مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام دو روزہ آنلائن مشاعرے کا انعقاد

 

بھوپال(پریس ریلیز): مدھیہ پردیش اردو اکادمی محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام دو روزہ آنلائن مشاعرے کے انعقاد کے پہلے دن صوبے کے مختلف حصوں سے 10 شعراء نے اپنا کلام پیش کیاـ

پروگرام کی شروعات میں اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے تمام شعرا کا استقبال کرتے ہوئے اور آنلائن مشاعرے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ مشاعرے صرف سیر و تفریح کا ذریعہ ہی نہیں ہوتے بلکہ اردو زبان و ادب کے فروغ اور اس کی ترقی و ترویج کا بھی ذریعہ ہوتے ہیں، اسی لیے اردو اکادمی اس طرح کے مشاعروں کا انعقاد کرتی ہے ۔ چونکہ ابھی صرف آن لائن مشاعروں کا انقعاد ہی ممکن ہے اس لئے اس روایت کو اس طرح قائم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ساتھ ہی یہ مقصد بھی ہے کہ صوبے کے شعرا کو موقع بھی ملتا رہےـ

پہلے دن کے مشاعرے میں جن شعرا نے اپنا کلام پیش کیا ان کے منتخب اشعار درج ذیل ہیں:

 

 

جس کے کمال فن سے ہے ہر فن کی آبرو

میرے کمال فن میں اسی کا کمال تھا

(انور صادقی-اندور)

 

کچھ دن سے دل بضد ہے کہ جی بھرکے روئیے

ہنس ہنس کے زندگی کا بہت سامنا کیا

(آفتاب عارف- بھوپال)

 

تپتا سورج دھوپ اٹھا کر گزر گیا خاموشی سے

اپنا سایہ بانٹ رہے تھے سبز قبا والے درویش

(ضیا فاروقی – بھوپال)

 

تو اس طرح سے میری ذات کی ضرورت ہے

چراغ جیسے ہر اک رات کی ضرورت ہے

( تلک راج پارس- جبلپور)

 

ادھورا ہی صحیح کردار میرا

کہانی تو مکمل کررہا ہوں

(دیپک جین- گنا)

 

یہ دعاؤں کا ہے اثر بابا

میں سبھی میں ہو معتبر بابا

(مقصود نشتری- اندور)

 

گلے مل کر گیا تھا صبح بھائی کی طرح سے جو

اسی نے پیٹھ میں گھونپا ہے خنجر شام ہوتے ہی

( راز رومانی- اجین)

 

کہہ بھی میں نہیں سکتی لکھ بھی میں نہیں سکتی

میں چھپائے پھرتی ہوں کس کا پیار آنکھوں میں

(رانا زیبا- گوالیار)

 

پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر نصرت مہدی نے بحسن خوبی انجام دیےـ