مدرسے اور یونیورسٹی کے طالب علم کا فرق-قیام الدین

ہمارے معاشرے کی یہ بڑی پریشانی ہے کہ جب تک کوئی عالم آئڈیل گفتگو کرتا ہے محض ہوائی باتیں اور فضیلتیں وغیرہ بیان کرتا ہے تو اس کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے لیکن جوں ہی کوئی عالم اس کو حقیقت کی دنیا سے جوڑ کر صحیح اور غلط کا آئینہ دکھاتا ہے اور پریکٹیکلی اس کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو فوراً اس پر نقد و رد کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ مثلاً ابھی اگر کوئی کہہ دے کہ فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد یعنی شیطان کے خلاف ایک فقیہ ہزار عابدوں سے زیادہ طاقتور ہے تو سارے واہ واہ کردیں مگر اسی بات کو جب مولانا الیاس گھمن نے حقیقی دنیا پر فٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایک فاسق مدرسے کا طالب علم یونیورسٹی کے ولی سے زیادہ افضل ہے جس کا صاف سا مطلب ہے کہ عقائد کے باب میں مدرسے کا فاسق طالب علم بھی یونیورسٹی کے ولی طالب علم سے زیادہ راسخ ہوتا ہے جس کی بناپر اس کی گمرہی اور بھٹکنے کے امکانات کم ہوتے ہیں اور اعتقادی گمرہی عملی گمرہی سے ہزار گنا شدید ہوتی ہے تو ہنگامہ مچ گیا کہ یونیورسٹی کے طلبا کی تحقیر کی گئی ہے اور پھر اس کے بعد سب سے پہلے شدید اختلاف ہمارے مدارس کے فضلا کی جانب سے ہی آیا۔
اسی تناظر میں معروف قلم کار مالک اشتر بھائی نے ایک مضمون لکھا، بندہ نے پھر اس پر تبصرہ کیا جس میں مدرسے اور یونیورسٹی کے طلباء کے درمیان کے فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے، ملاحظہ فرمائیں:
اشتر بھائی میرے خیال میں آپ نے صرف بات کا بتنگڑ نہیں بنایا بلکہ پوری گفتگو کا رخ سیاق و سباق سے ہٹاکر بے جا مطلب نکالنے کی کوشش کی ہے۔ آپ کے اس مضمون کے دو بنیادی نکات ہیں:پہلے نکتے سے آپ نے یہ مطلب نکالنے کی کوشش کی ہے کہ مدرسے کا طالب علم دلیل کی ڈور تھام کر آگے نہیں بڑھتا بلکہ بلکہ خوش گمانی اور اکابر پر اعتماد کو ترجیح دیتا ہے حالانکہ یہ بالکل غلط مطلب ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے دلیل کی دنیا کا سفر طے کیا ہوگا، تو آپ ضرور اس تجربے سے گزرے ہوں گے کہ حق کے پاس بھی دلائل ہوتے ہیں باطل کے پاس بھی دلائل ہوتے ہیں۔ مسئلہ دلیل کا ہے ہی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ کیا آپ کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ دلیل کی قوت و ضعف کو آپ پرکھ سکیں؟ اگر یہ صلاحیت ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کے اندر ہوتی تو پھر ایک عام عالم اور ایک جید عالم کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں ہوتا۔ اسی پوائنٹ پر آکر مدرسے کا طالب علم یہ کہہ کر جم جاتا ہے کہ دلیل اگرچہ مجھے بھی معقول لگ رہی ہے؛ لیکن ہوسکتا ہے کہ میری عقل کی رسائی وہاں تک نہ ہوسکے، جہاں تک میرے بڑوں کی ہوئی ہے، لیکن یہ چیز یونیورسٹی کے طالب علم کے پلے نہیں پڑتی وہ اس زعم میں رہتا ہے کہ جب چالیس سال کے پروفیسر یا عالم دین کو دلیل کی قوت و ضعف کا اندازہ ہوسکتا ہے تو مجھے کیوں نہیں میرے پاس تو بھی وہی عقل ہے۔ شاید آپ کو اپنے اس نکتے کا ضعف سمجھ میں آگیا ہوگا۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ "اب یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ کسی اور کے پاس دلیل ہونے کا یقین میرے علم کی بنیاد بن جائے” آپ کہتے ہیں ایسا نہیں ہوسکتا،لیکن میں کہتا ہوں، ہوسکتا ہے۔
مولانا نے عقائد کے پس منظر میں یہ بات کی ہے اور عقائد اور علم کے معاملات قدرے مختلف ہیں۔ علم میں صرف دلائل کی بنیاد پر بحث ہوتی ہے لیکن عقائد کے باب میں اللہ رسول کے کہنے پر عموماً تکیہ کیا جاتا ہے، دلائل ایک ضمنی چیز ہوتی ہے۔
آپ گے (Gay) کے ہی مسئلے پر باطل کے دلائل پڑھ کر دیکھ لیں، اکثر باتیں آپ کو معقول نظر آئیں گی، مگر ہم نے اپنے دل میں یہ بات جاگزیں کررکھی ہے کہ یہ ایک لوطی عمل ہے جسے شریعت نے حرام کررکھا ہے تو کررکھا ہے۔ ہم دلیل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، سمجھ میں آگئی تو ٹھیک، ورنہ ہم اس معقولیت کو نظر انداز کردیتے ہیں اپنے مذہب اور اپنے بڑوں پر اعتماد کرکے۔ یہی چیز ایک یونیورسٹی کا طالب علم نہیں کرپاتا؛کیوں کہ یہ اسے علم مخالف اور عقل مخالف شی معلوم ہوتی ہے۔ اگر اسی معقولیت کی نمائندگی آپ کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہم نامعقول ہی بھلے ہیں۔ اخیر میں ایک بات عرض کرنا چاہوں گا کہ عقیدے کو جب جب علم کی کسوٹی پر رکھ کر پرکھا جائے گا،توگمرہی ہی مقدر ہوگی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*