مدارس کونشانہ بنانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونےدی جائے گی :مولانا احمدولی فیصل رحمانی

مونگیر:مدارس اسلامیہ، مساجداورشعائراسلامی کے خلاف کسی بھی طرح کی زہرافشانی ہرگزبرداشت نہیں کی جائے گی۔مذہبی اشتعال انگیزی کی کوشش کی جارہی ہے،تاکہ اہم مسائل سے رخ موڑاجاسکے ۔مدارس اسلامیہ اوروہاں کے جیالوں کے تذکرہ کے بغیرآزادی وطن کاتصورنہیں کیاجاسکتا۔ملک کی تعمیرمیں مدارس وعلماءکاجوکرداررہاہے،فرقہ پرست عناصرچاہ کربھی انکارنہیں کرسکتے۔آج تک ایسے ثبوت نہیں مل سکے جس کاالزام لگایاجاتارہاہے،مدارس اسلامیہ نے تعلیمی گراف کوبڑھانے میں ملک کی مددکی ہے،شخصیت کی تعمیرکی ہے اورملک کی حفاظت میں اہم کرداراداکیاہے۔بہارحکومت کوچاہیے کہ ایسے عناصرپرلگام کسے جومدارس ومساجدپراپنی فرقہ وارنہ سیاست کی روٹی سینکناچاہتے ہیں۔خانقاہ رحمانی نے ماضی میں بھی مدارس کے تحفظ کابیڑہ اٹھایاتھا،وہ آج بھی عوام الناس کے تعاون سے ان کوششوں سے نمٹناجانتی ہے۔بانکامیں مدرسہ کے پاس مبینہ دھماکے کی خبرآنے کے بعدفرقہ پرست عناصرکی مدارس اورمساجدکے خلاف ہنگامہ آرائی اورمتنازعہ بیانات کے تناظرمیں مولانااحمدولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیرنے سخت ناراضگی کااظہارمذکورہ بالاالفاظ میں کیا۔

خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں نے ماضی کی کوششوں کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ماضی میں بھی مدارس اسلامیہ کوٹارگیٹ کرنے کی کوشش کی گئی،وزارتی گروپ کی رپورٹ کے ذریعہ مدارس کونشانہ بنانے کی تیاری تھی،لیکن ان کوششوں کے خلاف خانقاہ رحمانی سے مضبوط آوازاٹھی،سابق سجادہ نشیں امیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی علیہ الرحمہ نے 2فروری 2002کوناموس مدارس اسلامیہ کنونشن کاانعقادکیاجس سے پورے ملک کے علماءودانشوران نے کھل کرپیغام دیاکہ مدارس پرہاتھ اٹھانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی،اس کے بعدیہ سلسلہ رک گیااورحکومتی ذمے داروں کوکہناپڑاکہ مدارس کادہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سابق صدرجمہوریہ اے پی جے عبدالکلام نے31مئی ،2003کوخانقاہ رحمانی کے دورے کے دوران کتب خانہ میں بیان دیاکہ انھوں نے بھی مدرسہ میں تعلیم حاصل کی ہے،اس بیان نے ان عناصرکی زبردست حوصلہ شکنی کی۔مولانااحمدولی فیصل رحمانی نے کہاکہ خانقاہ رحمانی اپنے بزرگوں کی جرات وعزیمت کی اسی تاریخ کودہراتی رہے گی اورعوام وخواص کی مددسے ایسی کسی بھی کوشش کوکامیاب نہیں ہونے دے گی۔انھوں نے اپنے بیان میں کہاکہ حکومت بہارسے ہم امیدکرتے ہیں کہ وہ آزادانہ اورمنصفانہ جانچ کرے گی،ریاست کے باہمی اتحادوہم آہنگی کی فضابرقرارکھے گی اورایسے عناصرکی حوصلہ شکنی کرے گی جوفرقہ وارانہ ماحول کوبگاڑنے کی کوشش کرناچاہتے ہیں۔ملک وریاست کی ترقی امن وانصاف پرمبنی ہے۔