مدراس ہائی کورٹ کاتبصرہ عدالتی حکم کاحصہ نہیں،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے خلاف ہائی کورٹ کے سخت تبصرے کوہٹانے سے انکارکیا

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز مدراس ہائی کورٹ کے ملک میں کوویڈ 19 معاملات میں اضافے کے لیے الیکشن کمیشن کوذمہ دار قرار دینے والے تبصروں کوہٹانے سے انکارکردیاہے۔ ساتھ ہی عدالتی کارروائی کے دوران میڈیاکی رپورٹنگ روکنے والی اپیل کومسترد کرنے سے انکارکردیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ ایک پیچھے ہٹنے والااقدام ہوگا۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے تاہم اعتراف کیاہے کہ ہائی کورٹ کے تبصرے سخت تھے لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے انہیں ہٹانے سے انکار کردیا ہے کہ وہ عدالتی حکم کا حصہ نہیں ہیں۔بنچ نے کہاہے کہ میڈیا کو عدالت کی کارروائی کی اطلاع دینے کا حق ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ غیر ارادی تبصرے کے غلط بیانیے کا خدشہ ہے۔عدالت عظمیٰ نے کوویڈ۔19 کے دوران کیے گئے قابل ستائش کاموں کے لیے اعلیٰ عدالتوں کی تعریف کی اور کہا کہ وہ وبائی انتظامیہ کی مؤثر نگرانی کر رہے ہیں۔بنچ نے کہاہے کہ میڈیا کو سماعت کے دوران دیئے گئے تبصرے کی رپورٹنگ سے نہیں روکا جاسکتا۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ہائی کورٹس کو تبصرے کرنے سے روکنا اور میڈیا کو تبصرے کی رپورٹنگ سے باز آنا رد عمل ہوگا۔بنچ نے کہاہے کہ عدالتوں کو میڈیا کی بدلتی ٹکنالوجی کے بارے میں چوکس رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہاہے کہ اسے عدالتی کارروائی کی اطلاع دینے سے روکنا اچھی بات نہیں ہے۔یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مدراس ہائیکورٹ کے تبصرے کے خلاف اپیل پر آیا ہے۔ہائی کورٹ نے 26 اپریل کو کوڈ 19 وبا کی دوسری لہر کے دوران انفیکشن کیسز کے پھیلاؤ پر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اسے بیماری کے پھیلاؤ کاذمے داربتایاتھا اور اسے سب سے زیادہ غیر ذمہ دارادارہ قرار دیا تھا اور یہاں تک کہاتھاکہ کیوں نہیں اس کے افسران کے خلاف قتل کے مقدمے چلائے جائیں۔الیکشن کمیشن پرملک بھرمیں غصہ ہے جس نے بنگال الیکشن آٹھ مرحلوں میں کرایااورانتخابی ریلیوں کوروکنے میں ناکام رہاہے۔