مدارس اسلامیہ شورائی نظام کو مستحکم بنائیں

دیوبند:(سمیر چودھری) جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے زیر اہتمام تحفظ مدارس کانفرنس کا انعقاد آج مدرسہ احیاء العلوم دبنی والا سہارنپو میں کیا گیا۔جس میںضلع سہارنپورواطراف کے مدارس کے منتظمین وذمہ داران نے شرکت کی۔اس موقع پر مولانا سید حبیب اللہ مدنی صدر جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور نے کہا کہ اس وقت ملک کی باگ ڈور ایسے افراد وعناصر کے ہاتھوں میں ہے جن کے اقوال وافعال سے اسلام اورمسلم دشمنی عیاں ہے جن کے اقتدار اعلیٰ میں اکثریت سے آجانے کی وجہ سے بظاہر ملک اور اس کے دستور کی سالمیت پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیںیہی وجہ ہے کہ آج مدارس اسلامیہ پر ہر چہار جانب سے حملے کیے جا رہے ہیں دینی مدارس سے مسلم قوم کو بیزار کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ مولانا مدنی نے جدید تعلیمی پالیسی کی قباحتیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ سرکار اس پالیسی کے ذریعہ مدارس اسلامیہ کے نصاب ونظام تعلیم میں غیر مثبت تبدیلی اور بے جاء مداخلت کرنے کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔مولانا نے مزید کہا کہ حکومت کے پیدا کردہ خطرات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ یہ مدارس اللہ کے دین کی نشرواشاعت کے لیے قائم کیے گئے ہیں اور اللہ تعالی خود اپنے دین کی حفاظت کرنے والے ہیں،مولانا نے مدارس کے ذمہ دار حضرات کو اس بات کی طرف خصوصی توجہ دینے کے لیے کہا کہ مدارس کو شورائی نظام کے تحت چلایا جائے اور متدین افراد کو شوری کا ممبر منتخب کریں نیز اپنے مدرسہ کا حساب وکتاب بالکل صاف شفاف رکھیں اسی کے ساتھ مولانا نے مزید کہا کہ ہمارے مدارس دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی تعلیم کا انتظام کریں ، دینی ماحول کے ساتھ کالج اور اسکولو ں کی شروعات کریں البتہ اہل مدارس کو حکومتی امداد سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے۔کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا نذر محمد صدر جمعیۃ علماء ضلع مظفر نگر نے ذمہ داران مدارس سے اپیل کی کہ مدارس میں عصری تعلیم کو لازمی بنایاجائے نیز علماء حضرات اپنی نگرانی میں قوم کے لیے اسکول و کالج کی سہولیات دستیاب کرانے کی ہر ممکن کوشش کریںتاکہ آنے والی نسل کے عقیدہ وایمان کی حفاظت کی جاسکے۔علاوہ ازیںجمعیۃ علماء اترپردیش کے سکریٹری مولانا ازہر مدنی ، دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مولانا محمد شریف خاں قاسمی ،معہد البنات الاسلامی مظفر نگر کے بانی مولانا اکرم ندوی اور دیگر حضرات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔قبل ازیں کانفرنس کا آغازقاری محمد صابرکی تلاوت سے ہوا ،صدارت مولانا محمد ہاشم مہتمم جامعہ کاشف العلوم چھٹمل پورنے کی جبکہ نظامت کے فرائض مفتی عطاء الرحمان جمیل نے انجام دیے۔ دوران پروگرام مدارس کو عصری علوم کی تعلیم سے جوڑنے اور اس تعلق سے اہل مدارس کا تعاون کرنے کے لیے جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کی جانب سے دو افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ۔کانفرنس کا اختتام جامعہ اشرف العلوم کے استاد حدیث مولانا سلمان کی دعاء پر ہوا۔اس موقع پرمولانا ساجد کاشفی، جامعہ مظاہر علوم کے نائب ناظم مفتی صالح، مولانا محمد عامر مظاہری مہتمم مدرسہ کنز العلوم ٹڈولی ، مفتی نفیس رائےپور،حاجی شاہد زبیری ،مولانا اسعد حقانی، ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی ،مولانا انعام اللہ قاسمی مانک مئو،قاری زبیر کریمی ،مولانا احسان تحسین قاسمی ،مولانا فتح محمد ندوی ،مفتی صادق مظاہری وغیرہ بطور خاص موجود رہے۔