الیکشن کمیشن کے خلاف قتل کا مقدمہ چلایا جائے،کورونا کی دوسری لہر انتخابی ریلیوں کی وجہ سے آئی،مدراس ہائی کورٹ کا سخت تبصرہ

چنئی:مدراس ہائی کورٹ نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران کورونا کیسز میں تیزی سے اضافے کے لئے الیکشن کمیشن کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ صرف یہی نہیں ، عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ سلوک کے لئے الیکشن کمیشن کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جانا چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہا ہے۔ بینچ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں کورونا پروٹوکول کی شدید خلاف ورزی کی ہے اور کمیشن ان کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کمیشن کی وجہ سے صورتحال اس قدر نازک ہوگئی ہے اور وہ سیاسی جماعتوں کو روکنے میں ناکام ہوچکی ہے۔
چیف جسٹس سنجیب بینرجی اور جسٹس سینتھل کمار رام مورتی کے بنچ نے کہا ‘ایک ادارے کی حیثیت سے الیکشن کمیشن آج اس صورتحال کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔ آپ نے اپنے اختیار کا استعمال نہیں کیا۔ عدالت کے متعدد احکامات کے بعد بھی ، آپ کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ کووڈ پروٹوکول کو برقرار رکھنے کی تمام اپیلوں اور احکامات کو نظرانداز کیا گیا۔ نہ صرف یہ ؛ بلکہ عدالت نے کہا کہ اگر آپ کووڈ پروٹوکول کا کوئی بلیو پرنٹ تیار نہیں کرتے ہیں ، تو ہم 2 مئی کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی کو بھی روک سکتے ہیں۔ عدالت نے کہاہے کہ آپ کی حماقت کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں۔
عدالت نے کہا ہے "اب ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ اگر آپ نے کووڈ پروٹوکول کی پیروی کے لئے 2 مئی سے پہلے کوئی بلیو پرنٹ نہیں دیا ، تو ہم ووٹوں کی گنتی کو بھی روک سکتے ہیں۔” ہم نہیں چاہتے کہ آپ کی حماقت کی وجہ سے ریاست میں مزید اموات ہوں ۔ ‘ عدالت نے کہا کہ کسی بھی قیمت پر کورونا پروٹوکول کی خلاف ورزی کے باوجود ووٹوں کی گنتی جاری نہیں رہ سکتی۔ عدالت نے کہا ہے کہ صحت عامہ ہمارے لئے خاصی اہمیت رکھتی ہے اور اس سے کسی بھی طرح سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے کہا کہ آئینی اداروں کو ذمے داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔