مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام افسانے پر یک روزہ سمینار کا انعقاد

بھوپال:(رضوان الدین فاروقی) مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بتاریخ 13 فروری 2021ء کو ناول اور افسانے پر مبنی ایک روزہ سیمینار بعنوان ”افسانے کا افسانہ” کا انعقاد ملا رموزی سنسکرتی بھون میں ہوا جو دو اجلاسوں پر مبنی تھا۔ اس پروگرام میں بطور مہمان خصوصی جناب ادِتی کمار ترپاٹھی موجود رہے۔ پہلے اجلاس میں چار افسانہ نگاروں نے اپنے افسانے پیش کیے۔ اس اجلاس کی صدارت ملک کی مشہور و معروف افسانہ نگار پدم شری مہرالنسا پرویز نے کی اور نظامت کے فرائض محمود ملک نے منفرد انداز میں بحسن و خوبی ادا کیے۔ پروگرام کی شروعات میں اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا۔
اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے اس سیمینار کی اہمیت اور غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مدھیہ پردیش سے نئی نسل کے افسانہ نگار ہمارے سامنے آئیں۔ ان سیمیناروں کے انعقاد کے ذریعے ہمارا مقصد ہے کہ نئی نسل فکشن نگاری کی طرف راغب ہو اور آنے والے وقت میں نئی نسل سے افسانہ نگار ہمارے سامنے آئیں۔ انھوں نے آگے بتاتے ہوئے کہا کہ ہم نے ابھی مدھیہ پریش میں ڈیویژن وائز کام کرنا شروع کیا ہے جس میں نئے لکھنے والے شعرا، ادبا اور فنکاروں کو جوڑا جائے گا جس کے ذریعے چھپا ہوا ٹیلینٹ جوہمارے صوبے میں موجود ہے اس تک ہماری رسائی ہوگی ۔ اس کے لیے ہم نے پورے مدھیہ پردیش میں دس ڈویژن بنائے ہیں اور ان میں کام کرنا شروع کردیا ہے اور اس کا عملی ثبوت آج استوتی اگروال کی صورت میں آپ کے سامنے ہے جو آج کے اس پروگرام میں افسانہ پیش کرنے والی سب سے کم عمر افسانہ نگار ہیں اور انہی سے ہم اس پروگرام کی ابتدا کررہے ہیں۔
ڈاکٹر نصرت مہدی کے خطاب کے بعد سرونج سے تشریف لائیں استوتی اگروال نے اپنا افسانہ بعنوان”تمہارے نام“پیش کیا۔ اس افسانے کے بعد بھوپال سے تعلق رکھنے والے بہترین افسانہ نگار شایان قریشی نے اپنا افسانہ بعنوان ”رضا مندی“ پیش کیا جس کو سبھی نے پسند کیا۔ شایان قریشی کے افسانے کے بعد لکھنؤ سے تشریف لائیں مشہورافسانہ نگار عشرت ناہید نے ایک بہت ہی عمدہ افسانہ بعنوان ”ذرا سا اعتبار پالے“ پیش کیا۔ جس میں معاشرے کی تلخ حقیقت اور ایک فرد کے احساس محرومی کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیاـ عشرت ناہید کا افسانہ پڑھنے کا اپنا منفرد اور مخصوص انداز ہے جس کو سامعین نے خوب سراہا۔ اس موقع پر عشرت ناہید کے افسانوی مجموعے ”منزل بے نشاں“ کی رسم اجرا بھی ہوئی۔ پہلے اجلاس کے آخر میں صدر جلسہ مہرالنسا پرویز نے اکادمی کے ان اقدامات کی تعریف کر خوشی کا اظہار کیا اور اپنا افسانہ پیش کیا جس کو سامعین نے داد و تحسین سے نوازا۔
اس کے بعد دوسرے اجلاس کا آغاز ہواجس میں تین افسانہ نگاروں نے افسانے پیش کیے۔ اس اجلاس کی صدارت ملک کے مشہور و معروف افسانہ نگار نعیم کوثر نے فرمائی اور نظامت کے فرائض عشرت ناہیدنے بحسن خوبی ادا کیے۔ اجلاس کی شروعات میں بھوپال کی شفالی پانڈے نے اپنے مختصر افسانچے پیش کیے جو عصری حسیت سے عبارت تھے۔ اس کے بعد علی گڑھ سے تشریف لائیں افسانہ نگار افشاں ملک نے اپنا افسانہ بعنوان ”محبت امر ہے“ پیش کیا جس کو سامعین نے کافی سراہا۔ افشاں ملک کے بعد بھوپال سے تعلق رکھنے والے سینیئر افسانہ نگار نثار راہی نے اپنا افسانہ بعنوان ”جانور اور انسان“پیش کیا۔ اس اجلاس کی صدارت فرمارہے معروف افسانہ نگار نعیم کوثر نے اپنے خطبے میں مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے ان اقدامات کی پذیرائی کرتے ہوئے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں مستقبل میں اسکول اور کالج کے طلبہ کو بھی اردو کی طرف لانا ہے۔ پروگرام کے آخر میں اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی اور ممتاز خان نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔