجیش کے چہرے پر داڑھی تھی۔ جب ہم بدایوں شہر میں داخل ہونے لگے تو راستے میں پولیس والوں نے پوچھ تاچھ کے لئے روک لیا ۔ اس دوران انہوں نے راجیش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ” اسے یہیں چھوڑ جائیں کیونکہ یہ مسلمان ہے اور اس کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔” اس پر میں نے پولیس والوں کو اپنا نام بتاکر کہا کہ مسلمان تو میں ہوں’ یہ تو راجیش کمار ہے۔ بہرحال ہم تینوں کسی طرح کرفیو زدہ شہر میں داخل ہوئے اور انتہائی بھیانک فساد کی رپورٹنگ کے بعد دہلی واپس آ گئے۔ کچھ دن بعد پریس کلب میں جب راجیش سے ملاقات ہوئی تو اس کے چہرے پر داڑھی نہیں تھی ، لیکن میں اب بھی اسے ” مسلمان” کہہ کر ہی پکارتا ہوں اور وہ میرے اس مزاح سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ یوراج گھیمری ان دنوں اپنے وطن کاٹھمنڈو میں ہے اور جب کبھی دہلی آ تا ہے تو مجھ سے پرانی دہلی کی نہاری کھانے کی فرمائش کرتاہے۔ خدا ان جیسے دوستوں کو سلامت رکھے اور ہم میں سے کسی کو” مسلمان” ہونے کی سزا نہ ملے۔
زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے کہ مسلمان ہوں میں

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)