مدارس مفت دینی تعلیم دینا بند کریں!- عمران صدیقی ندوی

جس زمانے میں مدارس کی بنیاد رکھی جا رہی تھی اس وقت ان کے سامنے دو بنیادی مسائل تھے ایک عام مسلمانوں کی دینی تعلیم کے تئیں عدم دلچسپی اور دوسرا مسلمانوں میں پھیلی جہالت کو دور کرنے کے لیے داعیوں اور مبلغین کی کمی۔ ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے اکابر نے یہ فیصلہ کیا کہ دینی تعلیم بالکل مفت دی جائے گی؛ تاکہ کسی نہ کسی بہانے سے مسلمان اپنے بچوں کو دینی علوم سکھائیں، جہاں تک ان طلبا پر ہونے والے اخراجات کی بات تھی، تو اس کا حل یہ تلاش کیا گیا کہ اس کے تمام اخراجات مسلمانوں سے عمومی چندہ کی شکل میں وصول کیا جائے گا، عمومی چندے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ جب چندہ کرنے والا مسلمان محلوں میں جاتا تو چندے کے ساتھ دین کی تبلیغ بھی کرتا۔

اس حکمت عملی سے ہمارے اکابر نے اُس زمانے میں ان دونوں بنیاد مسائل کو حل کیا اور بہت اچھی طرح حل کیا، اُس زمانے کے اعتبار سے مفت دینی تعلیم اور عمومی چندہ وقت کی ضرورت تھی؛ لیکن آج حالات بہت بدل گئے ہیں، اب مسلمانوں میں دینی علوم کی تعلیم و تعلم کا عمومی رجحان پایا جاتا ہے، آج مدارس میں ہر طبقے کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور جہاں تک عام مسلمانوں میں دین کی تبلیغ کی بات ہے تو اِس زمانے میں اس کی بہت سی شکلیں وجود میں آ گئی ہیں، مسجد کے امام سے لے کر میڈیا تک تبلیغ کی ہزاروں شکلیں اس دور میں موجود ہے، جن کے مفید نتائج سے آج کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔

اس لیے اب اہل مدارس کو اپنے نظام پر ایک بار پھر سے غور کرنا چاہیے اور مفت قیام و طعام و تعلیم کے بجائے بچوں سے مکمل فیس لینی چاہیے اور جو بچے قیام طعام و تعلیم کی فیس نہ ادا کر سکیں، ان کے لیے خود چندہ کرنے کے بجائے ان طلبا کو یہ کہنا چاہیے کہ وہ اپنی اسکالرشپ خود تلاش کریں (جس طرح اسکول کالج میں ہوتا ہے، اسکول کالج کبھی بچوں کی فیس کے لیے چندہ نہیں اکٹھا کرتا ہے؛ بلکہ مستحق بچوں کے والدین خود اپنے بچوں کے لیے اسکالرشپ تلاش کرتے ہیں) اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ مدارس سے غیر ضروری بھیڑ خود بخود ختم ہو جائے گی اور صرف وہی طلبا مدارس کا رخ کریں گے، جن میں دینی علوم حاصل کرنے کی سچی طلب ہوگی۔ ایسا کرنے سے مدارس پر سے غیر ضروری بوجھ بھی کم ہو جائے گا اور وہ پوری یک سوئی کے ساتھ سچے طالب علوم نبوت کی تعلیم و تربیت کر سکیں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*