مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام "یاد بسمل” پروگرام کا انعقاد

بھوپال: مدھیہ پردیش اردو اکادمی محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت عظیم مجاہد آزادی رام پرساد بسمل کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے "یاد بسمل” پروگرام کا انعقاد 9 جولائی 2021 کو کیا گیاـ یہ پروگرام مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے فیسبک پیج اور یوٹیوب چینل پر نشر کیا گیاـ

یہ پروگرام تین حصوں پر پر مشتمل تھا. پہلے اجلاس میں رنگ بینڈ کے ساجد نے موسیقی کے ساتھ کلام بسمل پیش کیاـ دوسرا اجلاس رام پرساد بسمل کی حیات و شخصیت پر مبنی بین الاقوامی ویبینار پر مشتمل تھا جس میں مقررین رام پرساد بسمل کی زندگی اور جدو جہد آزادی کے حوالے سے گفتگو کی. اس اجلاس کی شروعات میں اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے کہا کہ اس وقت ملک آزادی کے پچھتر سال پورے ہونے پر آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہےـ تمام سرکاری اداروں میں یہ جشن جاری ہےـ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کا یہ پروگرام یاد بسمل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہےـ اس کے ذریعے ہمارا مقصد رام پرساد بسمل کو خراج عقیدت پیش کرنا اور نوجوان نسل کو ان کے کارناموں اور ان کی جدو جہد آزادی سے آشنا کرانا ہےـ اس اجلاس کی صدارت فرما رہے ڈاکٹر محمد نعمان خان نے کہا کہ” رام پرساد بسمل نے بے مقصد شاعری نہیں کی بلکہ خاص مقصد کے تحت شاعری کی. انھوں نے نوجوانوں میں وطن سے محبت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے اور انگریزوں کے خلاف انقلابی جوش پیدا کرنے کے لیے شاعری کو ہتھیار بنایاـ انھوں نے جو تخلیقات یادگار چھوڑی ہیں وہ ان کی وطن سے محبت اور انقلابی سوچ کی عکاس ہیں ـ ان کو پڑھ کر آج بھی ایک جوش و خروش پیدا ہوجاتا ہے.” دوہا، قطر سے شامل ہوئے مہمان مقرر سید شکیل احمد نے رام پرساد بسمل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ” رام پرساد بسمل کی شخصیت کے مختلف چہرے ہیں اور ہر چہرہ اپنی جگہ چاند سورج کی طرح چمک دمک رکھتا ہے. اصل میں رام پرساد بسمل کی ذات میں خود پورا ہندوستان سمویا ہوا تھاـ ان کے انگ انگ میں دیس کی مٹی کی تڑپ موجود تھی ـ وہ اپنی ذات میں ایک مکمل انجمن تھےـ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ ان کے ذکر کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے.” صبیحہ صدف نے کہا کہ” رام پرساد بسمل کی وطن عزیز کے لیے قربانی، ہم وطنوں کے دلوں میں حب الوطنی اور جاں نثاری کے عظیم جذبے کو ابھارتی اور فروغ دیتی ہےـ
پروگرام کا آخری حصہ رام پرساد بسمل کو منظوم خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے نوجوان نسل پر مشتمل طرحی مشاعرے کی صورت میں پیش کیا گیاـ
اس مشاعرے میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
جیوتی آزادی کھتری، فرحان منظر، نعمان غازی، انیس دموہی، مینک کرکرے قمر، ابھے شکلا اور راہل کمبھکار ـ
پروگرام کے آخر میں اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے تمام سامعین و ناظرین کا شکریہ ادا کیا. پروگرام کے پہلے اجلاس کی نظامت کے فرائض ممتاز خان نے جبکہ دوسرے اجلاس کی نظامت ڈاکٹر نصرت مہدی نے اور تیسرے اور آخری اجلاس کی نظامت کے فرائض رضوان الدین فاروقی نے بحسن خوبی انجام دیےـ